اُردو ادببچوں کا ادب

چراغ نصیحت / صادق انور، لکھنؤ یونیورسٹی

صبح کے وقت اچانک امی کی آواز گونجی:
"عمر! عمر! کب تک سوتے رہو گے؟”
میں نیند سے ہڑبڑا کر اٹھا، آنکھیں ملیں اور یاد آیا…
اوہ! آج پھر فجر کی نماز چھوٹ گئی!

امی ناراض تھیں، اور ٹھیک بھی تھیں۔ میں جلدی سے بستر سمیٹا، کمرہ صاف کیا، اور باتھ روم جا کر تیار ہو کر ناشتے کی میز پر جا بیٹھا۔

امی اب بھی غصے میں بڑبڑا رہی تھیں:
"یہ لاڈ صاحب اب اٹھے ہیں، رات بھر فون چلاتے رہتے ہیں!”

مگر جیسے ہی ابو اور بہن بھائی ناشتہ کے لیے آ گئے، امی کا غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا، کیونکہ ابو کا اصول تھا:
"کھانے کے وقت صرف اللہ کا ذکر، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔”

یہی اصول ہمیشہ مجھے امی کی ڈانٹ سے بچا لیتا تھا، مگر آج دل ہی دل میں ڈر رہا تھا کہ ابو کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے۔

ناشتہ آدھا ہو چکا تھا کہ ابو نے خالد بھائی کی طرف دیکھا اور بولے:
"خالد، بیٹا، آج کل فجر میں اٹھنے کا کیا معمول ہے؟”

خالد نے تھوڑا سا منہ بنایا اور بولا:
"ابو، فجر کی اذان سن کر تو اکثر جاگ جاتا ہوں… لیکن پچھلے دو دن سے… بس ذرا طبیعت ڈھیلی ہے۔”

ابو نے ہلکا سا تبسم کیا:
"اوہ، طبیعت ڈھیلی؟ کیسے بھئی؟”

خالد نے جلدی سے شکایتی انداز میں کہا:
"ابو، یہ نومبر کی ہوا میرے ساتھ بالکل دوستی نہیں کرتی۔
جیسے ہی سردی آتی ہے، ناک بہنا شروع، گلا خراب، اور کمبل میرا سب سے اچھا دوست بن جاتا ہے!”

عافیہ ہنس پڑی، امی نے بھی ہنستے ہوئے سر ہلایا۔

خالد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا:
"ابو، مجھے تو لگتا ہے موسمِ سرما میرے لیے خاص کوئی سزا لے کر آتا ہے، جیسے آسمان سے ناک بہنے کی مشینیں برستی ہوں!”

سب مسکرا دیے۔

ابو نے نرمی سے مگر سنجیدگی کے ساتھ کہا:
"بیٹا، موسم تو اللہ کی نعمت ہے۔ کبھی سردی، کبھی گرمی — سب میں کچھ نہ کچھ فائدہ ہے۔
کبھی موسم ہمیں آرام دیتا ہے، کبھی آزمانے آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اپنا فرض نہ بھولے۔
نماز، نرمی، اور شکر گزاری — یہی تو اصل باتیں ہیں!”

خالد نے شرمندہ ہو کر کہا:
"جی ابو، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اگلی بار سردی کو بہانہ نہیں بناؤں گا، ان شاء اللہ!”

ابو نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا:
"شاباش میرے بچے! یہی تو میرے دل کو ٹھنڈک دیتا ہے!”

میں چپ چاپ بیٹھا تھا، شرمندہ اور خوفزدہ بھی۔

تب ابو نے میری طرف رخ کیا:

"اور عمر، تم آج کل امی کو کیوں تنگ کر رہے ہو؟”
میں گھبرا گیا:
"وہ ابو… رات کو فون چلاتے ہوئے دیر ہو گئی تھی، اس لیے فجر میں آنکھ نہیں کھلی…”

ابو نے تھوڑا سنجیدہ ہو کر پوچھا:
"صرف فون چلایا تھا یا دوستوں کے ساتھ دیر تک باہر بھی تھے؟”

میں نے نظریں جھکا لیں:
"جی ابو… کل عاطف اور ہاشم کے ساتھ تھوڑی دیر باہر بھی گیا تھا۔ بس چائے پی اور گپ شپ کی، لیکن وقت کا دھیان نہیں رہا…”

ابو نے نرم لہجے میں مگر گہری بات کی:
"بیٹا، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا برا نہیں، مگر رات کا وقت گھومنے کا نہیں ہوتا۔
رات کو دیر تک جاگنا، فون پر لگے رہنا، اور بے مقصد گپ شپ — یہ سب نہ تمہاری صحت کے لیے اچھا ہے، نہ دل کے سکون کے لیے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمہاری نماز کا نقصان ہوتا ہے۔”

امی نے بھی کہا:
"اور جب تم دیر سے آتے ہو تو مجھے نیند نہیں آتی۔ ماں ہونے کے ناطے فکر ہوتی ہے، بیٹا۔”

میں نے شرمندگی سے کہا:
"جی ابو، جی امی… اب سے رات کو جلدی سونے کی کوشش کروں گا۔ اور فون بھی سونے سے پہلے بند کر دوں گا۔”

ابو نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھا:
"بس بیٹا، یہی نیت اگر سچی ہو، تو تم کامیاب رہو گے — دنیا میں بھی، دین میں بھی۔”

عافیہ بہن نے بھی دسترخوان سمیٹتے ہوے کہا:

"ہم سب رات کو جلدی سوتے ہیں،
اسی لیے فجر میں اٹھ پاتے ہیں۔”

یہ کہتے ہوے وہ کچن میں چلی گییں اور امی کے کام میں مدد کرنے لگیں ۔

مجھے اپنی غلطی پر واقعی افسوس ہونے لگا۔ ابو اپنے کمرے میں چلے گیے اور امی تو پہلے ہی کچن میں جا چکی تھیں اور میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا پھر میں نے دل ہی دل میں ابو کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھنے کا عہد کیا۔
اُسی دن شام کو جب عاطف اور ہاشم کا فون آیا کہ "چلو، آج بھی چائے کے لیے باہر چلتے ہیں” تو میں نے صاف منع کر دیا:

"نہیں دوستو، آج سے میری راتیں صرف آرام کے لیے ہیں۔ ابو نے بہت پیاری بات کہی ہے — اللہ کی ناراضی سب سے بڑا نقصان ہے۔”

پھر میں نے اپنا فون سائیڈ پر رکھ دیا، الارم لگایا، اور امی سے کہا: "امی، آج میں جلدی سونا چاہتا ہوں تاکہ فجر میں اٹھ سکوں۔ آپ مجھے اگر نہ اٹھائیں تو بھی میں خود اُٹھ جاؤں گا، ان شاء اللہ!”

امی مسکرائیں، ابو نے خوشی سے دیکھا، اور میری پیشانی چوم کر کہا:

"میرے بچے، تم نے سچ میں میری نصیحت کو دل سے لگا لیا — یہی میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔”

اُس رات میں جلدی سو گیا، اور صبح اذان سے پہلے آنکھ خودبخود کھل گئی۔ وضو کیا، اور مسجد کی طرف روانہ ہوتے ہوئے دل میں صرف ایک خیال تھا:

"ابو کی نصیحت میرے لیے روشنی کا چراغ بن گئی ہے!”
اور ایسا کیوں نہ ہو:
جب دل میں نصیحت کا چراغ جلتا ہے تو زندگی کی راہیں خود روشن ہو جاتی ہیں ۔۔۔

Author

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x