نظم
ماورائے خیر و شر / اعجازالحق

ماورائے خیر و شر
یہ خیر و شر کے زنگ آلود سکے
یہ صدیوں پرانے خداؤں کے وعدے
یہ تقدیس کے ٹوٹتے زاویے
یہ اوہام میں لپٹے ماضی کے رشتے
سبھی کچھ بکھرتا سمٹتا رہا ہے
کہیں روشنی ہے کہیں دھند چھائی
یہ دنیا یہ خوابوں کے بوسیدہ ملبوس میں قید دنیا
یہ تکرار میں گم صداؤں کی دنیا
یہ خیر و شر کے کٹہرے میں بیٹھی
زمانے کی نادان و بے بس خدائی
مگر میں اس پار دیکھوں تو اک موج اٹھتی
کوئی زندگی کی نئی رُت بلاتی
کوئی دستکیں دے رہا ہے خلا میں
کوئی چاہتا ہے کہ زنجیر ٹوٹے
یہی لمحۂ جستجو ہے
یہی وقت کی سرخ آنکھوں میں جلتی
وہ اک بےخدائی کی انگڑائی شاید
یہی وہ حقیقت وہ بے نام لمحہ
جہاں آدمی اپنی عظمت میں تنہا
خود اپنی جبینِ ازل کا خدا ہے




