اُردو ادبافسانہ

نزع / عینی عرفان

دس سال بعد سجاد کا لوٹ آنا دو خاندانوں میں ہلچل مچا رہا تھا مگر یہ واپسی جس کی ساکت جھیل جیسی زندگی میں کنکر بن کر گری تھی وہ بے حسی کا لبادہ اوڑھے بالکل خاموش تھی۔ ماضی کی بے ہنگم دستک اعصاب پر کوڑے برسارہی تھی لیکن آسیہ کا سپاٹ چہر ہ اس کی اذیت کا غماز نہ تھا۔ وجود تھکن سے نڈھال تھا مگر نہ آنکھ میں چبھن تھی نہ ماتھے پر شکن۔
"آسیہ ندیم بنت محمد ندیم آپ کو بختاور حسین ولد صداقت حسین کے نکاح میں بہ عوض شرعئی حق مہر بتیس روپے چھ آنے دیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔”
یہ اندرونِ سندھ کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں پندرہ سالہ آسیہ نہایت معمولی جوڑے میں دلہن بنی ان چار مردوں کے سامنے بیٹھی تھی جنھوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے اس کی ذات کو بے حس،بےجان گڑیا سمجھ لیا تھا۔ لمبا عبایا اور سر پر عمامہ پہنے مولوی صاحب اس نکاح کی حقیقت اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک پینتیس سال کے جواری قاتل کے ساتھ اس معمولی رقم کی عوض جو شرع سے ثابت بھی نہ تھی زبردستی کسی کا نکاح کروانا ناحق تھا۔ ولی کے طور پر اس کے دائیں طرف بیٹھے ماموں احتشام چیخ چیخ کر انکار کرتی اس کی حالت سے بخوبی واقف تھے۔ ان کا آسیہ کے سر پر رکھا ہاتھ تنبیہہ تھا کہ انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ بائیں طرف کھڑے اس کے ہونے والے سسر جن کا دل بہت ہی بڑا تھا۔ وہ ایک یتیم یسیر بچی کو بغیر جہیز کے بیاہ کر لے جا رہے تھے۔ اپنی اس بگڑی اولاد کے لئے جس کو سدھارنے کا کوئی حربہ کارگر نہ رہا تو آخری راستہ یہی تھا کہ اپنی تربیت کا قصور کسی لڑکی کے ناتواں کاندھوں پر لاد دیا جائے۔ چوتھا شخص جسے بطور گواہ زبردستی سامنے کھڑا کردیا گیا تھا۔ اس کے ماموں کی اکلوتی اولادِ نرینہ سجاد جس کی سوجی ہوئی آنکھیں لرزتے ہونٹ اور سانسوں کا اضطراب کسی سے پنہا نہیں تھا۔ ماموں احتشام نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہ کئے تھے کہ آسیہ کی جھکتی پلکوں اور سجاد کی بولتی نگاہوں کا راز کبھی معلوم ہی نہ کرپاتے۔ اس کے باوجود بھاری ہاتھ کے دباؤ سے آسیہ کا سر اثبات میں ہلادیا گیا تھا۔ دل انکار پر بضد تھا مگر نکاح نامے پر انگوٹھا لگوالیا گیا۔ یہ نکاح جائز تھا یا ناجائز اس بات کی کسی کو فکر نہ تھی۔ مولوی صاحب کے منہ سے مبارکباد سن کر سب سے زیادہ سکون کا سانس ماموں احتشام نے لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ اولاد بغاوت کا حوصلہ کرتی سینے پر دھرے یتیم بھانجی کے بوجھ کو سرکا دینا ہی بہتر تھا ۔ اکلوتا بیٹا شہر میں وکالت پڑھ رہا تھا۔ اس کا مستقبل روشن تھا۔ وہ اسے ان پڑھ یتیم لڑکی کے چکر میں نہیں الجھا سکتے تھے۔ بعد نمازِ عصر بختاور نے مسجد میں مولوی صاحب کے سامنےایجاب و قبول کرنا تھا۔ مغرب ہوچکی تھی بختاور کی دور دور تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ صداقت کے بھیجے ہوئے آدمی گاؤں کے چپے چپے میں اس کو ڈھونڈ رہے تھے پر وہ کہیں نہیں تھا۔ صبح فجر کے وقت دوستوں کے ساتھ نکلا تھا اور اب تک نہ لوٹا تھا۔ اس کے مخصوص اڈے کو بھی چھان لیا گیا۔ وہاں اس کے بدقماش دوست تو موجود تھے پر بختاور نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بختاور کی شادی تھی اس لئے وہ دوپہر کو ہی چلا گیا تھا۔ صداقت کو بختاور کی گمشدگی سے زیادہ پڑوس گاؤں کے چوہدری شفقت کی مسجد میں موجودگی پریشان کر رہی تھی۔ وہ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے ان کے بیٹے کے نکاح میں شرکت کرنے آئے تھے اور سلامی میں پچاس لاکھ روپے بھی لائے تھے۔ یہ دیکھ کے صداقت حسین کا دل ہول گیا۔ کسی انہونی کا خیال ان کے دل کو پریشان کر رہا تھا۔ پچھلےسال چوہدری شفقت کے بیٹے اور بختاور کی جوا کھیلنے کے دوران بحث ہو گئی تھی۔تلخی بڑھی تو نوبت ہاتھا پائی، لکڑیوں، ڈنڈوں تک پہنچ گئی۔ شفقت کے بیٹے کے سر پہ بختاور کے وار کی ایسی ضرب پڑی کہ وہ وہیں دم توڑ گیا۔ دونوں گاؤں کے معتبر اشخاص کو بلا کر جرگہ بھٹایا گیا۔ شفقت کا مطالبہ خون کے بدلے خون تھا۔ وہ خون بہا لینے پہ ہرگز راضی نہ تھا مگر متعدد گواہان موجود تھے جن کے مطابق لڑائی فریقین کے درمیان ہورہی تھی اور دونوں ہی ایک دوسرے پر پہ در پہ وار کر رہے تھے۔ یہ قتل غیر ارادی تھا جسے حادثہ مانا گیا ۔ جرگے نے پچاس لاکھ خون بہا کے عوض بختاور کی جان بخشی کردی۔ چوہدری ہونے کے باوجود اس پہ ایک کمی کمین کو فوقیت دی گئی۔ چوہدری شفقت کےسینے پہ سانپ لوٹ گئے۔مقررہ دن پورے جرگے کے سامنے صداقت نے ایک بوسیدہ رومال میں پچاس لاکھ نقد چوہدری شفقت کو پیش کئے۔اس نے بیٹے کے خاطر اپنی چھوٹی سی آبائی زمین بیچ دی تھی۔ چوہدری شفقت نے ضبطِ غم سے سرخ ہوتی آنکھیں صداقت کے چہرے پر جمائیں اور کڑکڑاتے نوٹوں کی چھوٹی سی ڈھیری پر تھوک کر پلٹ گیا۔ صداقت کے دل کو اسی دن سے دھڑکا لگا ہوا تھا کہ چوہدری کوئی انتقامی کارروائی نہ کر دے۔ چھ ماہ عافیت سے گزرنے پہ وہ کسی حد تک مطمئن ہوگیا تھاکہ آج اچانک اپنے نکاح والے دن اس کا بیٹا غائب ہوگیا تھا۔ اور چوہدری کی پچاس لاکھ سلامی کے ساتھ موجودگی چیخ چیخ کے پوری داستان بیان کررہی تھی ۔ عشاء تک سب مہمانوں نے دولہا کا انتظار کیا پھر ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے۔ صداقت اور اس کی بیوی غم سے نڈھال تھے۔ موجودہ صورتحال جو حقیقت بیان کررہی تھی ان کا دل وہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ رات گئے اپنے اکلوتے بیٹے کے انتظار میں مغموم بیٹھے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک نے نئی روح پھونک دی۔ صداقت نے لپک کر دروازہ کھولا مگر وہاں ان کے بیٹے کے بجائے احتشام اپنی بھانجی کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔
” دیکھو صداقت میری بھانجی کی طرف سے ایجاب وقبول ہوگیا تھا اب یہ تمہاری بہو ہے تم اسے بختاور کی بیوی سمجھو یا بیوہ۔ تمہاری مرضی۔اب یہ تمہاری زمہ داری ہے۔”
احتشام بنا کوئی دوسری بات کہے پلٹ گیا اور صداقت منہ کھولے سامنے کھڑی لال گھٹڑی نما لڑکی کو تکتا رہ گیا۔ آسیہ کانپتے دل کے ساتھ اپنے گوشت پوست کا انسان ہونے پر ہی مشکوک ہوچکی تھی۔ کسی پالتو جانور کو بھی کوئی ایسے کہیں چھوڑ کر نہیں جاتا جیسے اس کا سگا ماموں کسی غیر کی دہلیز پر چھوڑ گیا تھا اور اگلا تذبذب کا شکار تھا کہ راستہ دے یا اس کے منہ پر دروازہ پٹخ دے۔ یہ گومگو کیفیت لمحہ بھر کی تھی کہ صداقت کی بیوی نے چیل کی طرح جھپٹ کر اس کی چوٹی پکڑی اور اندر گھسیٹ لیا۔ بیٹے کی گمشدگی کا سارا بار اس پندرہ سال کی بچی کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ کمر پر پڑنے والی جوتی اور منحوس کے لقب نے بیوی یا بیوہ کا رتبہ تو واضح نہ کیا مگر اس گھر میں اس کی اوقات سمجھادی تھی۔ بختاور کے والدین کا انتظار ہمیشہ اس لڑکی تک آتے آتے بیگار بن جاتا تھا۔ اگلے آنے والے دس سال آسیہ کے لئے اتنے طویل ہوگئے گویا انہیں دس صدیوں نے ڈھانپ رکھا ہو۔ زندگی ایسے ہی اس کو رگیدتے ہوئےآہستہ آہستہ سرک رہی تھی کہ سجاد شہر سے اس کی آزادی کا پروانہ لئے لوٹ آیا۔ وہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک کامیاب وکیل بن چکا تھا۔ ماں باپ نے اس کی محبت چھینی تھی تو اس نے ان کی آرزوئیں اور تمنائیں خاک میں ملادیں۔ دس سال تک پلٹ کر کسی کی خبر نہ لی۔ اس نے شہر میں اپنی کولیگ سے شادی کرلی تھی۔ وہ ایک ہموار زندگی گزار رہا تھا کہ بیوی کی اچانک موت نے سارا نظام درہم برہم کردیا۔ بالترتیب چار اور پانچ سال کی دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ شہر میں اکیلے رہنا دشوار ہوگیا تو والدین کی قدر اور بچپن کی محبت دونوں دل میں بیدار ہوگئیں۔ قانون کی شقیں تو اسے ویسے ہی ازبر تھیں ساتھ وہ شہر کے بڑے مولوی صاحب کا فتویٰ بھی لے ایا۔
"لڑکے کے ایجاب و قبول کے بنا نکاح نہیں ہوتا۔” بختاور کے والدین اتنی سیدھی سی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔ وہ آسیہ کو اپنی بہو مانتے تھے۔یہ خناس ان کے ذہن میں بھرنے والا احتشام تھا اب وہ ہی بیٹے کی پشت پناہی کرنے کے لئے میدان میں اتر آیا کیونکہ وہ دوسری بار اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی دو چھوٹی پوتیوں کی پرورش کرنے کے لئے آسیہ جیسی سیدھی سادھی لڑکی سے بہتر اور کون ہوسکتا تھا۔ آسیہ ان کے پاس رہ کر بچیوں کو بھی سنبھالتی اور ان کی اس بڑھاپے میں خدمت بھی کرتی۔ سجاد آرام سے واپس شہر جا کر اپنی نوکری کرسکتا تھا۔ بیٹے کے ساتھ سارے معاملات طے کرنے کے بعد ہی وہ خاندان کے چند اثر و رسوخ والے افراد کو لے کر بختاور کے گھر پہنچ گیا تھا۔ سجاد کا عہدہ اور مولوی صاحب کا فتویٰ زیادہ دیر صداقت کو اپنی ہٹ دھرمی پر قائم نہ رکھ سکے۔ ان ہی لوگوں کی موجودگی میں آسیہ کا دوسرا نکاح سجاد کے ساتھ پڑھایا گیا۔ اس سے پوچھنے کی زحمت نہ کسی نے پہلی بار کی تھی اور نہ ہی دوسری دفعہ کسی کو ضرورت محسوس ہوئی۔ آج بھی اس کے سر پر ماموں احتشام کا تنبیہہ بھرا ہاتھ موجود تھا۔ مبارکباد کے شور نے آسیہ کو اپنے دوسرے نکاح کی خبر دی۔ اس کے وجودکے سناٹے میں ایک سوال گونجنے لگا۔”جانے اس بار فتویٰ کتنی صعوبتیں جھیلنے کے بعد لیا جائے گا۔”
سجاد اپنی دونوں بیٹیوں کو اپنی ماں کے کمرے میں سلا کر رات گئے حجلہ عروسی میں داخل ہوا تو گلابی گوٹے بھرا دوپٹہ مسہری پر پڑا تھا اورخالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا۔ اتنی رات کو آسیہ کہاں جاسکتی ہے وہ پریشانی میں باہر نکلا تو پچھلے صحن میں گونجتی آواز نے اس کے قدم اپنی طرف موڑ لئے۔
” ایک اعلان سماعت فرمائیے۔
آسیہ ندیم بنت محمد ندیم
زوجہ سجاد احتشام
قضائے الٰہی سے وفات پا چکی ہیں
جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔”
جتنی اذیت اس اعلان میں تھی اس سے کہیں زیادہ ہیبت سنسان صحن میں گونجتی آسیہ کی لرزتی آواز میں تھی جس نے سجاد کو سن کردیا تھا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x