دین و دنیا / اسماء نعمان

چند دن پہلے میں نے انسٹاگرام پرایک ریِل دیکھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اُس ریِل میں "دین اور دنیا دونوں ساتھ لے کر چلنے” والے جملے نے نظریہ ہی بدل دیا اور ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ "آخر کیسے؟”
اُس ریِل میں لڑکے نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں دین اور دنیا دونوں ساتھ لے کر چلنا ہے، جمعہ جمعہ نماز پڑھو، عید پر گوشت سائیڈ پر کر کے ہڈیاں اور چربی رشتہ داروں اور غریبوں میں بانٹ دو اور بس ہو گئی دین اور دنیا ساتھ ساتھ۔
جبکہ "دین ہی دنیا ہے”۔
اور جب اُس نے کہا کہ "دین ہی دنیا ہے” تو اس بات پر میں نے بہت غور کیا کہ آخر کیسے دین ہی دنیا ہے؟
میں اس جملے کو گہرائی سے سوچنے لگی۔ آخر کون سی چیز ہے جو ہمیں دین سے سب سے زیادہ دور کر رہی ہے؟
اور جواب "موبائل” آیا۔
ہاں، موبائل نے ہی تو ہم لوگوں کو سست اور کام چور بنا دیا ہے۔ یہی تو سب سے بڑا "فتنہ” ہے۔
لیکن، کیا واقعی موبائل ہی سب سے بڑا فتنہ ہے؟
نہیں!
موبائل یا اُس کے اندر موجود گندا مواد فتنہ نہیں ہے۔
اصل میں ہمارے دماغ میں فتنہ ہے۔
اگر ہم اتنے ہی اچھے مسلمان ہوتے تو کیوں اُس میں موجود واہیات دیکھتے؟
کیوں ان سیلیبریٹیز کو فالو کرتے ہیں؟
کیوں اُن سے اتنا متاثر ہو کر گمراہ ہوتے ہیں؟
یہ تو ہمارے اختیار میں ہے نا۔
اگر ہم چاہیں تو ہم تو اُن اچھے کانٹینٹ کریئیٹرز کو بھی فالو کر سکتے ہیں جو اچھی بات بتاتے ہیں۔
پر کیوں نہیں؟
ہمارا ضمیر ہمیں اجازت دے رہا کہ ہم اچھی بات سنیں؟
مسئلہ تو ہمارے دماغ کا ہے۔
موبائل تو ایک بے جان سی چیز ہے۔
جس میں جو بھر رہے ہیں، وہی ہمیں وہی دکھا رہا ہے۔
ہم انسان ہی تو ہیں جو اُس میں فضولیات بھر رہے ہیں۔
ہم کیوں ایسی چیزوں کو لائک کر رہے ہیں؟
کیوں اس فتنہ کو فروغ دے رہے ہیں؟
ہم چاہیں تو ہم اپنے اسکرین ٹائم کو بھی عبادت میں بدل سکتے ہیں۔
سننے میں کافی عجیب ہے نا؟
لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔
اگر ہم اچھے لوگوں کو فالو کرنا شروع کر دیں تو ہمارے سامنے اسکرول کرنے پر آنے والی واہیات ویڈیوز کی بجائے دینی ویڈیوز آنے لگیں گی۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ صرف موبائل لمبے لمبے اسکالرز کے لیکچر سننے کے لیے ہی استعمال کریں۔
گھر میں موجود خواتین نئی نئی ڈشز بنا کر ٹرائی کرنا چاہتی ہیں اور اُس کی ریسیپی موبائل سے دیکھتی ہیں
تو اُس ریسیپی کی ویڈیو کے پیچھے چلنے والے گھٹیا گانے کو اگر میوٹ کر دیں
تو یہ عمل بھی اُن کے لیے نیکی بن سکتا ہے۔
تو اس موبائل کو فتنہ کہنا بند کریں۔
اگر ہم اس ڈیوائس کو اچھے کام کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں
تو یہ موبائل، جسے ہم فتنہ کہتے ہیں، ہمارے لیے رحمت بن سکتا ہے۔
ہمارا اُٹھنا بیٹھنا ہمارے لیے روزِ آخر فائدہ بن سکتا ہے۔
بس یہ کہ ہمیں اُٹھنے بیٹھنے کی صلاحیت پر شکر ادا کرنا ہے
اور اُٹھتے بیٹھتے اللہ کا نام لینا ہے۔
اور ایسے ہی ہمارے لیے ہمارا دین ہی دنیا بن جاتا ہے۔




