اُردو ادباُردو شاعرینظم
مٹی سے جڑے غم / عبدالرحمان واصف

مٹی سے جڑے غم
کس کو معلوم ہے
کتنے چہروں کے رنگ آتشیں تھے مگر سانولے ہو گئے !
کتنے ہریال تھے، راکھ بنتے گئے، ملگجے ہوگئے !
کس کو معلوم ہے
کتنے نوحے شکستہ لبوں پر ٹپکنے سے پہلے ہی پھونکے گئے
کتنی ماؤں کے چاند اک اذیت کی بھٹی میں جھونکے گئے
کس کو معلوم ہے
کتنے کھیتوں کی فصلوں کے خوشوں کو دیمک کا نم لگ گیا
مسکراتی ہوئی کتنی کلیوں کو مٹنے کا غم لگ گیا
کس کو معلوم ہے
کتنی معصوم آنکھوں کے سپنوں میں وحشت اتاری گئی
کتنے دانش بھرے خواب تھے جن کی مہکار ماری گئی
یہ گلی میں ہری جھنڈیاں لے کے پھرتے ہوئے
گاڑیوں پر پھریرے سجائے ہوئے
پیار کی لو میں بھیگے ہوئے، خوشبوؤں میں نہائے ہوئے
جانتے ہی نہیں
آج کے رنگ و آہنگ کی اوٹ میں کتنے غم دفن ہیں!
اس کھنکتی ہنسی کے پس پردہ کیا کیا الم دفن ہیں !




