اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / کس نے سوچا تھا محبت آخری ہو جائیں گے! / لاریؔن جعفری

غزل

 

کس نے سوچا تھا محبت آخری ہو جائیں گے!

آپ آئیں گے، ہماری زندگی ہو جائیں گے

 

کیا ہمارا یہ تعلق اس قدر کمزور ہے؟

ہم بچھڑ جائیں گے تو کیا اجنبی ہو جائیں گے؟

 

آپ سے ملنے سے پہلے کب ہمیں معلوم تھا

سرسری سے کچھ تعلق دائمی ہو جائیں گے

 

آسماں نے اوڑھ لی ہے اس کی آنکھوں کی رمق

دیکھنا! اب سارے بادل سرمئی ہو جائیں گے

 

مل گئے ہیں آپ تو وجہِ سکوت اچھا لگا

سوچا یہ تھا عالمِ آوارگی ہو جائیں گے

 

آپ بھی ہیں، میں بھی ہوں، تنہائی بھی، وحشت بھی ہے

آج ہم اک دوسرے کی شاعری ہو جائیں گے

 

تھی خبر لاریؔن میں ان کا سکوں ہوجاؤں گی

کیا خبر تھی وہ مگر میری خوشی ہو جائیں گے!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button