نظم : تخمینہ سازی / شاعر : گُل جہان
تخمینہ سازی
جسم سارے کا سارا کھلا تھان ہے
اس پہ بھیدوں بھری
اک اکیلی گرہ ناف کی۔۔۔۔۔!!
اس پہیلی کو سلجھانے والے بہت کم ہی پیدا ہوئے
لوگ رستے میں تجسیم پاتی
ہوس میں پھسلتے ہوئے
جنس کی حیرتوں سے پرے
گہری کھائی میں گر جاتے ہیں
ان پہ رنگِ ہوس کی جھلک
چند لمحوں کو کُھلتی ہے
جلنے سے پہلے ہی بجھتی ہے
اور حیرتی ،
ہونقوں کی طرح اپنے منہ کھول کر
ذات کی سمت جانے کے تخمینے کی سوچ میں
آپ گھل جاتے ہیں
میں نے دانستہ اب کے پتنگ
اپنی نظموں کے کاغذ ملا کر بنائی
اڑائی ، کٹائی
پتنگ اپنی لہریں ہوا سے اٹھاتی
ادھر کو چلی۔۔۔
جہاں میری نظموں کے جانے پہ پابندی عائد ہے
نوکری کرتے چودہ برس پھونک ڈالے
گھڑی نے کبھی مجھ کو روکا نہیں،
میں بچوں کے ہمراہ پکنک پہ ناران کی سمت نکلا
تو رستے میں کیا دیکھتا ہوں
بدن پہ مری تازہ نظموں کے ٹیٹو چھپائے
پتنگ ایک جھاڑی کے ذرخیز نیفے میں اٹکی ہوئی
میرے بچوں کے ہونٹوں پہ جھوٹی ہنسی لکھ رہی ہے
تخمینے اکثر
غلط ناپ ، ملبوس ہوتے ہیں
عیبوں کے جاسوس ہوتے ہیں




