سلام

سلام /محرم بیت جانے سے محرم لوٹ آنے تک /انجم خلیق

سلام

​انجم خلیق

​ولائے پنجتن کو شعر کے قالب میں لاتا ہوں

زمیں زادہ ہوں اور عرشِ معلّٰی چھو کے آتا ہوں

 

​خدا رکھے مرے تو ہر گھڑی چودہ محافظ ہیں

کوئی مشکل ہو ان کو پشت پر موجود پاتا ہوں

 

​یہی محسن شناسی خونِ خالص کی علامت ہے

میں جن کے در سے کھاتا ہوں ، انہی کے گن بھی گاتا ہوں

 

​ہمیں چُنتے ہوئے شبیر کے غم نے کہا ہو گا

بڑی پڑتال کر کے میں کسی دل میں سماتا ہوں

 

​پھریرا لے کے میرے بخت کو پرواز کرتا ہے

میں جس دم حضرتِ عباس کا پرچم اٹھاتا ہوں

 

​میں کاغذ پر بنا کر کربلا سے شام کے رستے

پھر ان رستوں پہ بادل ، پیڑ اور چشمے بناتا ہوں

 

​محرم بیت جانے سے محرم لوٹ آنے تک

عزا خانے میں دل کے روز فرشِ غم بچھاتا ہوں

 

​غمِ آلِ عبا کے معجزے ہی اور ہیں انجم

ستارے بنتے جاتے ہیں میں جو آنسو بہاتا ہوں

Author

Related Articles

Back to top button