سلام

سلام /مجھے تو ناز ہے ثقلین اپنی نسبت پر /ثقلین جعفری

سلام 

ثقلین جعفری 

حسین صرف ترا غم ہی چار سو ہوگا 

ہر ایک قریہ میں ہوگا ، یہ کو بکو ہوگا

 

حسین تھام کے بیٹھے ہیں دل کو لاشے پر 

کوئی دکھاؤ جو اکبر سا خوبرو ہوگا

 

جو کٹ مرے ہیں رہ حق میں ریگ کربل پر 

کسے مثال کریں کون ہو بہو ہوگا

 

جو ان کو حق کی علامت یہاں پہ جانے گا

یقین جانیں فقط وہ ہی سرخرو ہوگا 

 

نبی کی آل کے دشمن یہ بات یاد تو رکھ 

بروز  حشر  ترے  ہاتھ پر  لہو  ہوگا 

 

زمانہ روک رہا ہے جسے زمانوں سے 

وہ زکر اب تو زمانے میں چار سو ہوگا

 

مجھے تو ناز ہے ثقلین اپنی نسبت پر 

 مروں گا جب تو علی میری جستجو ہوگا

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x