
ڈاکٹر شاہدہ رسول اس وقت دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ بصارت سے محرومی کے باوجود دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو کے تحقیقی مجلہ ارمغان کی چیف ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ اعزاز کسی اور نابینا فرد کو حاصل نہیں ہو سکا۔
وہ 2015 میں دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئیں اور 2021 سے 2023 تک سربراہِ شعبہ اردو کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتی رہیں۔
تحقیق و تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ایم فل کی سطح پر اب تک ان کی زیرِ نگرانی بیس طالبات اپنے تحقیقی مقالے مکمل کر چکی ہیں، جبکہ رواں برس ایم فل کی پانچ طالبات ان کی نگرانی میں تحقیق کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تین طالبات کو پی ایچ ڈی بھی مکمل کروا چکی ہیں۔
مختلف قومی اور بین الاقوامی مجلات میں ان کے بیس سے زائد تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ وہ دو کتابوں، "وارث سے بندگی تک (امجد اسلام امجد کے ڈراموں کا سیاسی اور سماجی مطالعہ)” اور "اقبال کا تصورِ کشف اپنے خطبات کی روشنی میں” کی مصنفہ ہیں۔
ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں کی جانب سے انہیں اب تک آٹھ ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ مزید برآں، وہ تقریباً سترہ قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالہ نگار کی حیثیت سے شرکت کر چکی ہیں۔
دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے علاوہ انہیں پنجاب کالج آف کامرس، گورنمنٹ ڈگری کالج فار سپیشل ایجوکیشن بہاولپور اور ایف جی مارگلہ کالج اسلام آباد میں تدریس کا بھی وسیع تجربہ حاصل ہے۔
تعلیمی میدان میں ان کی نمایاں کامیابیوں میں 2004 میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے میں نہ صرف پہلی پوزیشن حاصل کرنا شامل ہے بلکہ شعبہ اردو کی تاریخ میں سولہ سال بعد 694 نمبر حاصل کرکے نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ انہوں نے ایم فل بھی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے کیا، جبکہ پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے مکمل کیا۔
اسلام علیکم، ڈاکٹر صاحبہ، کیسی ہیں؟
جواب: وعلیکم السلام۔ الحمدللہ
سب سے پہلے اپنے بچپن، ابتدائی تعلیم اور خاندانی پس منظرنامہ کے بارے ہمیں کچھ بتائیے؟
جواب:جی یہ وہ سوال ہے جو مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے اور میں ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ میرا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ میں کوئی تین مہینے کی تھی جب میرے ماں باپ پر یہ انکشاف ہوا کہ میں قوت بصارت سے محروم ہوں۔ میری پیدائش چونکہ دیہات میں ہوئی تھی ابا زمیندار تھے ابھی میری بہنوں کی تعلیم کی غرض سے بھی ہم نے شہر کا رخ نہیں کیا تھا اس لیے آپ سمجھ سکتی ہیں کہ 1982 میں جب بصارت سے محروم شخص کی زندگی کو محض سانس کی آمد و رفت سمجھا جاتا تھا اس خبر نے میرے والدین پر کیسا قہر ڈھایا ہوگا۔ امی بتاتی ہیں کہ میرے علاج کےلیے وہ قریہ قریہ شہر شہر پھرتی رہیں مگر ڈاکٹر کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا جواب نا پاکر تقریبا چار پانچ سال کی دوڈ دھوپ کے بعد یہ لوگ میری بینائی کی بحالی سے یکسر مایوس ہوگئے ۔ ڈاکٹرز نے میرے نابینا ہونے کا جو سبب گھر والوں کو سادہ زبان میں سمجھایا وہ یہ تھا کہ میرے دماغ کی رگیں کمزور ہیں۔ جبکہ میڈیکل کی اصطلاح یہ نہیں تھی۔ اس کے مطابق میری آنکھوں کا ریٹینا کمزور تھا۔ مگر میرے گھر والوں نے میرے دماغ کو بیرونی کمک فراہم کرنے کی غرض سے زیتون، سرسوں،ناریل کے تیل اور دیسی گھی سے میرے سر کی مالش کرنا شروع کردی ۔شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ میرا دماغ ایسا کھلا کہ اپنے اندر پوشیدہ امکانات کو دریافت کرنے کےلیے ضرورت سے زیادہ آمادہ ہوگیا۔ جب میرے والدین دیسی ٹوٹکوں سے بھی مایوس ہوگئے تو کسی معجزے کا انتظار کرنے لگے۔ میری امی مجھے اکثر اپنے پاس بٹھا کر کہا کرتیں کہ "وہ صبح ضرور آئے گی جب تمہاری زندگی کے سارے اندھیرے دور ہوچکے ہوں گے جب وہ دن آئے گا تو میں تمہیں دلہن بناؤں گی”. کچھ عرصہ اس انتظار میں بتانے کے بعد میری ماں کی یہ امید بھی دم توڑ گئی۔ میں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ خوش ہوتی تو یہ صدا مجھے مجھے مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا کردیتی کہ” آج تو یہ بچیاں اس کے اردگرد ہیں کل جب یہ بیاہی جائیں گی تو اس کا کیا بنے گا”۔ یوں والدہ صرف میری بصارت کی بحالی سے ناامید ہوئی تھیں جبکہ میرے ذہن میں یہ خیال بھی راسخ ہوگیا تھا کہ آنکھوں کے بغیر میرا دلہن بننا نا ممکن ہے۔
میں چھ سات سال کی عمر میں خاندان میں چھوٹی پیرنی مشہور ہوگئی تھی۔ میری ہر پیشن گوئی شاید گاؤں والوں کی ضعیف العتقادی کی وجہ سے پوری ہونے لگی تھی۔ میری باتیں ہر کوئی توجہ سے سنتا تو میں اس خوف سے نجات پالیتی تھی کہ زندگی میں کبھی تنہائی میرا مقدر ہوسکتی ہے۔ شاید یہ قدرت کی طرف سے میرے لیے کوئی اہتمام تھا کہ میں اپنے بڑوں کے وسوسوں اور اندیشوں سے نا گبھراؤں ۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میری ماں کی فکر مندی میں اضافہ ہورہا تھا۔ ان کی انتہائی خواہش یہ تھی کہ پلک جھپکنے سے پہلے میری آنکھیں روشن ہوجائیں۔ اور یہی خواہش جب بے بسی میں بدل جاتی تو وہ دو راستوں کی مسافر ہو جاتیں۔ ان کا یہ جملہ مجھے آج بھی یاد ہے: "اگر اسے بصارت سے محروم رہنا تھا تو بہتر تھا کہ اللہ اسے پیدا ہوتے ہی اپنے پاس بلا لیتا۔اب چلی جائے گی تو مجھے اس کی دلنشین باتیں یاد آئیں گی۔ مجھ میں اس کو سنبھالنے کی ہمت ہے اور نا یہ طاقت کہ میں اس کی بے بسی کا تماشا کروں”۔ میں سات سال کی تھی جب میرے چچا کا انتقال ہوا۔ میری والدہ اور خاندان کی دوسری عورتوں نے مجھے میت کے سامنے لے جاکر کہا۔ "اسے بھی اپنے ساتھ لے جاؤ”۔ چھوٹی سی عمر میں یہ جملہ مجھ پر عذاب کی طرح نازل ہوا تھا۔ میں تقریبا ایک مہینہ چچا کے بھوت سے ڈرتی رہی پھر میں نے خواب میں انہیں بہت خوش دیکھا تو بیدار ہوکر موت کی آنکھ میں بھی آنکھیں ڈال لیں کہ "اگر موت اتنی خوبصورت ہے تو کوئی بات نہیں”۔مگر پھر ایک خیال اس سمجھوتے کے دوران خدا جانے کہاں سے میرے ذہن میں آیا۔ میں نے سوچا کہ یہ سب دیکھ سکتے ہیں اس پورے خاندان میں مجھے ہی کسی نقص کے ساتھ بھیجا گیا ہے تو وہ جو خالق ہے اسے کسی کی آزمائش تو مقصود ہوگی۔یا میں آزمائی جاؤں گی یا میرے والدین۔ جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہوتا میں مر بھی کیونکر سکتی ہوں۔ یہ خیال گویا وہ پہلا دریچہ تھا جو زندگی کی طرف قدرت نے کھولا تھا۔ اس سے پہلے میں جو کچھ سوچتی تھی نارسائی کے خیال اسے اپنے تک ہی محدود رکھتی تھی ۔ مگر اس خیال کے آتے ہی میری سوچ کو گویا زبان مل گئی۔ میرے بہن بھائیوں نے تعلیم کی غرض سے شہر کا رخ کیا تو میرے اندر بھی پڑھنے لکھنے کی خواہش بیدار ہوئی۔ اس زمانے میں مجھے ڈرامے بہت متاثر کرتے تھے۔ کسی بھی نسوانی کردار کی مساعی کو دیکھ کر میں اپنے اندر چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرنے پر آمادہ ہو جاتی تھی ۔ مگر یہ مشکلات کا حل نہیں تھا بلکہ اسی موڑ پر آکر میں نے پرخار راستوں پر چلنے کا عزم کیا۔ زندگی کے سات آٹھ سال کبھی اہل خانہ کے ان فیصلوں کو تسلیم کرتے گزارے جو مجھ سے متعلق وہ صادر کردیا کرتے تو کبھی چھوٹی پیرنی بن کر کرتب دکھائے۔ مگر جب بولنا شروع کیا تو وجود کے اسباط کی خواہش نے بھی سر اٹھایا۔ میرے بہن بھائی اکثر میرا کہیں شمار نہیں کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں مگر ان کے دوست احباب میرے وجود سے لاتعلق رہتے تھے۔ مجھ سے بڑی بہن، میرے والدین کی سب سے چھوٹی بیٹی اور بہن بھائیوں میں چھوٹی بہن کی حیثیت سے لاڈ اٹھواتی تھی ۔یہ محض ایک نا انصافی نہیں تھی بلکہ مجھے اپنے بہن بھائیوں کے دوست احباب کے سامنے بھی نا لایا جاتا۔ جب خواتین مہمانوں سے مجھے دور رکھا جاتا تو میرے اندر ڈھیر سارے سوالات جنم لے لیتے جن کا جواب دینے کے لیے کہیں کوئی موجود نہیں تھا۔ میری ایک بہن بشریٰ آپی باقی بہن بھائیوں سے تھوڑی مختلف تھیں۔ان کی ایک سہیلی شائستہ باجی کی ایک کزن ابن قاسم ویلفئیر سکول میں زیر تعلیم تھی۔ وہ جب بھی آپی سے ملنے آتی تو انہیں ترغیب دیتی کہ مجھے تعلیم سے محروم نا رکھیں۔ میرے بڑے بھائی میرے بچپن ہی سے اس فرمائش کو کبھی رد نا کرتے جو براہ راست میں ان سے کیا کرتی تھی۔ آپی نے کئی مرتبہ اپنی سہیلی کی بات بھائی تک پہنچائی مگر انہوں نے توجہ نا دی۔ایک دن ہمت کرکے جب میں نے براہ راست فرمائش کی کہ مجھے پڑھنا ہے تو 7 ستمبر 1991 کی ایک شام انہوں نے مجھے ابن قاسم بلائنڈ ویلفئیر سکول میں داخل کرادیا۔ مڈل تک میں نے اسی سکول میں تعلیم حاصل کی جب کہ میٹرک ایف جی سوار حسین شہید سکول سے کیا۔
بصارت سے محرومی کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے سفر میں آپ کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے ان پر کیسے قابو پایا؟
جواب:میرے لیے تعلیم حاصل کرناہی بہت بڑا چیلنج تھا۔ مجھے سکول میں یہ کہہ کر داخل کروایا گیا کہ چند دنوں کا شوق پورا کرنے کے بعد میں میں خود ہی تھک یاد کر بیٹھ جاؤں گی لیکن میرے لیے یہ زندگی موت کا سوال تھا ۔اگر میں نازونعم میں پلی ہوتی تو شاید گھر والوں کا یہ خیال درست ثابت ہو جاتا۔ مگر قدرت شاید مجھے اعلی تعلیم کرنے کا مواقع فراہم کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے میرا اس راستے پر اٹھایا گیا ہر قدم ایک چیلنج تھا۔
میں نے آپ کے گزشتہ سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ میں نے میٹرک سوار حسین شہید سکول سے کیا ۔ یہ ایک فیڈرل سکول ہے جو منسٹری آف ڈیفینس کے انڈر آتا ہے۔ یہاں یا تو فوجیوں کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں یا وہ بچے جن کے والدین کسی کرنل سے جان پہچان رکھتے ہوں۔ نابینا سکول سے مڈل کر نے کے بعد وہاں کا ماحول مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ساز گار نا رہا تو میں نے ہمت کرکے سوار حسین شہید سکول کی پرنسپل سے ملاقات کی۔ انہوں نے مشروط طور پر اسکول میں بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔ یعنی جب کرنل صاحب اسکول کے دورے پر آتے تو یا تو مجھے اسکول کے پچھلے گراؤنڈ میں چھپا دیا جاتا یا پھر عین اس وقت گھر بھجوادیا جاتا جب میں دوسری طالبات کی طرح امتحان دینے میں مصروف ہوتی۔ میں نے اسی زمانے میں اپنی کارکردگی کو اس طرح بہتر کرلیا کہ میری کلاس انچارج اور پرنسپل صاحبہ نے متفقہ طور پر کرنل صاحب سے بات کرکے مجھے اسکول میں داخل کرلیا۔ملتان کی پہلی نابینا لڑکی تھی جس نے بصارت سے محرومی کے باوجود ریگولر میٹرک کیا تھا۔ ایف اے اور بی اے نمایاں نمبروں سے پاس کرنے کے بعد ایم اے کرنے کا مرحلہ آیاتو زکریا یونیورسٹی میں مجھے لانے اور لے جانے کا میرے بھائی کے پاس کوئی انتظام نہیں تھا۔ میری والدہ نے اس کٹھن مرحلے پر میرا بہت ساتھ دیا مگر یہاں بھی میری ظاہری حالت کو دیکھ کر یونیورسٹی کے اساتذہ نے یہ فیصلہ صادر کردیا کہ میرا پاس ہوجانا ہی بہت بڑی بات ہے۔ میں تسلیم کرتی ہوں کہ محض ایم اے پاس کروانے کے لیے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو کے ہر استاد نے میرے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔یہ ہی تعاون میرے لیے حیات بخش ثابت ہوا۔ میرے اساتذہ محض میری ظاہری حالت دیکھ رہے تھے مگر اپنے اندر چھپے ہوئے امکانات سے میں خود واقف تھی یا میرا خدا۔ سو ان کی غیر معمولی توجہ نے مجھ سے وہ کام کروایا جو خود میرے اساتذہ کےلیےبھی حیران کن تھا۔ میں نے ایم اے اردو میں نا صرف پہلی پوزیشن لی بلکہ سولہ سال بعد زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں 694 نمبروں کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ہماری کتابیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ میں لیکچر ریکارڈ کرتی تھی ، ایک معاون اپنے ساتھ رکھتی تھی اور بڑی بڑی کتابیں اپنی بھابجی بھتیجوں اور اساتذہ سے ریکارڈ کرواتی تھی ۔ ان اساتذہ میں پروفیسر نکہت افتخار سر فہرست ہیں ۔ میرا تعلیم حاصل کرنا کبھی بھی اتنا آسان نہیں رہا جتنا موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت نے نابینا افراد کےلیے بنا دیا ہے۔
ایم فل بھی میں نے زکریا یونیورسٹی سے کیا۔ اس زمانے میں، میں کورس ورک کے دوران پنجاب کالج میں ملازمت کرتی تھی اور تحقیقی مقالے کے دوران بہاولپور سپیشل ایجوکیشن میں بطور لیکچرر تعینات تھی ۔ جبکہ پی ایچ ڈی میں نے مارگلہ کالج اسلام آباد کی ملازمت کے دوران کی۔ بصارت سے محرومی میرا مسئلہ تھا ان اداروں کا نہیں جہاں سے میں وابستہ تھی۔ اس لیے محدود وقت میں معاون کی دستیابی ان اداروں کے اوقات کار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا،بجائے خود ایک بہت بڑا چیلنج رہا۔
ادب سے وابستگی کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟
جواب: بہت دلچسپ سوال ہے۔ اور یہ معاملہ تھوڑا عجیب ہے۔ اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری ادب سے جڑت یا وابستگی قدرت کا میرے لیے کوئی فیصلہ ہے۔ بہت بچپن میں جب نابینا اسکول میں پڑھتی تھی تو میری بہن میرے مخصوص حالات کے پیش نظر اخبار جہاں یا ایسے ہی کسی رسالے سے میرے لیے ایسے اشعار تلاش کرتی تھی جو ان کے خیال میں تخلیق ہی میرے لیے کیے گئے تھے۔ مثال کے طور پر
اے خدا بنائے تھے لوگ اگر پتھر کے
میرے احساس کو شیشہ نا بنایا ہوتا
یا
چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گھاؤ میں
میں خود جل رہا ہوں دکھوں کے الاؤ میں
کوئی ہے اہل دل تو خریدے میرا مزاج
میں زخم بیچتا ہوں محبت کے بھاؤ میں
بس ایسے اشعار میں جب اپنے غم کی ترجمانی کا احساس ہونے لگا تو شعر و شاعری اچھی لگنے لگی۔ مگر میٹرک کرنے کے بعد تک میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ اردو ادب میری پہچان کا ذریعہ بنے گا۔ میں فرسٹ ائیر میں انگلش لٹریچر لینا چاہتی تھی مگر میری بہن نے زبردستی مجھے اردو بطور اختیاری مضمون لینے پر مجبور کیا۔ میں نے انتقاماً اس وقت وہ مضمون چھوڑ کر عربی بطور اختیاری مضمون پڑھنا شروع کردی اور اپنے طور پر اردو ادب سے جان چھڑا لی۔مگر ایف اے میں میری اردو کی استاد پروفیسر نکہت افتخار صاحبہ تھیں انہوں نے ایف اے کے دو سال مجھے خصوصی توجہ سے پڑھایا تو کچھ میرا ذہن اردو ادب کی طرف مائل ہوگیا۔ ایف اے کے کلاس کا آخری دن اردو ادب کو اختیار کرنے کے حوالے سے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس دن میری استاد نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا”یہ کبھی نا سمجھنا کہ تمہارے ساتھ میرا مشفقانہ رویہ محض اس لیے تھا کہ تم بصارت سے محروم ہو۔ تم ایک ذہین طالبہ ہو اور تمہاری اسی خوبی کی وجہ سے میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں”. میرے وجود کا یہ وہ اثباتی لمحہ تھا جس کے لیے میں نے برس ہا برس محنت کی تھی۔ بس اسی لمحے فیصلہ کیا کہ میں اردو ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناؤں گی۔
ایم اے اردو میں پہلی پوزیشن اور شعبۂ اردو کا ریکارڈ قائم کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: آپ نے اسے تجربہ کہا تو پہلی مرتبہ یہ کیفیت خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات کا ایک حسین امتزاج محسوس ہورہی ہے۔ ایم اے کے پہلے سال میرا پہلی پوزیشن لینا خود میرے لیے بھی ایک غیر متوقع موڑ تھا۔ میں نے پہلے سال 310 نمبر لیکر پوری جماعت میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اینول سسٹم کا زمانہ تھا نتائج کے اعلان کے بعد میرے تمام اساتذہ کی سرشاری فطری اور دیدنی تھی۔ مجھے یونیورسٹی کے کاریڈور میں سب سے پہلے عبد الرؤف شیخ مرحوم کی زبان سے باآواز بلند اپنا نام سنائی دیا تو میں دھک سے رہ گئی۔ وہ ایک سخت استاد تھے اور اس دن میں یونیورسٹی دیر سے پہنچنے کی وجہ سے ان کی کلاس میں غیر حاضر تھی۔ مجھے گمان گزرا کہ شاید وہ میری سرزنش کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ڈر کے مارے آدھا گھنٹہ ریسرچ سکالر کے کمرے میں بیٹھی رہی۔ باہر نکلی تو دنیا ہی بدل چکی تھی ہر طرف سے مبارکبادیں موصول ہونے لگیں۔ اور میں خوش ہوئی کہ میری والدہ نے مجھے یہاں تک پہنچانے میں جو ریاضت کی ہے آج انہیں اس کا پھل مل گیا۔ کچھ عرصہ یونہی فخر و انبساط میں گزرا پھر ایک عجیب بات ہوئی میں نے اپنے اساتذہ سے کہا کہ اس پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے مجھے ان کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے میری بات کی وضاحت مجھ سے طلب کرنے کے بجائے خود ہی فرض کرلیا کہ شاید میں مالی اعانت چاہتی ہوں۔ انوار صاحب نے خالد مسعود صاحب سے میری مالی معاونت کی اپیل کرنے کےلیے ایک زور دار کالم لکھوایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک صبح میرے لیے گھر کے پی ٹی سی ایل نمبر پر امریکہ سے فون آگیا۔ وہ کوئی سعید صاحب تھے جو مجھے بتا رہے تھے کہ تقریبا ایک ہزار امریکی ڈالر وہ میری امداد کےلیے میڈم روبینہ کے اکاؤنٹ میں بھجوا چکے ہیں۔ میں نے امداد لینے سے انکار کرنا چاہا مگر انہوں نے میری کوئی بات نا سنی۔ اور مجھے اپنی چھوٹی بہن کہہ کر یوں مخاطب کیا:” گڑیا مجھے اپنا بھائی سمجھو۔ میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا” اورفون بند ہوگیا۔ظاہر ہے میرے لیے یہ صورت حال قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے میں نے میڈم روبینہ اور انوار صاحب دونوں کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ "میں ایک زمیندار کی بیٹی ہوں۔میرے باپ نے میرے لیے اتنا ترکہ چھوڑا ہے کہ میں آسانی سے تعلیم حاصل کرسکوں۔ ایسی صورت میں،میں اگر کسی کی مالی امداد قبول کرتی ہوں تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گی”. ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ جو لوگ پیسے بھجوا چکے ہیں وہ واپس لینے پر آمادہ نہیں۔ ہم تمہیں کتابیں خرید کر دے دیتے ہیں تم ان سے استفادہ کرنے کے بعد شعبے کو عطیہ کردینا۔ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے دو ریڈر بھی اگر رکھنا چاہو تو معاوضے کی ادائیگی تمہارے ذمے نہیں ہوگی۔ اس کے بعد انوار صاحب نے غالبا جنگ اخبار میں ایک تردیدی خط لکھا جس میں میرے لیے ایک حیران کن انکشاف بھی موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ "شاہدہ کی مالی مدد کرنے کےلیے جو لوگ آمادہ ہوگئے تھے ان میں میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف بھی شامل تھے۔ یہ 2004 کی بات ہے، ان دنوں یہ خاندان سعودیہ عرب میں جلا وطنی کاٹ رہا تھا۔انوار صاحب نے بتایا کہ ان دونوں کا خط شعبہ اردو کو موصول ہوا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اس بچی کے سارے تعلیمی اخراجات ہم برداشت کرنے کےلیے تیار ہیں۔انوار صاحب نے اس خط کا حوالہ دے کر ان دونوں بھائیوں سے بھی معذرت کرلی۔ اس کے بعد زبان خلق پر یہ ورد جاری ہوگیا کہ میں شعبہ اردو میں ایک نیا ریکارڈ قائم کروں گی۔ جیسا کہ مثل مشہور تھی کہ زبان خلق نکارہ خدا ہوتی ہے سو یہ بات سچ ثابت ہوئی۔ نیا ریکارڈ بنانے کے بعد جہاں میں بے اندازہ خوش ہوئی وہاں میرے لیے بہت سی نئی مشکلات کا آغاز بھی ہوا جن کے اظہار کا یہ موقع نہیں۔
آپ کی زندگی میں کن اساتذہ یا شخصیات نے سب سے زیادہ اثر ڈالا؟
جواب: میں آپ کو بتاچکی ہوں کہ ایم اے اردو کا فیصلہ میں نے اپنی ایک استاد پروفیسر نکہت افتخار صاحبہ سے متاثر ہوکر کیا۔ شاید یہ قدرت کا فیصلہ تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ میری ان استاد میں یہ حوصلہ ہے کہ وہ میرے راستے کے کانٹیں چن سکیں۔ اس لیے سب سے زیادہ متاثر میں انہیں سے ہوئی۔لیکن میری اسلامیات کی استاد مسز محمودہ عرفان اور تاریخ کی استاد ڈاکٹر عصمت ناز نے بھی محض تعلیمی سطح پر میری رہنمائی نہیں کی بلکہ دوست بن کر میری زندگی کے نشیب و فراز میں میرا ساتھ دیا۔ تحقیقی و تنقیدی سطح پر اگر آج میں کہیں ہوں تو اس کا سب سے بڑا سبب میری پی ایچ ڈی کی استاد اور نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے میری تراش خراش کے وقت اس حقیقت کو کبھی یاد نہیں رکھا کہ میں دیکھ نہیں سکتی۔ مجھے میرٹ پر شاباش دی اور میرٹ پر ہی میری خامیوں کی اصلاح بھی کی۔
تدریس کے شعبے کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیسے کیا؟
جواب: میں بچپن سے ہی استاد تھی اس لیے یہ فیصلہ کرنے کی نوبت نہیں آئی۔
دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں اپنے تدریسی تجربے کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
جواب: میری سلیکشن یہاں میرٹ پر ہوئی تھی مجھ سے پنتالیس منٹ انٹرویو لیا گیا اس کے بعد جب میں بطور استاد اس جامع سے وابستہ ہوئی تو ایک طویل عرصہ طالبات میں بہت مقبول استاد رہی۔ لیکن یہ سب کچھ آسان نہیں تھا کیونکہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں آئی تو کہیں یہ سمجھ لیا کہ اب جہدوجہد کا دور ختم ہوگیا ۔اور ایک طویل عرصہ اس وقت کی وائس چانسلر ڈاکٹر شاہدہ حسنین مختلف میٹنگز میں میرے انٹرویو کا حوالہ دیا کرتی تھیں۔ لیکن دشواریاں بھی تھیں جو اگر نا ہوتیں تو شاید میں زندگی میں مزید اہداف کے ساتھ آگے بڑھنے سے محروم رہتی۔
شعبۂ اردو کی سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے آپ کے اہم تجربات اور کامیابیاں کیا رہیں؟
جواب: میں نے جولائی 2021 سے جنوری 2023 تک شعبہ اردو دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں سربراہ شعبہ کی حیثیت سے کام کیا۔ یہ عہدہ تفویض ہونے کے بعد میرا بنیادی مقصد یہ تھا کہ میں طالبات کے اندر جرات اور خود اعتمادی کے اوصاف پیدا کرسکوں۔ اس مقصد کے لیے میں نے ہفتہ وار ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا اور مقابلے کی فضا پیدا کی۔ میں نے اس سارے عرصے میں دو بین الاقوامی اور دو قومی سیمینار کروائے۔ میں اردو ادب کے طالب علموں کا رخ ڈیجیٹل عہد کی طرف موڑنے میں سرگرم عمل تھی ۔اس لیے ایک ورکشاپ بعنوان "علم و ہنر ساتھ ساتھ” کا انعقاد بھی کیا۔ جب میں نے سربراہ شعبہ اردو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس شعبے میں میرے علاوہ صرف دو مستقل اساتذہ تھے۔سو مجھے ٹیم کی شدید کمی کا سامنا رہا۔ بصارت سے محرومی کے باوجود میرا سربراہ شعبہ بننا ایک نیا واقعہ تھا۔ میں اس ذمہ داری کو کامیابی سے نبھانا چاہتی تھی اس لیے اپنے خرچ پر ایک معاون کو اپنے ساتھ رکھا۔ آٹھ نو مہینے تو مجھے ایک ایسی معاونت میسر رہی جس کے ساتھ میرا قلب وروح کا رشتہ بھی تھا مگر اس کے بعد کچھ مشکلات پیش آئیں۔ ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے کےلیے شاید پہلے آٹھ نو ماہ ہی کافی تھے اس لیے 19 جنوری 2023 تک میں نے یہ زمہ داری احسن طریقے سر انجام دی۔ اب سمارٹ کلاسز اور ٹیلی فون میں جدید سہولیات کی وجہ سے میں سمجھتی ہوں کہ دوبارہ کبھی ایسا موقع میسر آیا تو بغیر کسی معاونت کے بہت احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھاسکوں گی۔ ویسے میں سمجھتی ہوں کہ اگر میں اپنی بہترین صلاحیتیں معاشرے کےلیے وقف کررہی ہوں تو مجھے ایسا عہدہ تفویض کرنے کے بعد ادارہ خود میرے لیے یہ سہولت فراہم کرے۔ یہ کوئی انوکھا مطالبہ نہیں وہ سربراہ شعبہ اردو جو بصارت سے معمور ہیں،ان کو بھی یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
تحقیقی مجلہ "ارمغان” کی چیف ایڈیٹر ہونے کے ناتے آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جواب: تحقیقی مجلہ ارمغان کی ایڈیٹر ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔مگر بحیثیت نابینا چیف ایڈیٹر کے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ عام طور پر چیف ایڈیٹر کسی بھی تحقیقی مجلے کا سربراہ ہوتا ہے جو آخر میں اس کام پر ایک ناقدانہ نظر ڈالتا ہے جسے سب ایڈیٹر، ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اور مینیجنگ ایڈیٹر نے مل کر سر انجام دیا ہوتا ہے۔ لیکن میرے معاملے میں صورت حال مختلف ہے۔ میں اس مجلے کی سربراہ ہوں لیکن میرے پاس کوئی ایڈیٹوریل ٹیم نہیں ہے۔ اس تحقیقی مجلے کے آغاز میں میری بھر پور مساعی شامل ہے۔ 2020 میں جب سے اس کا آغاز کیا گیا تھا تو اس کا نام تجویز کرنے سے لےکر حوالہ جات کا ایک معیاری طریقہ کار وضع کرنے تک ہر کام میں نے بہت جانفشانی سے سر انجام دیا۔لیکن 2020 سے 2021 تک انچارج میں نہیں تھی۔ 2021 سے یہ تحقیقی مجلہ میری سربراہی میں چل رہا ہے اور گزشتہ چار سالوں سے یہ ایچ ای سی کی وائے کیٹیگری میں منظور شدہ تحقیقی مجلہ ہے۔ اس تحقیقی مجلہ کی مینیجنگ ایڈیٹر کے فرائض فیصل آباد سے میری ایک دوست ڈاکٹر روبینہ یاسمین سر انجام دیتی ہیں۔ اور یونیورسٹی سے اصغر علی صاحب کی معاونت حاصل ہو جاتی ہے۔ جہاں تک ذمہ داریوں کی بات ہے تو اس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی ویب سائٹ کو مینٹین رکھنا،تحقیقی مقالہ جات کی جانچ پرکھ کے بعد انہیں ریویو کے لیے آگے بھیجنا،ہر سال ایکریڈیشن کےلیے محنت کرنا، مقالہ نگار عام طور اپنی سرقہ رپورٹ نہیں بھیجتے پھر مجھے خود ٹرنیٹن اکاؤنٹ سے لینا ہوتی ہے اور ہر مقالے کا ڈبل بلائنڈ ریویو کروانا جیسے امور میری ذمہ داری ہیں اور یہ کام مجھے خود ہی دیکھنا ہوتے ہیں۔بعض اوقات مقالات کو ojs پر اپلوڈ بھی کرنا پڑتا ہے یہ کام میری مینیجنگ ایڈیٹر سر انجام دیتی ہیں جبکہ مضامین پر ہیڈر لگانا اور اس طرح کے چھوٹے موٹے کام اس وقت اصغر صاحب سنبھال لیتے ہیں جب مقالہ میری طرف سے بلکل اشاعت کے قابل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی پہلی نابینا چیف ایڈیٹر ہونے کا اعزاز آپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
جواب: میرے لیے اس کی اہمیت تو بہت ہے لیکن ہر اعزاز کی طرح اس اعزاز کو حاصل کرنے کے بعد بھی میری آزمائش عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اگر نابینا افراد اپنی محنت سے کوئی اعزاز حاصل کرلیں اور پھر ان کی آزمائش کےلیے ادارے انہیں تنہا کردیں یعنی ٹیم ورک بلکل نا ہو تو کوئی بھی نابینا شخص ایسے کسی اعزاز کو پاکر مطمئن نہیں ہوگا۔
موجودہ دور میں اردو تحقیق کو درپیش سب سے بڑے مسائل کیا ہیں؟
جواب: موجودہ دور میں پاکستان کی سرکاری جامعات میں سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کی کمی کا ہے۔ جامعات اب اپنا ریوینیو جنریٹ کی فکر میں مصروفِ عمل نظر آتی ہیں۔
یونیورسٹی کے ہر شعبے کو کثیر تعداد میں طلبا وطالبات چاہئیے اور میں سمجھتی ہوں کہ مقدار کی یہ زیادتی تحقیقی معیار پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے۔
آپ اپنے طلبہ و طالبات جو تحقیق کر رہے ہوں ان کی رہنمائی میں کن اصولوں کو اہمیت دیتی ہیں؟
جواب: میرا ایک ہی سادہ سا اصول ہے۔ کوئی بھی طالب علم جب کسی تحقیقی موضوع کا انتخاب کرے تو اس کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئیے کہ اس کا منتخب کردہ موضوع اسے ایک ذمہ دار محقق ثابت کرے گا یا اس کی غفلت اسے صفحہ ہستی سے مٹا دے گی ۔اس لیے میں حتی الامکان کوشش کرتی ہوں کہ تحقیقی سطح پر دیانت داری، محنت اور اخلاص میرے طالب علموں کی اولین ترجیحات رہیں۔
پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے دوران آپ کی تحقیق کے نمایاں موضوعات کیا رہے؟
جواب:پی ایچ ڈی میں، میں نے پاکستان کے مقبول ٹی وی ڈراموں کے نسوانی کرداروں کا تہذیبی اور سماجی مطالعہ کیا تھا۔ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ میں عمیرہ احمد کے ناولٹ میری ذات ذرہ بے نشاں کی ڈرامائی تشکیل کا جائزہ لیا تھا۔
آپ کی کتاب "وارث سے بندگی تک” لکھنے کا خیال کیسے پیدا ہوا؟
جواب: میں نے پی ایچ ڈی کی سطح پر امجد اسلام امجد کے پی ٹی وی سے نشر کردہ نو سلسلہ وار اردو ڈراموں کے نسوانی کرداروں کا مطالعہ کیا تھا۔امجد اسلام امجد کے ڈراموں کے گہرے مشاہدے اور مطالعے کے بعد احساس ہوا کہ انہوں نے جن موضوعات کو ٹچ کیا ہے وہ تحقیق اور تنقید کی کسوٹی پر پرکھے جانے چاہیے ۔بس اسی خیال نے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کے تمام سلسلہ وار ڈراموں کا مطالعہ اس کتاب کی صورت میں پیش کروں۔
"اقبال کا تصورِ کشف اپنے خطبات کی روشنی میں” کے بنیادی نکات کیا ہیں؟
جواب: یہ بنیادی طور پر میرے ایم فل کا مقالہ تھا جسے مقتدرہ قومی زبان نے شائع کیا۔ علامہ اقبال کے افکار و خیالات سے جہاں ایک دنیا متاثر ہے وہاں بعض مذہبی یا شدت پسند حلقوں میں وہ ہدف تنقید بھی رہے ہیں۔ اس موضوع پر تحقیق کا بنیادی نقطہ یہ خیال تھاکہ اقبال کشف اور الہام کے قائل نہیں ۔ اور نعوذ باللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعض ارشادات کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میں نے اپنے تحقیقی مقالے میں سب سے پہلے تو اس الزام کو غلط ثابت کیا۔ دوسرا نقطہ یہ تھا کہ اقبال وحی کو باطنی روحانی تجربہ سمجھتے ہیں۔ اقبال کے بعض شارحین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ اقبال لفظ وحی کی اتنی ہی محدود تشریح کرسکے۔ میں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ اقبال یہاں وحی کی ایک قسم کی بات کررہے ہیں جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ نحل میں آیا ہے۔ اس وحی کی بات نہیں کی گئی جو خاص طور پر پیغمبروں پر نازل ہوا کرتی تھی۔کیونکہ اس بات سے اقبال بھی متفق ہیں کہ وہ سلسلہ اب بند ہوگیا ہے۔
علامہ اقبال کی فکر کا کون سا پہلو آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے؟
جواب: علامہ اقبال کے ساتھ بڑی زیادتی یہ ہوئی کہ انہیں پورے طور پر نہیں سمجھا گیا۔ میں نے ان کے افکار کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور میں پوری دیانت داری سے یہ سمجھتی ہوں ان کے تمام تر فلسفیانہ افکار ایک نئی پڑھت کے متقاضی ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ مجھے پورے اقبال نے متاثر کیا ہے اور میرے اندر جرات اور اعتماد افکار اقبال کے عمیق مطالعے کے بعد پیدا ہوا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔
مختلف تعلیمی اداروں میں تدریس کے تجربات نے آپ کی شخصیت اور فکر کو کس طرح نکھارا؟
جواب: میں نے سب سے پہلے پنجاب کالج میں پڑھایا۔ کسی بھی پرائیویٹ ادارے میں بصارت سے محرومی کے ساتھ تدریس کے فرائض سر انجام دینا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ یہاں سے میری گفتگو میں ربط پیدا ہوا، سبقت لے جانے کی امنگ نے مجھے اسی زمانے میں ہی محنت کا خوگر بنادیا۔ وقت کی پابندی بھی وہیں سے سیکھی۔ پھر مارگلہ کالج میں تدریس کے دوران اداروں کی مخصوص پابندیوں نے میرے اندر مزید نظم و ضبط پیدا کردیا ۔اور جب میں دی ویمن یونیورسٹی ملتان سے وابستہ ہوئی تو میری ذمہ داریاں محض تدریس تک محدود نہیں رہیں۔بلکہ تحقیق سے لے کر انتظامی امور کی انجام دہی تک کا سارا سفر میرے لیے اپنا تعارف ثابت ہوا۔
خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: موجودہ دور میں خواتین کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس زوال آمادہ معاشرے میں آہستہ آہستہ اس تاثر کو فروغ مل رہا ہے کہ تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں۔ جب معاشرہ چھوٹے موٹے مکینکوں سے بھر جائے گا تو اخلاقیات زوال پذیر ہوں گی۔اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو اپنے بچے کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کےلیے وہ بہتر کردار ادا کرسکے گی۔
خصوصی افراد کے لیے ہمارے تعلیمی نظام میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
جواب: میں آپ کے اس سوال کے بنیادی حصے کی طرف آنے سے پہلے کچھ تمہید باندھنا چاہوں گی۔ بات یہ ہے کہ تعلیمی نظام کی بہتری کا مطالبہ کرنے سے پہلے ہمیں سماجی رویوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ہوگی۔اور یہ معاملہ ان افراد کے گھر والوں سے شروع کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر میں کے کبھی نہیں سمجھ پائی تھی کہ میرے اہل خانہ مجھے دنیا سے کیوں چھپانا چاہتے ہیں۔ سچ کہوں تو چھ ماہ قبل اس رویے کی تفہیم مختلف انداز میں کرتی تھی۔ مگر اب میری سمجھ میں آیا ہے کہ
ہر انسان کی آرزو ہوتی ہے کہ معاشرہ اس کی ذات، ماحول یا اس سے وابستہ کرداروں میں نقائص تلاش نا کرے۔ اس لیے شاید ایسے بچوں کو ان کی جسمانی کمزوریوں کے ساتھ منظر عام پر لانے میں ان سے وابستہ صحت مند افراد کی انا کو ٹھیس لگتی ہے۔
میرے ماموں کا نواسا جس کی عمر تقریبا تین سال ہے بصارت سے محروم ہے ۔جب اس بچے کو خاندان کا کوئی دوسرا فرد مجھ سے مشابہت دیتا ہے،تو اس کے ماں باپ واضح طور پر اس بات کا برا مناتے ہیں۔ میں سب سے پہلے ان بچوں کے والدین سے کہنا چاہوں گی کہ ان کا یہ رویہ ایسے افراد کے لیے مددگار نہیں ہوتا بلکہ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کردیتا ہے۔ اگر کسی کے حصے میں ایسے بچے آئے ہیں تو اس میں ان کا قصور نہیں، نا یہ ان کا ذاتی نقص ہے۔ لہذا معاشرے کے ہر سوال کا والدین خود جواب دے دیں تو نفسیاتی اور جذباتی طور پر یہ بچے گھر سے ہی مضبوط ہوکر نکلیں گے۔ اب آپ کے سوال کی طرف بڑھتے ہیں اگر خصوصی افراد سے آپ کی مراد محض نابینا بچے ہیں تو جدید دور میں اس بات کا پہلے سے کہیں زیادہ امکان موجود ہے کہ وہ عام بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں۔ بریل، پرائمری کی سطح پر ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے تاکہ ایسے بچوں کے والدین اسے ایک معمول کی بات سمجھ کر آغاز ہی سے اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرسکیں۔ نفسیات اندھے، بہرے، گونگے بچوں کے ہر زاویے کا جائزہ لے چکی ہے اس لیے ضروری ہے کہ عام افراد کے نصاب میں ایک ایسا پرچہ شامل کیا جائے جس میں خصوصی افراد کے مسائل اور وسائل کا جائزہ لینا سکھایا جائے۔
آپ اپنی کامیابی کا سہرا کن عوامل یا شخصیات کے سر باندھتی ہیں؟
جواب: میں سب سے پہلے تو اللہ کی شکر گزار ہوں جس نے سات سال کی عمر میں مجھے یہ بات سمجھا دی تھی کہ میری تخلیق بے مقصد نہیں۔ اس کے بعد میں اپنی والدہ کی ہمت اور عظمت کو سلام کرتی ہوں جنہوں نے اس زمانے میں میری پرورش کی جب ہم جدید سہولیات سے آراستہ نہیں تھے۔میرے اساتذہ مسز نکہت افتخار ، مسز محمودہ عرفان اور ڈاکٹر نجیبہ عارف وہ اہم شخصیات ہیں جنہوں نے پرخطر راستوں میں سفر کرنے کے باوجود میری شخصیت کو ہر طرح کے ڈینٹ سے بچایا۔
آج کے نوجوان محققین اور طالب علموں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: آج کا دور تعلیم کو مسترد کرکے ہنر کا راگ الاپ رہا ہے۔ میں نوجوان طالب علموں اور محققین سے یہ کہنا چاہوں گی کہ کوئی بھی مہارت علم کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ قرآن پاک میں بھی ہے کہ” اللہ تعالیٰ تم میں سے علم والوں کے درجات بلند کرتا ہے”۔ میرا پیغام یہ ہے کہ کسی بھی نعرے کی کورانہ تقلید کرنے کی بجائے یہ سمجھیں کہ جن معاشروں نے ترقی کرلی ہے ان کی مہارت محض مہارت نہیں تھی بلکہ علم حاصل کرنے کے بعد ہی کائنات کا تصرف ان کے ہاتھ میں آیا ہے۔بس مختصر یہ کہ علم کی شمع سے محبت کریں تاکہ دنیا کے اندھیرے دور ہوسکیں۔
آپ کے نزدیک ایک اچھے استاد اور ایک اچھے محقق کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟
جواب : ہم بحیثیت استاد ہر مزاج کے طالب علموں سے ملتے ہیں اور بحیثیت انسان یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تمام طالب علم اس مساعی کے معترف ہوں جو ہم ان کےلیے کررہے ہیں۔
میرے نزدیک ایک اچھا استاد وہ ہے جو اسے پیشہ پیغمبری سمجھے. اپنے نفس کی تربیت کرے اور جو بہترین مساعی اس نے طالب علموں کےلیے کی ہے اسے اللہ کے سپرد کردے ۔ان طالب علموں کی رہنمائی کےلیے بھی موجود رہے جنہوں نے اس کی شخصیت کا اندازہ اپنے ظرف کے مطابق لگایا تھا۔ اگر استاد اس کٹھن مرحلے سے گزر جائے تو معاشرتی زوال کے اسباب صفر سے بھی کم رہ جائیں گے۔
اگر تحقیق کی بات کریں تو یہ کوئی جز وقتی کام نہیں ۔ بہترین تحقیق اس وقت منظر عام پر آسکتی ہے جب ایک محقق اپنے کل وقت کا اسی فیصد اس پر صرف کرے اور نتائج کے مرتب کرنے میں غیر جانب داری کا ثبوت دے ۔
مستقبل میں آپ کن علمی و تحقیقی منصوبوں پر کام کرنا چاہتی ہیں؟
جواب: اس کو صیغہ راز میں رہنے دیں میں قوم کو سرپرائز دینا چاہتی ہوں۔
زندگی کے سفر کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو آپ کیا کہیں گی؟
جواب: زندگی محد سے لیکر لحد تک مسلسل امتحان ہے۔
آپ اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں اُن افراد کے لیے ایک پیغام دینا چاہیں جو کسی جسمانی یا سماجی رکاوٹ کو اپنی ترقی کی راہ میں حائل سمجھتے ہیں، تو آپ کیا کہیں گی؟
جواب : میں صرف اتنا کہوں گی کہ دنیا میں کوئی بھی مکمل نہیں ہوتا اس لیے اپنے نامکمل ہونے کو کمزوری نہیں طاقت بنائیے۔ کیونکہ جو امکانات آپ کے اندر موجود ہیں وہ آپ کے علاؤہ اور کوئی نہیں دیکھ سکتا۔



