
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ اشرف نے دروازہ کھولا تو سامنے مالک مکان کھڑا تھا۔
وہ بولا: "اشرف صاحب! اگلے مہینے تک مکان خالی کر دیں، میں نے اوپر والا پورشن اپنے بھتیجے کو دینا ہے۔”
اشرف نے کہا: "اکرم صاحب! میں بوڑھا آدمی ہوں۔ میری بیوی بہت بیمار ہے۔ ہم اتنے بڑے شہر میں کہاں نیا مکان ڈھونڈتے پھریں گے؟”
لیکن مالک مکان نے عمر کا بھی لحاظ نہ کیا اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا۔ "اشرف صاحب! مکان جلد خالی کر دیجیے گا۔”
اس نے دروازہ بند کیا اور اندر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو وہ پریشان ہو گئی۔ کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ پھر اس نے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "کرائے کے مکان میں رہنے والے آدمی کو کبھی سکون نہیں ملتا۔ ہر وقت یہی فکر لگی رہتی ہے کہ نہ جانے کب مکان خالی کرنے کا حکم مل جائے۔”
اگلے دن وہ اپنے پرانے جاننے والوں سے خالی مکان کے بارے میں پوچھتا رہا مگر ہر جگہ ایک ہی جواب ملا۔ "بیس ہزار روپے سے کم کرائے کا مکان نہیں ملے گا اور پہلے ایڈوانس بھی دینا پڑے گا۔”
وہ اپنی پنشن کا حساب لگاتا اور پریشان ہو جاتا۔ اس کی آدھی پنشن تو دوائیوں پر ہی خرچ ہو جاتی تھی۔
شام کو جب وہ تھکا ہارا گھر لوٹا تو اس کی بیوی نے پوچھا: "کوئی مکان ملا؟”
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔مئی202،
بیوی نے سر جھکاتے ہوئے کہا: "اگر مکان نہ ملا تو؟”
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا: "تم پریشان نہ ہو، اللہ ہماری مدد ضرور کرے گا۔”
اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا تو سامنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کھڑے تھے۔ انھوں نے اندر آ کر خیریت دریافت کی اور کچھ دیر ان کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔
اگلے دن امام صاحب نے محلے کے چند لوگوں سے بات کی۔ اتفاق سے ایک شخص اپنا چار مرلے کا مکان کرائے پر دینا چاہتا تھا۔ جب مالک مکان کو معلوم ہوا کہ اس بزرگ شخص کی بیوی بیمار ہے تو اس نے نہ صرف کرایہ کم کر دیا بل کہ ایڈوانس رقم لینے سے بھی انکار کر دیا۔
یہ خبر سنتے ہی ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سکون کا سانس لیا۔




