منقبت
سلام /تم جس کے مجاور ہو وہ دربار دکھاؤ /عمران کھرل

سلام
عمران کھرل
مقتل کے دریچے سے نہ پھلوار دکھاؤ
گر میرا مقدر ہے ، مجھے دار دکھاؤ
ڈوبے ہیں ستارے یہاں کتنے ہی زمیں پر
کربل سی اگر ہو تو شب_ تار دکھاؤ
اشکوں کے عوض بخش دے جنت کی جو کنجی
دل والو ، ایسا بھی کوئی دلدار دکھاؤ
جو ابن علی نے کیا تحریر لہو سے
ایسا کوئی تاریخ میں انکار دکھاؤ
ملتا ہو جسے گریہ و ماتم کے عوض خلد
عالم میں کوئی ایسا خریدار دکھاؤ
جو یار کی آواز پہ مقتل میں در آئے
تم ابن_ مظاہر سا کوئی یار ، دکھاؤ
کرتا ہوں اطاعت میں حسین ابن علی کی
تم جس کے مجاور ہو وہ دربار دکھاؤ




