اُردو ادبافسانہ

اعتراف آخر / راحت سرفراز

اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا تھا۔۔۔اور دل نے بھی اس شدت سے انکار کیا تھا کہ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے وجود میں کوئی زلزلہ برپا ہو گیا ہو۔

اس نے پلٹ کر مخاطب کرنے والے کی طرف دیکھنے کے لیے بڑی ہمت جمع کی۔۔۔اور اپنے لرزتے وجود کے ساتھ آہستگی سے پیچھے رخ پھیرا۔

وہ واقعی اسی سے مخاطب تھا۔

اس کے لب ہلکے سے کپکپائے۔۔۔پھر اسے خود سے بےزاری محسوس ہوئی۔

اور اس سے پہلے کہ احمد رضا اپنے الفاظ کی سچائی کا کوئی ثبوت پیش کرتا۔۔۔وہ آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ پلٹ گئی۔

وہ اسے آواز دے کر روک بھی نہ پایا۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو الفاظ اس کی زبان سے نکلے تھے، وہ کسی کے لیے مرہم، سکون اور مسرت کا باعث بن سکتے تھے۔

لیکن اس کی ذات کے لیے ہرگز نہیں۔

وہ جانتا تھا کہ اس کے الفاظ روشنی کے لیے قطعاً روشنی نہیں تھے۔

اس نے یقیناً انہیں اپنی تضحیک ہی جانا ہوگا۔

لیکن وہ کیا کرتا۔۔۔؟
وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔۔۔اس قدر مجبور کہ یقین دلانے کے لیے اس کے پاس نہ الفاظ کا سہارا تھا، نہ کوئی ایسی داستان جسے سنا کر وہ بتا سکتا کہ روشنی اسے اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز کیوں ہو گئی تھی۔

ادھر روشنی اب تک رضا کے الفاظ کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔

وہ نہ جانے کتنی بار آئینہ دیکھ چکی تھی۔ مگر آئینے نے ہر بار پہلے سے بھی زیادہ سفاک سچائی کے ساتھ اسے اس کا اصل روپ دکھایا تھا۔

چہرے کا کوئی نقش ایسا نہ تھا جس پر نظر کچھ دیر ٹھہر جاتی۔

آنکھیں بہت چھوٹی تھیں۔۔۔اتنی چھوٹی کہ اگر وہ ذرا سا بھی مسکرا دیتی تو محسوس ہوتا جیسے آنکھوں کی جگہ صرف ایک باریک سی لکیر رہ گئی ہو۔

ناک پھیلی ہوئی تھی، رخساروں کی ہڈیاں نمایاں تھیں، ہونٹ بھرے بھرے تھے اور منہ نسبتاً چھوٹا تھا۔

پیشانی البتہ کھلی اور صاف تھی۔

اور رنگ۔۔۔!

یوں لگتا تھا جیسے کسی نے مٹی میں ہلدی ملا کر کوئی انوکھا سا رنگ تخلیق کرنے کی کوشش کی ہو۔
اور قسمت کا ایک اور سنگین مذاق۔۔۔اس کا نام، روشنی۔

اسے اکثر محسوس ہوتا تھا جیسے جان بوجھ کر اسے اذیت میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ نام رکھا گیا ہو۔

اچانک اپنے نام کی پکار سن کر وہ ایک ٹھنڈی سانس کے ساتھ آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی۔

اس کی سوتیلی ماں اپنی خوب صورتی کو مزید نکھارنے کے لیے میک اپ کر رہی تھیں اور انہیں روشنی کی مدد درکار تھی۔ نقلی پلکیں ان سے لگائی نہیں جا رہی تھیں۔

روشنی نے ایک نظر ان پر ڈالی۔

گھنے سیاہ بال، چمکتی ہوئی رنگت اور سلیقے سے کیا گیا میک اپ۔۔۔وہ بلاشبہ ایک دلکش عورت تھیں۔

روشنی دل ہی دل میں تسلیم کر چکی تھی کہ اس کے باپ کے ساتھ یہی عورت جچتی تھی۔ وہ صرف نام کی نفیس نہ تھیں، ان کی پوری شخصیت نفاست کا پیکر تھی۔

وہ سوچوں میں گم پلکیں لگا کر ہٹی تو نفیس خاتون مسکرا کر بولیں:

"بہت شکریہ، روشنی بیٹا۔

میں کاش تمہیں بھی ساتھ لے جا سکتی، مگر تم نے آج تک مجھے ماں کا درجہ نہیں دیا۔ میرے کہنے پر کبھی پارلر جا کر کوئی ٹریٹمنٹ نہیں کروائی۔ شخصیت میں تبدیلی گھر بیٹھے نہیں آتی۔۔۔مگر تم مانتی ہی نہیں۔”

روشنی نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا:

"آنٹی، مجھے لوگوں اور ہجوم سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ میں۔۔۔”

نفیس خاتون نے اس کی بات کاٹ دی۔

"ٹھیک ہے، جیسے مرضی رہو۔ تمہاری زندگی ہے۔ میں تو صرف بہتری لانے کی کوشش کرتی ہوں، مگر آخر سوتیلی ہوں نا۔۔۔سگی تو کبھی ہو نہیں سکتی۔”

روشنی کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر اسی لمحے اس کے بابا کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔ نفیس خاتون اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی ہوئی اس کے پاس سے یوں گزر گئیں جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔

یہ سب بچپن سے ہوتا آ رہا تھا۔

اس کے ادھورے رہ جانے والے جملے اس کے اندر گھٹن پیدا کر دیتے تھے۔ ان کہی باتیں اس کے دل پر ایسی برف گراتی تھیں کہ اس کے سارے جذبات منجمد ہو جاتے۔

البتہ وہ کاتبِ تقدیر سے شکوہ نہیں کرتی تھی۔

اس نے کہیں پڑھا تھا:

"جو تقدیر میں لکھا ہے، وہ گلہ کرنے سے نہیں بدلتا۔ ہاں، تقدیر لکھنے والا ضرور ناراض ہو جاتا ہے۔”

اور وہ اسے ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی۔ ایک وہی تو تھا جس کے حضور حاضر ہو کر اسے سکون ملتا تھا۔

وہ واپس اپنی تنہائی میں لوٹ آئی۔

اس کا کمرہ اس کے عمدہ ذوق کا آئینہ دار تھا۔ ہر چیز قرینے سے سجی ہوئی تھی۔ پردوں سے لے کر کتابوں کی الماری تک، ہر شے میں نفاست جھلکتی تھی۔

اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھنا شروع کیا۔

پہلا لفظ۔۔۔احمد رضا۔

اسے خود خبر نہ ہوئی تھی کہ کب اس کی ڈائری اس ایک نام کے گرد گھومنے لگی تھی۔

اسے یاد آیا کہ آج بھی اس نے کتنی تڑپ سے اسے پکارا تھا، مگر وہ اس کی آواز کو نظر انداز کر کے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔

دونوں کا بچپن ایک ہی گھر میں گزرا تھا، مگر دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق تھا۔

احمد رضا گول مٹول، سرخ و سفید رنگت اور دلکش نقوش والا بچہ تھا، جسے دیکھ کر شہزادوں کا گمان ہوتا تھا۔

جبکہ وہ خود دبلی پتلی، خاموش اور بے رونق سی لڑکی تھی۔

اسے آج بھی یاد تھا، جب احمد رضا پہلی بار نفیس خاتون کے ساتھ اس گھر آیا تھا تو اسے دیکھتے ہی گھبرا کر ان کے پیچھے چھپ گیا تھا۔

شاید اسی دن سے روشنی کے دل میں اس کے لیے ایک چبھن سی پیدا ہو گئی تھی۔

ایک دن اس نے اپنی دادی کو کہتے سنا تھا:

"رمیز احمد، تم نے اتنی خوب صورت عورت سے شادی کر کے روشنی پر ظلم کیا ہے۔ یہ حسن اسے ساری زندگی احساسِ کمتری میں مبتلا رکھے گا۔”

اس کے جواب میں اس کے باپ نے تلخی سے کہا تھا:

"کیا آپ نے میری پہلی شادی کرواتے وقت سوچا تھا کہ میری اولاد کیسی ہوگی؟ آپ کو تو بس اس کا سلیقہ پسند آیا تھا۔ اچھا ہوا وہ دنیا سے چلی گئی، ورنہ مجھے اس پر مجبوری میں سوتن لانی پڑتی۔”

"ششش۔۔۔آہستہ بولو۔ روشنی سن لے گی۔”

دادی نے فوراً ٹوکا تھا۔

"تم بہت بے حس اور بے رحم ہو۔”

رمیز احمد غصے سے وہاں سے چلے گئے تھے۔

اور اسی دن روشنی کے ذہن میں یہ بات ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی تھی کہ اس کے بابا۔۔۔بے رحم ہیں۔

اس نے ڈائری کھولی اور لکھنا شروع کیا:

"میری زندگی میں دو مرد ہیں۔۔۔ ایک میرا باپ، اور دوسرا وہ۔

وہ میرا کچھ نہیں لگتا۔ نفیس خاتون، جو میری سوتیلی ماں ہیں، ان کا یتیم بھانجا ہے۔ والدین کی وفات کے بعد وہ ان کے ساتھ ہمارے گھر مستقل طور پر آ گیا تھا۔

مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں۔

وہ بہت خوب صورت ہے تو اس میں اس کا کوئی کمال نہیں۔۔۔ اور اگر میں بدصورت ہوں تو اس میں میرا کیا قصور؟

مجھے اللہ سے کوئی شکایت نہیں۔

لیکن اس شخص سے ضرور ہے۔۔۔

جو میری بدصورتی کا مذاق اڑانے کے لیے محبت جیسے پاکیزہ جذبے کا سہارا لے رہا ہے۔

وہ مجھ جیسی لڑکی سے محبت کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟

مجھ سے محبت ممکن ہی نہیں۔

پھر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟

میرا گھر اس کی پناہ گاہ بنا۔۔۔ میرے والد اس کا سہارا بنے۔۔۔ میری دادی نے اسے محبت اور شفقت دی۔

کیا وہ ان سب احسانوں کا بدلہ میرے جذبات کے ساتھ کھیل کر دے گا؟

اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔”

لکھتے لکھتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

جب بیدار ہوئی تو گھر میں دھیمی دھیمی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔ اس نے ڈائری بند کی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔

ٹی وی لاؤنج میں کچھ مہمان بیٹھے تھے۔ دو خواتین اور ایک مرد۔

روشنی کو دیکھتے ہی نفیس خاتون صوفے سے اٹھیں اور بڑی محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔

ان خواتین میں سے ایک عمر رسیدہ خاتون نے اسے غور سے دیکھا اور پوچھا:

"یہ روشنی ہے؟”

ان کے لہجے میں حیرت اور ناگواری عجیب انداز سے گھلی ہوئی تھی۔

روشنی نے ایک نظر اپنے والد پر ڈالی۔ انہوں نے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا تھا، جبکہ نفیس خاتون بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپا رہی تھیں۔

وہ کچھ پوچھنے ہی والی تھی کہ احمد رضا اندر آ گیا۔

اس کی پُروقار شخصیت نے محفل کا رخ اپنی جانب موڑ لیا، خصوصاً وہاں بیٹھی نوجوان لڑکی کی نظریں اسی پر جم گئیں۔

سلام دعا کے بعد وہ بیٹھا تو اس کی نظر فوراً روشنی پر گئی۔ اس کے چہرے پر الجھن اور بیزاری صاف نمایاں تھی۔

"آنٹی، تعارف تو کروائیے۔”

احمد رضا کے کہنے پر نفیس خاتون بولیں:

"یہ ہمارے سوشل سرکل کے دوست ہیں۔ اپنے بیٹے کا رشتہ روشنی کے لیے لے کر آئے ہیں۔”

یہ سن کر جیسے وقت ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

روشنی اور احمد رضا، دونوں کے چہروں پر حیرت اور دکھ ایک ساتھ ابھر آئے۔

بے اختیار دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے روشنی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔

احمد رضا کچھ دیر گم صم بیٹھا رہا، پھر اجازت لے کر اپنے کمرے میں آ گیا۔

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔

وہ تو ہمیشہ یہی سمجھتا رہا تھا کہ روشنی کبھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوگی، اور شاید کوئی اس کے لیے رشتہ بھی نہ لائے۔

مگر آج سب کچھ اچانک بدل گیا تھا۔

اسے بے شمار خدشوں نے گھیر لیا۔

ان میں سب سے اذیت ناک خیال یہ تھا کہ وہ چلی جائے گی۔۔۔ اور اس کے بارے میں سوچنے کا حق بھی اس سے چھن جائے گا۔

یہ تصور ہی اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

بچپن سے لے کر آج تک کے بے شمار منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔

اسے یاد آیا، پہلی بار روشنی کو دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا اور اس کی چیخ نے ایک معصوم دل کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیا تھا۔

جوں جوں شعور پختہ ہوتا گیا، وہ سمجھنے لگا کہ روشنی اسے ناپسند کیوں کرتی ہے۔

کافی عرصے تک وہ خود بھی حیران رہا کہ ایک معمولی سی غلطی پر وہ اسے معاف کیوں نہیں کر رہی۔

پھر کب اس کی ناراضی احمد رضا کی ہمدردی بنی، اور ہمدردی محبت میں بدل گئی، اسے خود بھی خبر نہ ہو سکی۔

اسے بس اتنا یاد تھا کہ روشنی کی آنکھیں ہمیشہ نم رہتی تھیں۔

وہ بچوں کے ساتھ کھیلتی نہیں تھی۔

بچے اس کی شکل کا مذاق اڑاتے تو احمد رضا کا دل بیٹھ جاتا۔

اور پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوا کہ روشنی کی ایک مسکراہٹ اس کے پورے دن کو روشن کر دیتی ہے۔

ایک دن جب وہ چھپکلی سے ڈر کر اس کے پیچھے آ چھپی تھی تو پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ وہ روشنی کے لیے پناہ گاہ بننا چاہتا ہے۔

اسی لمحے شاید محبت نے اس کے دل میں جڑ پکڑ لی تھی۔

سچ ہی تو ہے۔۔۔ محبت کا پودا خود رو ہوتا ہے۔

اسے نہ بویا جاتا ہے، نہ سینچا جاتا ہے۔

وہ خود ہی دل کی زمین میں اگتا ہے اور پھر تناور درخت بن جاتا ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ نفیس خاتون سے بات کرے گا اور روشنی کا ہاتھ مانگ لے گا۔

مگر جب کمرے سے باہر نکلا تو منظر کچھ اور تھا۔

بڑے ہال میں سب افرادِ خانہ جمع تھے۔

روشنی سر جھکائے بیٹھی تھی۔

یوں لگتا تھا جیسے عدالت لگی ہو، کٹہرے میں روشنی کھڑی ہو اور اس کا کوئی وکیلِ صفائی موجود نہ ہو۔

مقدمہ صرف ایک تھا:

"اس شکل و صورت کے ساتھ اس کی عمر گزر جائے گی، کوئی اسے بیاہنے نہیں آئے گا۔”

نفیس خاتون شکوہ کر رہی تھیں کہ روشنی نے کبھی ان کی بات نہیں مانی۔

احمد رضا کو بچپن کا ایک منظر یاد آ گیا۔

سکول جانے سے پہلے روشنی ان کے پاس آ کر کہتی:

"آنٹی، مجھے بھی کریم لگا دیں۔”

اور نفیس خاتون ہنس کر جواب دیتیں:

"آپ کے لیے ابھی کوئی کریم ایجاد نہیں ہوئی۔”

وہ معصومیت سے سر ہلا کر چلی جاتی۔

آج وہی خاتون سب کے سامنے یہ شکوہ کر رہی تھیں کہ روشنی ان کے ساتھ پارلر نہیں جاتی۔

پھر رمیز صاحب نے بھی اپنی باتیں شروع کر دیں۔

روشنی خاموش بیٹھی سب سنتی رہی۔

احمد رضا نے موقع غنیمت جانا۔

معاملہ سمجھنے کے بعد اس نے اچانک اعلان کر دیا:

"میں روشنی سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ اور اسی سے شادی کروں گا۔”

یہ سنتے ہی نفیس خاتون کے چہرے پر اندھیری رات اتر آئی۔

دادی کی آنکھوں میں امید کے جگنو جگمگا اٹھے۔

رمیز صاحب حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔

اور روشنی۔۔۔

اس نے اپنے چکراتے سر کو تھاما۔۔۔ اور زمین پر گر گئی۔
جب روشنی کو ہوش آیا تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔ دادی اس کے سرہانے بیٹھی دم کر رہی تھیں۔

آنکھ کھلتے ہی اس نے دھیمی آواز میں پکارا:

"دادی۔۔۔”

دادی فوراً کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھیں۔ اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا اور شفقت سے پوچھا:

"کیا ہوا تھا بیٹا؟”

روشنی نے مدھم لہجے میں جواب دیا:

"سر درد تو رہتا ہے دادی۔۔۔ اور کبھی کبھی چکر بھی آتے ہیں۔ مگر اس طرح بے ہوش پہلے کبھی نہیں ہوئی۔”

دادی نے اسے دوا دی، دم کیا اور پھر نرمی سے بولیں:

"دیکھو روشنی بیٹا۔۔۔ احمد رضا بہت اچھا لڑکا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ مجھے تو وہ تمہارے حق میں مانگی گئی دعاؤں کا صلہ لگتا ہے۔ اس رشتے کو اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کر لو۔”

روشنی خاموشی سے سر ہلاتی رہی۔

کچھ دیر بعد دادی کمرے سے چلی گئیں۔

وہ تنہا بیٹھی دیر تک پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر اچانک اٹھی اور نفیس بیگم کے کمرے کی طرف چل دی۔

دروازے تک پہنچ کر وہ دستک دینے ہی والی تھی کہ اندر سے آوازیں سنائی دیں۔

نفیس بیگم کہہ رہی تھیں:

"رضا، ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔ تم خوب صورت، پڑھے لکھے اور کامیاب انسان ہو۔ تمہارے لیے ایک سے ایک بہتر رشتے موجود ہیں۔ آخر تم اس لڑکی کو کیسے پسند کر سکتے ہو؟

مجھے یقین ہے، اس کی دادی اور اس نے مل کر تمہیں بہلا لیا ہے۔”

احمد رضا کا ضبط جواب دے گیا۔

"خدا کے لیے روشنی کی کردار کشی مت کیجیے۔ اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہوں۔”

نفیس بیگم نے تلخی سے کہا:

"اس کی ماں بدصورت تھی۔۔۔ وہ خود بدصورت ہے۔۔۔ اور اگر تمہاری اولاد بھی۔۔۔”

ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

روشنی اندر داخل ہو چکی تھی۔

احمد رضا چونک گیا۔

اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور ہونٹ غیر معمولی طور پر زرد و سیاہی مائل لگ رہے تھے۔

روشنی نے سیدھا نفیس بیگم کی طرف دیکھ کر کہا:

"میں آپ کے ساتھ پارلر جانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ جو کہیں گی، میں کروں گی۔

لیکن میں احمد رضا سے شادی نہیں کروں گی۔

میں اس سے نفرت کرتی ہوں۔

میں آج تک نہیں بھولی کہ اس نے مجھے پہلی بار دیکھ کر کس طرح چیخ مار کر میری توہین کی تھی۔”

یہ کہہ کر وہ رکی نہیں۔

مڑ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔

نفیس بیگم کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی، جبکہ احمد رضا ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح سر جھکائے وہاں سے نکل گیا۔

اگلے دس دن احمد رضا نے روشنی کو گھر میں نہیں دیکھا۔

وہ نفیس بیگم کے ساتھ کبھی پارلر، کبھی کلینک اور کبھی مارکیٹ میں ہوتی۔

مہنگے ترین بیوٹی پارلرز، جلد کے ماہرین، مختلف علاج، نئے ملبوسات، نئے انداز۔۔۔ گویا برسوں کی محرومیاں چند دنوں میں پوری کی جا رہی تھیں۔

مگر احمد رضا کے لیے یہ دس دن قیامت سے کم نہ تھے۔

بڑھی ہوئی شیو، سوجی ہوئی آنکھیں اور بکھرے ہوئے بال اس کے حال کی گواہی دے رہے تھے۔

دل لگی، دل کی لگی بن چکی تھی۔

اور اب اسے صرف ایک خوف تھا۔۔۔ روشنی کو کھو دینے کا خوف۔

اس شام اس نے فیصلہ کیا کہ آج وہ آخری بار اس سے بات کرے گا۔

پھر جو تقدیر کا فیصلہ ہوگا، قبول کر لے گا۔

وہ لان میں رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔

سورج غروب ہو چکا تھا اور آسمان پر سرخی کی آخری لکیر باقی تھی۔

اسی لمحے اس نے روشنی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔

وہ بے اختیار اسے دیکھتا رہ گیا۔

سیاہ اور آف وائٹ لباس میں ملبوس، کھلے بالوں کے ساتھ وہ واقعی مختلف لگ رہی تھی۔

شاید پہلی بار اس نے خود کو دنیا کے معیار کے مطابق خوب صورت بنانے کی کوشش کی تھی۔

روشنی اس کے قریب آ کر رک گئی۔

"دیکھو۔۔۔ اب میں قابلِ قبول لگتی ہوں نا؟

اب مجھ پر ترس کھانا چھوڑ دو۔

اپنی ہمدردی کو محبت کا نام مت دو۔”

وہ پلٹ کر جانے لگی تو احمد رضا کی آواز بلند ہو گئی۔

"مجھے تم سے ہمدردی نہیں۔۔۔ محبت ہے!

ایسی محبت جسے شاید میں خود بھی بیان نہیں کر سکتا۔

ہمدردی میں انسان کسی کا سہارا بنتا ہے، مگر اسے اپنی زندگی نہیں بناتا۔

تم میری زندگی ہو، روشنی!”

وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

"میری طرف دیکھو۔

کیا تمہیں میرا حال نظر نہیں آ رہا؟

میں اندر سے ٹوٹ چکا ہوں۔

خدا کے لیے مجھے مت مارو۔۔۔”

اس کی آواز بھرّا گئی۔

روشنی نے پہلی بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

اور عین اسی لمحے اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔

ہر چیز اس کی نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی۔

اگلے ہی لمحے وہ زمین پر گر چکی تھی۔

احمد رضا کی گھبرائی ہوئی چیخ نے پورے گھر کو اکٹھا کر لیا۔

ڈاکٹر کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کسی قیامت سے کم نہ تھے۔

روشنی کو برین ٹیومر تھا۔

اور مرض آخری مرحلے میں پہنچ چکا تھا۔

ڈاکٹر کے مطابق اس کے پاس شاید چند دنوں سے زیادہ وقت نہیں تھا۔

یہ خبر دادی اور احمد رضا پر بجلی بن کر گری۔

مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ روشنی سب سے زیادہ پُرسکون دکھائی دے رہی تھی۔

جیسے وہ یہ خبر پہلے ہی سے جانتی ہو۔

اس نے باقی دن گھر میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔

ادھر احمد رضا زندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہ رہا۔

اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔

اسے بار بار یہی احساس کھائے جا رہا تھا کہ کاش وہ محبت کا اظہار کرنے کے بجائے صرف ایک اچھا دوست بن جاتا۔

شاید تب روشنی اس سے اپنے درد بانٹ لیتی۔

شاید وہ اس کی بیماری جان لیتا۔

شاید۔۔۔ بہت کچھ بدل جاتا۔

مگر اب سب شاید میں بدل چکا تھا۔

چوتھے دن وہ بخار میں تپتا ہوا کمرے سے نکلا۔

اسے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے تھا۔

وہ لان میں پہنچا تو روشنی کرسی پر بیٹھی تھی۔

وہ خاموشی سے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

اور اچانک اس کے پاؤں پکڑ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔

وہ روتا رہا۔

پوچھتا رہا۔

منت کرتا رہا۔

مگر روشنی خاموش رہی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اس کی ڈائری کے تمام صفحات پلٹ کر دیکھے۔ ہر صفحہ آنسووں سے بھیگا ہوا تھا۔
کرب کی شدت اسے اپنے بائیں پہلو میں محسوس ہوئی۔

آنسوؤں سے بھیگے ہوئے صفحات پلٹتے پلٹتے وہ آخری صفحے تک پہنچا۔

وہاں لکھا تھا:

"احمد رضا!

تمہاری محبت کی سچائی میرے وجود کے ریشے ریشے میں اتر چکی ہے۔

میں مانتی ہوں کہ تم نے میرا دل جیت لیا ہے۔

مگر میں کبھی اس کا اظہار نہیں کروں گی۔

اس لیے نہیں کہ میں جانتی ہوں کہ میں مر جاؤں گی۔

بلکہ اس لیے کہ چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خوب صورت ہوتا ہے۔

اور میں یہ احساس کھونا نہیں چاہتی ۔

میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے کبھی نہ بھولو۔

مجھے معاف کر دینا۔

تمہاری محبت نے مجھے خود غرض بنا دیا ہے۔

میں تمہاری یادوں میں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔

شاید اسی لیے مرنا مجھے جینے سے آسان لگتا ہے۔

مجھے اپنی بیماری کا علم بہت پہلے سے ہے۔

لیکن میں تمہاری محبت کے احساس کے ساتھ مرنا چاہتی ہوں۔

کیونکہ اس احساس کے ساتھ جینا میری قسمت میں نہیں ہے۔

مجھے معاف کر دینا۔۔۔”
وہ اٹھا اور بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔ آج اس کی روشنی کو تاریک قبر میں گم ہوے تیسرا دن تھا۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x