Top News
آنکھوں کے ذریعے مکمل صحت کا جائزہ: گوگل کی نئی انقلابی تحقیق

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کے جسم کے اندرونی نظام کا آئینہ بھی ہیں؟ حالیہ سائنسی تحقیقات، خاص طور پر گوگل ہیلتھ کی کوششوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے آنکھوں کی تصاویر سے دل، گردوں اور خون کی بیماریوں کی قبل از وقت تشخیص ممکن ہے۔
آنکھ کے پردے (Retina) سے دل کی صحت کا حال
آنکھ کے پچھلے حصے، جسے ‘فنڈس’ (Fundus) کہا جاتا ہے، کی تصاویر سے ڈاکٹر اب خون کے نمونے لیے بغیر کئی اہم معلومات حاصل کر سکتے ہیں:
- بلڈ پریشر اور سگریٹ نوشی: AI ماڈلز آنکھ کی رگوں کے پھیلاؤ سے بلڈ پریشر اور سگریٹ نوشی کی عادت کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔
- خون کی کمی (Anemia): آنکھ کے پردے کی تصاویر ہیموگلوبن کی سطح کو اتنی ہی درستگی سے بتا سکتی ہیں جتنا کہ خون کا باقاعدہ ٹیسٹ۔
- عمر رسیدگی کی گھڑی (Aging Clock): ‘eyeAge’ نامی ٹیکنالوجی انسان کی حیاتیاتی عمر کا تعین کرتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اعضاء کتنی تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں۔
آنکھ کے بیرونی حصے سے شوگر اور گردوں کی تشخیص
جدید تحقیق میں اب صرف آنکھ کے سامنے والے حصے کی عام تصویر سے بھی سنگین بیماریوں کی علامات تلاش کی جا رہی ہیں:
- ذیابیطس (Diabetes): آنکھ کے باہری حصے سے خون میں شوگر کی سطح (HbA1c) اور ذیابیطس سے ہونے والے نقصان کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
- گردوں کی بیماری: گردوں کی کارکردگی کے اشارے جیسے eGFR اور ACR اب آنکھ کے باہری ٹشوز سے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
- کولیسٹرول: خون میں چربی (Lipids) کی زیادتی کی علامات بھی آنکھوں کی بیرونی تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی کیوں اہم ہے؟
یہ طریقہ کار غیر جارحانہ (Non-invasive) ہے، یعنی اس میں سوئی چبھونے یا خون نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد، جہاں جدید لیبارٹریز میسر نہیں، آسانی سے اپنی صحت کا معائنہ کروا سکیں گے۔
