غزل

غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

غزل

چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی 

زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی 

ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں 

تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی 

پروانے بھی تو ہوں گے انھی شب زدوں کے بیچ 

رکھنا تم اپنی آنچ کو مدھم کبھی کبھی 

سورج بھی اس کے بام سے ٹوٹا ہوا نہ ہو 

راضی کبھی کبھار تو برہم کبھی کبھی 

جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کا حوصلہ 

ایسے جھنجھوڑتا ہے ترا غم کبھی کبھی 

گاہے بگاہے اس کو بھی سجدے کیے گئے 

جیسے خدا سے ملتا ہو آدم کبھی کبھی 

پانی گزر گیا تو زمیں سخت ہوگئی 

خشکی بھی کرنے لگتا ہے یہ نم کبھی کبھی 

ہر عہد تو مرض کو مرض مانتا نہیں 

چپ رہتے ہیں مسیحا و مریم کبھی کبھی

وہ اس زمیں پہ ہوتے ہوئے مجھ سے دور ہے 

یہ دکھ نکالتا ہے مرا دم کبھی کبھی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x