غزل
غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر
غزل
مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں
لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں
پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے
اب تو کتابِ عشق کے ہم پاسدار ہیں
پھر آگہی نے دی مجھے روشن خیالیاں
ظلمت میں روشنی پہ ہی دار و مدار ہیں
چاہت تری مرے لیے واحد خوشی بنی
ورنہ تو عمر بھر کے میاں سوگوار ہیں
اس زندگی کی تلخیوں کا پردہ جانیے
یہ مسکراہٹیں بھی کہاں خوشگوار ہیں
ہر کوئی اپنی ذات سے ہی ہے جڑا ہوا
گہرے تضاد عہد کے یوں آشکار ہیں
تم آبروئے عشق و محبت ہو اس لیے
ہم لوگ تیری راہ کا گرد و غبار ہیں
جن راستوں سے بیر تھا عالم کو آ کے دیکھ
ان راستوں پہ آج بھی ہم استوار ہیں




