راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

راوی میں پِرانہاز*
غضب ہے خدا کا !!
خبر ہے کہ پھر نا گہاں
جو کوئی شخص راوی میں اُترا
تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے!
پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟
بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی
کہاں راوی جہلم کے پانی میں آئی؟
چناب اور سندھو میں اِس کی
ہے افزائشِ نسل کیونکر؟
چلو سوکھے ستلج کی چھوڑو
مگر یہ بدیسی بلا
برف زاروں کی جھیلوں میں اتری کہاں سے
عجب ماجرا ہے !
عجب ماجرا ہے !
کہوں کیا مگر
جب سے گدلے ہوئے جھیل دریا مِرے
میٹھے پانی کی سب مچھلیاں رفتہ رفتہ
ہی کمیاب تر ہو گئیں
چاندنی ندّی نالوں میں بہتی نہیں
ناں ستارے چمکتے ہیں جھیلوں پہ شب میں
نہ پریاں اترتیں ہیں سیف الملوکی
نہ دریاؤں میں وہ روانی رہی
اور سندھو کی غوّاص بے نور بُلّھن**۔۔۔
کہیں گم ہوئی
یہ تو ممکن نہیں ہے
پِرانہاز کو اپنے بھیتر چھپائے
کہیں ایک تاریک شب
ہفت اقلیم کے پار سے آئے بادل
مِرے جھیل دریاؤں اوپر گزرتے ہوئے
اُن کو برسا گئے ہوں۔۔۔
تو پھر جو قرینِ قیاس ایک امکاں بچا ہے
اسے سوچ کر دل دہلتا ہے میرا !
*Piranhas
** ۔Indus Dolphin کا مقامی نام




