نظم

کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

کس جہت میں یہ بیاباں ہے

 

اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے

کس جہت میں یہ بیاباں ہے 

جہاں گَرد کے آسیب 

بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں 

اور یک بارگی پیچھے کی طرف

میرے قدم مُڑتے ہیں

ایک پردہ سا چمک اُٹھتا ہے 

حدِّ ناخواب سے مَیں

جُزو در جُزو اُسے دیکھتا ہوں! 

اُس کی باندھی ہُوئی زُلفوں میں 

چنبیلی کا مہکتا ہُوا پُھول

اُس کے چہرے کے دلآویز خطوط

اُنگلیاں لانبی،

بڑھے ناخنوں والی، مخروط

پاؤں میں کاسنی پوشاک کی رنگت کے

نگینوں سے دَمکتے سینڈل

اور سُرمہ لگی آنکھوں میں

کسی خواب کے اُڑتے بادل 

سیم گوں، لہریے لیتی ہُوئی جھالر سے سجا 

اُس کا ڈھلکتا ہُوا رنگیں آنچل

سُرخ انگور سے رَس دار، بھرے ہونٹ

صراحی سی، چمک دار سجیلی گردن

مخملیں گال دہکتے ہُوئے، 

گدرایا ہُوا چاہِ ذقن

موتیوں والے ستاروں سے کَڑھا

 اُس کا حریری دامن

جیسے پڑتی ہوں شُعاعیں 

کسی فانوسِ فلک سے چَھن کر

جیسے وارفتگی کی دُھند میں 

وُہ سامنے بیٹھی ہو 

دھنک اُوڑھ کے تتلی بَن کر

تہہ بہ تہہ ذات میں سِمٹی ہُوئی

بے صوت سی اِک جھیل میں

خُود اپنے ہی دیدار کی تجمیل میں

سَرمست کسی نشّۂ دلداری سے

جیسے کونپل ابھی نکلی ہو کسی کیاری سے

ہُو بہ ہُو میرے تصوّر کی پَری

حفظِ مراتِب والی 

ایک بدلے ہُوئے قالِب والی

اور مَیں اُس کے سراپے کی اُبھرتی ہُوئی تمثال میں

گرتا ہی چلا جاتا ہُوں پاتال میں

ایسے ہُوا محسُوس مُجھے 

حُسن کر دیتا ہے مایُوس مُجھے

کیسی خُوشبو ہے 

جو اندر، کبھی باہر کی طرف کھینچتی ہے

مَیں گرفتارِ تمنّا ہُوں، ہوَس کار نہیں

صرف اِک چاند سی عورت مُجھے درکار نہیں

سینکڑوں مَرد چُھپے ہیں مُجھ میں 

یا کئی درد چُھپے ہیں مُجھ میں!

اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے

جس کو سیماب سے گوندھا گیا، وُہ گِل کیا ہے

یہ حقیقت ، یہ سراب اور یہ محمِل کیا ہے

ناقۂ وقت کہاں ہے رُوپوش 

کان میں آتی ہے کس سمت سے آوازِ جرَس

گَرد کے پار یہ جِھلمِل کیا ہے

اے خُدا، جسم کی منزِل کیا ہے!!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x