اُردو ادبافسانہ

بسنت/ کرن نعمان، کراچی

لاہور کا اسمان رنگوں سے بھرا ہوا تھا ۔ ہر طرف پتنگیں ہی پتنگیں دکھائی دے رہی تھیں ۔ چھوٹی بڑی گڈّیاں گڈّے اور بوکاٹا کے نعرے ۔ آخر کار دو دہائیوں کے بعد حکومت وقت نے لاہور کے شہریوں کو بسنت منانے کی اجازت دے دی تھی اس لیے پتنگ بازی کا سلسلہ پچھلے کئی دنوں سے جاری تھا ۔ سورج مغرب میں اپنی آخری کرنیں بکھیر کر غروب ہوچکا تھا ۔ بسنت کی رات سرچ لائٹوں میں جگمگا اٹھی تھی ۔ آسمان پر رنگ اور گلی محلوں میں شور بھی زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ میں جب جب کھڑکی سے آسمان پر نگاہ ڈالتی میرا دل چھوٹے بچے کی طرح ہمکنے لگتا ۔ مجھے اپنے بچپن کی وہ بہاریں یاد آنے لگیں جو میں نے گلیوں میں بھاگ بھاگ کر پتنگیں لوٹتے اور صغریٰ لالا کی چھت پر اپنے ساتھ کے بچوں کے ساتھ بو کاٹا بو کاٹا کے نعرے لگاتے ہوئے گزاری تھیں ۔صغریٰ لالا میری اماں کی رشتے میں دور پرے کی خالہ تھیں ۔ خالہ خالہ کہلاتے نجانے کب ان کا نام بگڑا اور وہ جگت بھر کے لیے صغریٰ لالا ہو گئیں ۔ ان دنوں پتنگ میں تناویں باندھ کر کنّی دینا پھر ڈھیل دے دے کر أڑانا مجھے خوب آتا تھا اور جب کوئی پتنگ کٹتی تو میری سیٹیوں سے پورا محلہ گونجتا تھا ۔ ابّا حیران ہوتے تھے کہ اتنی سی لڑکی کے حلق سے اتنی بڑی سیٹی کیسے نکلتی ہے لیکن پھر جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی میری سیٹیاں میرے حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئیں ۔ مجھے گھر کی چار دیواری کے اندر محدود کر دیا گیا ۔ شادی سے پہلے کبھی کبھار سہیلیوں کے گھر جا کر چوری چھپے اُڑا لیا کرتی تھی مگر وہ بسنت والا مزہ نہیں آتا تھا ۔
بسنت پر پابندی لگنے سے قبل تک میرے خاندان میں جوان لڑکیوں کو گھر کے مردوں کے ساتھ پتنگ بازیوں کی اجازت نہیں تھی پر اب کسی حد تک زمانہ بدل گیا ہے ۔ صبح میں نے بچوں کو باتیں کرتے سنا تھا کہ خاندان کے فلاں گھر میں لڑکے اور لڑکیاں مل کر پتنگ بازی کر رہے ہیں ۔ میں جب جوان تھی تب ایسا نہیں تھا خاندان میں بڑی پابندیاں تھیں ۔ دس گیارہ سال سے بڑی عمر کی لڑکیاں چھتوں پر جا کر بسنت نہیں منا سکتی تھیں ۔ انہیں گھر کے اندر کھڑکیوں سے ہی آسمان دیکھ کر اپنا دل بہلانا پڑتا تھا لیکن ارمان تھے کہ کسی صورت قابو نہیں آتے تھے ۔ پابندیوں کے باوجود بھی لڑکیاں پیلے جوڑے بناتی تھیں، پیلی چوڑیاں پہنتی تھیں ،بسنت بہار کے رنگوں سے اپنے دوپٹے رنگا کرتی تھیں ،طرح طرح کے پکوان بنانے میں ماؤں کا ہاتھ بٹایا کرتی تھیں ،ایک دوسرے کے گھروں میں جمع ہو کر خوب ہلا گلا کیا کرتی تھیں۔
قدرت نے فطرت پر بند نہیں باندھا لیکن مردوں کے سماج نے عورت کی فطرت پر ہمیشہ بند باندھے اور جذبات کے اظہار کو ہمیشہ ہی محدود کیے رکھا ۔ اب مجھے یہ جان کر خوشی ہو رہی تھی کہ چلو اس دور میں پابندیاں کچھ کم ہوئی ہیں اور لڑکیوں بالیوں کو بھی خوشیاں منانے کی اجازت ملی ہے ۔ میرے دل میں بھی الہڑ جوانی والے ارمان بیدار ہو رہے تھے میرا دل بھی چاہ رہا تھا کہ ٹھنڈی ہواؤں میں سورج کی حدت کو محسوس کروں ، آسمان پر چھائے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں بھر لوں ۔ کسی کسی وقت مجھے خود اپنے ہی خیالات پر حیرت ہو رہی تھی اور کبھی سوچتی کہ آخر اب اس عمر میں کہاں جوان بچے بچیوں اور مردوں کے بیچ اچھی لگوں گی ۔ اسی لمحے نظر قدا٘دم آئینے پر پڑی تو بے اختیار ہاتھ سر کے بالوں پر چلا گیا ۔ چاندی کے تار کالے بالوں سے زیادہ نمایاں ہو رہے تھے ۔ آنکھوں پر موٹے عدسے والا چشمہ بھی مجھے اپنی ہی نگاہوں میں کھٹک رہا تھا ۔ قدرے بھاری جسم اب ڈھلکا ڈھلکا سا تھا ۔ کمر میں خم بھی آتا جا رہا تھا اور چہرے پر جوانی کی لالی کی جگہ بڑھاپے کی فکروں سے بھری لکیریں بھی نمودار ہورہی تھیں ۔ ایک سناٹا سا کہیں میرے اندر گونجا ۔ کچھ دیر میں ساکت کھڑی خود کو دیکھتی ہی رہی لیکن اگلے ہی پل کچھ دوسری سوچوں کا شور اُمڈ آیا
” آخر اس سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔ یہ سب چیزیں انسان کو اس کی فطری خواہشات سے دور تو نہیں کرتیں، اس کے اندر کہ مچلتے ارمانوں کو پابند سلاسل تو نہیں کرتیں ۔ کیوں ہم نے خود کو محدود کر لیا ہے ، کیوں ہم خوشی کو بھرپور انداز سے جی نہیں پاتے ، کیوں زمانے کی فکر ہمارے فطری سکون کے آگے رکاوٹیں کھڑی کر دیتی ہے ۔ ”
میں نے مسکرا کر سر جھٹکا اور ایک لمحے کے لیے سوچا کہ شاید میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں ۔
اب ایسا بھی کیا ۔۔۔ میں ضرور سب کے ساتھ اپنی خوشیوں کو مناؤں گی ۔ میں بھی زندگی کا لطف لوں گی کوئی مجھے روکے گا تھوڑی ۔ میں نے اپنی الماری سے خوبصورت پشمینہ کے شال نکالی جو پچھلے سال ہی میری چھوٹی بیٹی اپنے ہنی مون سے واپس آتے ہوئے ہنزہ سے لے کر آئی تھی ۔ یہ شال میں نے ابھی تک استعمال نہیں کی تھی ۔ گو کہ بہت سی شادیوں میں جانا ہوا لیکن اس کا شوخ آتشی گلابی رنگ دیکھ کر میں کچھ تذبذب کا شکار ہو جاتی ہوں ۔ خاندان کی اکثر منہ پھٹ عورتیں شادیوں میں ٹوک دیتی ہیں کہ
” ہائے ہائے اس عمر میں اتنے شوخ رنگ ۔۔۔۔ اب جچتے نہیں ہیں ”
اس لیے بس کالی یا سفید ہلکی کڑھائی والی شال ہی اوڑھ کر چلی جاتی ہوں مگر آج بسنت تھی ،رنگوں کا دن تھا اس لیے میں نے یہ شال اوڑھنے کا ارادہ کیا تھا ۔
دن ڈھل چکا تھا شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے چھتوں پر سرچ لائٹیں جل اٹھی تھیں اور ان سے رات میں بھی اسمان پر دن جیسا سماں بن گیا تھا بلکہ نہیں ۔۔۔۔ یہ تو کچھ اور بھی حسین منظر ہو گیا تھا ۔ میں چھت پر پہنچی تو سبھی آسمان پر بہتے رنگوں کو نگاہوں میں جذب کرنے میں مصروف تھے ۔ جو پتنگ اڑا رہے تھے انہیں اپنی مہارت دکھانے کا جنون تھا اور جو صرف دیکھ رہے تھے انہیں اپنے تجربات اور مشوروں سے نوازنے کا جنون تھا ۔ ایک طرف ایک تیرہ چودہ سالہ بچہ دونوں انگلیاں منہ میں پھنسا کر زور دار سیٹی بجانے کی کوشش کر رہا تھا مگر مجھے اس کی سیٹی میں ویسا دم محسوس نہیں ہوا جیسی سیٹی میں بچپن میں بجایا کرتی تھی ۔ میرا دل چاہا کہ اسے سیٹی بجا کر بتاؤں کہ دیکھو ایسے بجائی جاتی ہے دم دار سیٹی مگر پھر یہ سوچ کر آگے نہیں بڑھی کہ بچے کہیں گے اماں جی سٹھیا گئی ہیں ۔ دوسری طرف بچوں نے تکہ پارٹی کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا ۔ سیخوں پر بوٹیاں چڑھائی جا رہی تھیں ، انگیٹھی میں آگ سلگ رہی تھی ۔ تیز مصالوں کی خوشبو ہر سو پھیلی ہوئی تھی ۔ ٹھنڈی ہوا جسموں پر ہلکی ہلکی کپکپی طاری کر رہی تھی ۔ اُف ۔۔۔ کیسا خوبصورت ماحول تھا۔ میری روح اندر تک سرشار ہو گئی لیکن یہ کیفیت چند منٹ سے زیادہ نہیں رہ پائی تھی ۔میرے بڑے بیٹے کی نگاہ مجھ پر پڑی تو وہ فوراً میرے قریب آگیا
” اماں جی آپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں ۔ ٹھنڈ لگ جائے گی نیچے چلی جائیں اور ویسے بھی یہاں ہمارے دوست ہیں وہ آپ کو یہاں دیکھ کر کیا سوچیں گے ۔ اچھا نہیں لگتا نا ۔ ہم آپ کے لیے تکوں کی پلیٹ نیچے بھجوا دیں گے ”
میرے مسرت بھرے دل پر ایک دم اوس پڑ گئی ۔
” بیٹا ! میں تو یہاں تم سب کو خوش ہوتا دیکھنے کے لیے آئی تھی ۔ دل چاہ رہا تھا کہ آسمان پر اڑتی پتنگیں دیکھوں ۔ کیا تمہیں میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا ”
وہ عجیب بیزار سا دکھائی دیا
” اماں جی یہاں آپ کی عمر کا کوئی بھی نہیں ہے ۔ جوان لڑکے ہیں طرح طرح کے مذاق کرتے ہیں ان کے بیچ یہاں آپ کا ہونا اچھا نہیں لگے گا ہمیں، اسی لیے میں چاہ رہا ہوں کہ آپ نیچے چلی جائیں ۔ اپنے ساتھ کی کسی خاتون کو بلا لیں اپنے ساتھ باتیں کرنے کے لیے لیکن یہاں چھت پر اپ کا ماحول نہیں ہے ”
میں بجھے دل کے ساتھ نیچے اتر آئی ۔مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرا بیٹا صحیح کہہ رہا تھا یا غلط لیکن پھر بھی میرا دل دکھا تھا ۔ کھلی فضا اور کھلے آسمان پر مجھ بوڑھی ہوتی عورت کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا جوانوں کا تھا لیکن مجھے اس وجہ سے محدود کر دیا گیا کہ جوان جوانوں والے مذاق کرتے ہیں اور مجھے اب بزرگی کا تمغہ مل چکا ہے ۔ کیا میں اب جوانوں کے بیچ خوش ہونے والی باتوں کی حق دار نہیں رہ گئی ۔ دل میں درد اور آنکھوں میں نمی بھر بھر آرہی تھی ۔ آنکھیں پونچھ کر میں کھڑکی کے ساتھ ہی آ لگی ۔ ایک دو گھنٹے کے بعد بیٹا میرے لیے ایک پلیٹ میں تکے چٹنی اور نان لے آیا تھا ۔ میرا دل بہت بوجھل سا تھا مجھ سے ایک نوالہ بھی کھایا نہ گیا حالانکہ چھت پر لگتے تکوں کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا تھا ۔ میں وہ مزیدار کھانا کھانا چاہتی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں ، بچوں کے شور میں ، پتنگوں سے ڈھکے اسمان تلے بھرپور لطف لینا چاہتی تھی ۔ میں نے وہ پشمینہ کی شال بھی اتار کر الماری میں واپس رکھ دی اور پرانی ماں کے ہاتھ کی اون سلائیوں سے بنی ہوئی گرم شال کو وجود کے گرد لپیٹ لیا ۔
رات میں مجھے کتنی ہی بار صغریٰ لالا کی وہ چھت یاد آئی تھی جہاں پر میری اور محلے کے تمام بچوں کی بسنت گزرا کرتی تھی ۔ ان کا وہ بڑا سا گھر اب پرائمری سکول بن چکا تھا ۔ شوہر کے انتقال کے بعد میں اپنے پرانے محلے میں ہی آ بسی تھی اور اب پچھلے آٹھ سال سے میں اسی پرائمری سکول میں بچوں کو اردو پڑھا رہی تھی ۔ صغریٰ لالا کی بہو شازیہ سکول کی ہیڈ مسٹریس تھیں ۔ اس بھری دنیا میں وہی میری ہمنوا ؤ دم ساز بھی تھیں ۔ اکثر ہی وہ میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ اور رنگ دیکھ کر میری اندرونی کیفیات سے اگاہ ہو جایا کرتی تھیں ۔ نہ جانے کیسے انہیں میرے اندر کی خوشی اور غم دکھائی دے جاتا تھا ۔ ان کی صورت مجھے ایسی شخصیت میسر آئی تھی جس سے میں اپنے دل کا ہر حال بیان کر لیتی تھی اور وہ چپ چاپ صرف سن کر ہی میرے درد بانٹ لیا کرتی تھیں ۔ اس رات بھی میں نے اپنے دل کا حال ٹیکسٹ میسج میں انہیں لکھ بھیجا تھا جسے پڑھنے کے باوجود ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔ ان کے سکول میں کچھ استانیاں وہی تھیں جن کے ساتھ محلے میں میں کھیل کود کر پلی بڑھی تھی ۔
اگلے دن بھی میں دل مسوستی کھڑکی سے ہی آسمان کے رنگوں کو دیکھتی اور چھتوں سے اٹھنے والا بو کاٹا بو کاٹا کا شور سنتی رہی ۔ دن کا ایک بجا تھا جب مجھے میڈم شازیہ کا میسج موصول ہوا میسج پڑھتے ہی میری انکھوں میں خوشی کے جگنو جگمگا اٹھے اور میں ایک دم ہی نہال سی ہو گئی میں نے جلدی سے اپنا نیا جوڑا نکالا اور اس پر وہی رنگین پشمینہ کی شال اوڑھ کر سکول کی طرف چل دی ۔ بسنت کی وجہ سے عام تعطیل تھی لیکن سکول کی چھت پر میڈم شازیہ نے تمام استانیوں کو اور محلے کی دیگر خواتین کو جمع کیا ہوا تھا ۔ وہ سب اپنے گھروں میں بننے والے کھانے میں سے کچھ نہ کچھ لے آئی تھیں ۔ طرح طرح کے پکوانوں کی خوشبو سے سکول کی چھت مہک اٹھی تھی ۔ ان سب کے پاس بہت بڑی بڑی نہیں مگر چھوٹی پتنگیں ضرور تھیں میں ان سب کو دیکھ کر حیران تھی کہ انہوں نے اپنا ہی ایک رنگ جما لیا تھا چھت پر سوائے خواتین کے اور کوئی نہیں تھا وہ سب خوش تھیں ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر رہی تھیں آسمان اور ارد گرد کے ماحول کو خود میں جذب کر رہی تھیں ۔ میں حیرت اور مسرت میں ڈوب کر وہ منظر دیکھ رہی تھی تبھی میڈم شازیہ نے میری طرف بھی ایک گڈی بڑھا دی ۔ سکول کی چھت پر آج انھوں نے یہ کیسا رنگ جما دیا تھا بسنت کا رنگ ، جس میں میں اور مجھ جیسی بہت سی بڑھاپے کی حدوں کو پہنچی ہوئی خواتین اپنی فطرت کے رنگوں کو اجاگر کر رہی تھیں ، خوش ہو رہی تھیں کھا رہی تھیں گنگنا رہی تھیں ہنس رہی تھیں مذاق کر رہی تھیں آج ہماری محفل کا بھی ایک رنگ تھا ۔ میں نے پتنگ کی تناویں باندھتے سوچا
” آج کا جوان کیا سمجھتا ہے کہ خوشیوں پر صرف اسی کا حق ہے ۔۔ نہیں ہم جیسے بھی خوش ہو سکتے ہیں ہم جیسوں کا بھی دن بن سکتا ہے یہ آسمان ہمارا بھی ہے اس پر چھائے رنگ ہمارے لیے بھی خوشی کا باعث ہیں ۔ ہمیں بھی شور مچانے کی خواہش ہے ہمارے دلوں میں بھی گنگنانے کی آرزو پلتی ہے ۔ ہنسنے ، مذاق کرنے اور کھلکھلانے کی اجازت ہمیں بھی ہے ۔ ہم بھی وہ سب کر سکتے ہیں جو کوئی جوان کر سکتا ہے ۔ ذرا سی ڈھیل دے کر میں نے ڈور کھینچی تو آن کی آن میں پتنگ رنگ برنگی فضا میں اپنی جگہ بناتی چلی گئی ۔ کنی کھاتی میری پتنگ نے جلد ہی ایک بڑی پتنگ کو کاٹ ڈالا ۔ چھت پر موجود میری تمام ساتھیوں نے بوکاٹا کا شور مچا دیا۔ اسی لمحے میری نظر اپنے گھر کی چھت کی طرف اٹھی تو دیکھا میرے تمام بیٹے اور ان کے دوست سکول کی چھت پر زور دار سیٹی بجاتی اماں کو دیکھتے ہوئے ہکّا بکّا کھڑے تھے

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x