غزل
غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

غزل
ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا
جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا
یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے
حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا
ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے
تمہارے حسن کے جیسی حسیں غزل کہنا
تمہارے ہجر میں اپنا یہی تو مشغلہ ہے
غم و ألم سے لبالب حزیں غزل کہنا
فقط قوافی غزل کے لئے نہیں کافی
شعورِ شعر بھی لا پھر کہیں غزل کہنا
یہ رتجگوں سے گزرنے کے بعد کا ہے سفر
اے دوست اتنا بھی آساں نہیں غزل کہنا
دلوں تلک سبھی حمزہ رسائی پاتے نہیں
سبھی کے بس میں نہیں دل نشیں غزل کہنا




