غزل
غزل | نہ جانے کون سا بارِ سفر زیادہ ہے | نسیم عباسی
غزل
نہ جانے کون سا بارِ سفر زیادہ ہے
گماں گزرتا ہے کاندھوں پہ سر زیادہ ہے
پڑوسیوں پہ بھی لوگوں کو اعتبار نہیں
خدا کے خوف سے دنیا کا ڈر زیادہ ہے
میں اپنے نام سے لکھا ہوں لوحِ ہستی پر
نہ کوئی زیر نہ کوئی زبر زیادہ ہے
جبلتیں ہی رہی ہیں ضمیر پر حاوی
فصیلِ شہر سے حدِ نظر زیادہ ہے
پھلوں میں پچھلے برس بھی مٹھاس تھوڑی تھی
شجر پہ اب کے برس بھی ثمر زیادہ ہے
ہوا کا زور سرِ دست تھم گیا لیکن
غبار اب بھی سرِرہگزر زیادہ ہے
مجھے چڑھی ہوئی ندّی عبور کرنا تھی
یہ کون دیکھتا پانی کدھر زیادہ ہے
نسیم جس کی توقع تھی بادشاہوں کو
وہ ریل پیل فقیروں کے گھر زیادہ ہے




