غزل
غزل | اس کو جنون تھا کہ مجھے ساتھ لے چلے | حارث بلال

غزل
اس کو جنون تھا کہ مجھے ساتھ لے چلے
خود کو گرا دیا کہ مجھے ساتھ لے چلے
رفتار یوں ملائی ستاروں نے میرے ساتھ
اک پل کو یوں لگا کہ مجھے ساتھ لے چلے
ویسے وہ زندگی میں اٹھا بھی نہیں کبھی
ایسے نہیں گرا کہ مجھے ساتھ لے چلے
پہلے یہی زمانے مجھے مانتے نہ تھے
اب مان کیا لیا کہ مجھ ساتھ لے چلے
دریا کو بستیوں میں بکھرنے کا شوق تھا
میں چیختا رہا کہ مجھے ساتھ لے چلے
خائف ہیں باغبان سے کچھ سوکھتے گلاب
اس کو یہ بولنا کہ مجھے ساتھ لے چلے
گِنوائے راستے کے سبھی پیچ و خم اسے
سیدھا نہیں کہا کہ مجھے ساتھ لے چلے
حارث ادھورا ہونا کوئی عیب تو نہیں
اس کو ہے مشورہ کہ مجھے ساتھ لے چلے




