انٹرویو

سیاست، تدریس اور ادب کا حسین امتزاج نصرت نسیم / انٹرویوور: سیدہ عطرت بتول نقوی

تعارف

محترمہ نصرت نسیم ایک ممتاز مصنفہ، کہنہ مشق استاد اور متحرک سماجی شخصیت ہیں۔ آٹھ کتب کی خالق نصرت صاحبہ کو ان کی ادبی خدمات پر ‘اپوا ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا ہے، جبکہ ان کی تحریروں پر جامعات میں تحقیقی مقالے لکھے جا رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ڈبل ایم اے (اردو، اسلامیات) کی ڈگری رکھتی ہیں بلکہ بطور پرنسپل اور سابق خاتون کونسلر انہوں نے تعلیم اور سماجی بہبود کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔

انٹرویو

 

عطرت بتول ، نصرت نسیم

سوال: نصرت صاحبہ! آپ کے ادبی سفر کا آغاز آٹھویں جماعت ہی میں ہو گیا تھا۔ اتنی کم عمری میں لکھنے کی تحریک کہاں سے ملی اور اس دور کی یادیں کیا ہیں؟
جواب: وعلیکم السلام الحمدللہ۔ سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ آپ کا پہلا سوال ہی کافی دلچسپ ہے، بالکل روایتی انٹرویو سے ہٹ کر ہے۔ آپ نے پوچھا کہ کس طرح آٹھویں جماعت سے لکھنا شروع کیا، بات ایسی ہے کہ میں نے اپنی خود نوشت میں بھی ذکر کیا ہے کہ میں اپنے ننھیال میں پلی بڑھی ہوں جہاں میرے باقی بہن بھائی نہیں تھے اور نہ ہی کوئی ہم عمر، اس لیے کتابیں ہی میری دوست رہیں۔ کتابیں پڑھنے کا شوق رہا، میرا خیال ہے میں نے دوسری کلاس میں جب اردو پڑھنا سیکھی تو ایک نئی دنیا کا دروازہ کھل گیا ۔ ہمارے گھر کے بالکل پاس لائبریری تھی اسکول سے آتے ہوئے، وہ جو کوہ قاف کی کہانیاں ہیں وہ کتابیں لینا اور اسی دن پڑھ کے صبح سکول جاتے ہوئے واپس کر دینا، چھٹی کے وقت ایک اور کتاب لے کر آنا تو میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی بس کتاب پڑھنا ہوتی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویں آٹھویں تک پہنچتے پہنچتے اے آر خاتون، نسیم حجازی، رضیہ بٹ اور لائبریری کی تقریباً کتابوں کو جو ہے نا یہ سب پڑھ لیں، گھر میں ہمارے نانا کے لیے چار اخبار آتے تھے اس وقت کے حریت، انجام، کوہستان، شہباز، میں شوق سے کالم بھی پڑھا کرتی تھی۔ چھٹی کلاس سے میں نے بچوں کے صفحے میں حصہ لینا شروع کر دیا ساتویں کلاس میں آکر میں نے کہانی لکھی "اور میں نے منزل پالی” جنگ بچوں کے صفحے پر وہ کہانی، جب میں آٹھویں میں تھی تب چھپی، تب چھپنا اتنا آسان نہیں ہوتا تھا بہت انتظار کرنا پڑتا تھا، یوں میرے لکھنے کے سفر کا آغاز ہوا۔


سوال: کوہاٹ جیسے تاریخی اور ادبی شہر میں پرورش نے آپ کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں پر کیا اثر ڈالا؟
جواب: بہت گہرا تعلق ہے، مجھے بہت اچھا گھریلو ماحول، بہت اچھے اساتذہ اور بہت اچھی سہیلیاں ملیں جو میری ہم ذوق تھیں، ہم مل کر پڑھتے، ایک دوسرے کے ساتھ ایک صحت مند مقابلے کی فضا رہتی تھی۔ خاص طور پر میں یہ ذکر کرنا چاہوں گی ساتویں آٹھویں میں میری بہت قابل احترام استانی شکیلہ عباسی، ان کا تعلق لکھنؤ سے تھا اور اردو پڑھانے میں انہوں نے تلفظ اور اردو کے حوالے سے بہت محنت کی انہوں نے ایک مضمون لکھنے کو دیا "میرا نصب العین” تو ساتویں کلاس میں میں نے اس عنوان پر تین چار صفحات کا مضمون لکھا، انہوں نے اسے بہت پسند کیا، پھر نویں دسویں کی کلاس میں میری کاپی انہوں نے منگوا لی اور ساری بچیوں کو دکھائی کہ دیکھیں ساتویں کی بچی اس قدر اچھا مضمون لکھ سکتی ہے تو پورے سکول میں وہ کاپی گھومتی رہی، بزم ادب میں حصہ لیتی رہی۔ اچھا سن 68 میں جب میں آٹھویں میں تھی تو صدر ایوب نے اپنا دس سالہ جشن منایا، اپنے دور حکومت کی کامیابیوں کا، اس سلسلے میں پورے دس دن ہمارے سکول میں تقریبات ہوتی رہیں ان تقریبات میں مباحثے، مشاعرے، بیت بازی، ڈرامہ۔ ڈرامے کے حوالے سے بتاؤں کہ مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن مس شکیلہ عباسی مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں بہت حوصلہ افزائی کرتیں تو ایک ڈرامے کی ڈرامائی تشکیل بھی میں نے کی اور پھر اس میں ان کے اصرار پر ہیروئن کا رول بھی ادا کیا۔
سوال: آپ کی کتاب ’’آئیں ہاتھ اٹھائیں ہم بھی‘‘ قرآنی دعاؤں اور تفسیر پر مبنی ہے۔ اس خاص موضوع کے انتخاب کی وجہ کیا تھی؟
جواب: "آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی” یہ فیض احمد فیض کی نظم کا ایک مصرع ہے جس کو میں نے کتاب کا عنوان بنایا۔ اردو کے علاوہ میں نے اسلامیات میں بھی ایم اے کر رکھا ہے، علاوہ ازیں جب میں کینیڈا گئی تو تین مہینے فرحت ہاشمی کی قرآنی کلاسیں اٹینڈ کرتی رہی، بچپن سے ہی قرآن سے شغف رہا اور مفاہیم کو سمجھنا یہ ایک لگن رہی۔ جب میں ریٹائر ہوئی 2014 میں تو میرا خیال تھا کہ میں فرحت ہاشمی کی طرح ایک شاندار مدرسہ بناؤں لیکن باوجوہ میں اس خیال کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی، میں نے ربنا کی دعاؤں کو ایک ترتیب کے ساتھ اس کی شان نزول اور مختصر تفسیر کے ساتھ لکھا، گو کہ بہت سارے لوگوں نے حوصلہ شکنی بھی کی کہ اس طرح کی کتابیں موجود ہیں لیکن میں نے کہا میں اس کے لیے محنت کر رہی ہوں کئی تفاسیر کو دیکھا اور مختصر تفسیر اور شان نزول کے ساتھ اس کتاب کو الحمدللہ مکمل کیا اور سب سے اچھی بات یہ کہ اس کی اولین کاپیاں مدینہ پاک میں ریاض الجنہ میں تقسیم کیں اور ہر سال اس کتاب کو میں اپنے ساتھ عمرے پر لے کر جاتی رہی اور تقسیم کرتی رہی۔ 2017 میں اپنی والدہ کی وفات کے بعد میں نے اسے پبلش کروایا اور تمام رشتہ داروں میں ہدیتاً تقسیم کیا، ابھی حال ہی میں میری بیٹی عائشہ نے دبئی میں اس کا دوسرا ایڈیشن "ربنا” کے نام سے آرٹ پیپر پر بہت خوبصورت چھپوایا۔ ربنا کی یہ دعائیں ہر سال عمرے پر جانے والے، حج پر جانے والے گروپس کو وہ تحفتاً دیتی ہے، جہاں وہ پڑھتے بھی ہیں دعائیں بھی کرتے ہیں اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کرتے ہیں، تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ میری آٹھ کتابوں میں یہ جو مختصر سا کتابچہ ہے یہ میرے لیے بہت قیمتی، بہت گرانمایہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ مزید میں کچھ ایسا کام کروں جس کو لوگ پڑھیں اور وہ میرا صدقہ جاریہ بنے۔
سوال: آپ کی کتاب ’’کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی‘‘ کو بہت پزیرائی ملی اور اپوا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یہ کتاب آپ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
جواب: بات ایسی ہے کہ آپ اچھا لکھ رہے ہیں لیکن حوصلہ افزائی بھی بہت ضروری ہے۔ اس کتاب کے بیشتر مضامین میں اپنے کالج میگزین میں، اخبارات میں پہلے لکھ چکی تھی۔ 2018 میں صفدر علی ہمدانی صاحب، شاہین اشرف علی، نگہت نسیم یہ لوگ ٹیکسلا آئے اور میری ان سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، صفدر علی ہمدانی صاحب نے مجھے اپنے اخبار میں لکھنے کو کہا لیکن میری سستی آڑے آئی، پھر انہوں نے میرا ایک مضمون شب برات کے حوالے سے فیس بک پر دیکھا اور مجھ سے پوچھا کیا یہ آپ نے لکھا ہے؟ میں نے کہا جی، انہوں نے اپنے عالمی اخبار میں اسے لگایا اور اس کے بعد ان کی حوصلہ افزائی سے میں مستقل عالمی اخبار میں لکھتی رہی، ان کی حوصلہ افزائی نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا، انہوں نے ہی مجھے خود نوشت لکھنے کی ترغیب دلائی۔ یوں ہوتے ہوتے ایک پوری کتاب کا مواد بن گیا ہے جس کو میں نے چھپنے کے لیے دے دیا۔ بہت محترم شجاعت علی راہی صاحب کو مسودہ دکھایا تو انہوں نے پروف ریڈنگ کے ساتھ ساتھ اپنی پسندیدگی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں کوہاٹ کی ثقافت پر لکھوں، میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی خود نوشت لکھ رہی ہوں۔ بہت محترم دبستان پشاور کے اہم نام ناصر علی سید نے نہ صرف اس کا نام تجویز کیا بلکہ انہوں نے بھی میری اس پہلی کتاب کو بہت عمدہ الفاظ میں سراہا، بہت سارے مبصرین کے تبصروں نے مجھے حوصلہ بخشا اور صفدر علی ہمدانی صاحب جب پاکستان آئے تو اس کتاب کی تقریب پذیرائی ایبٹ آباد کے بہت خوبصورت گیسٹ ہاؤس میں منعقد کی گئی۔ شاہین اشرف علی، صفدر علی ہمدانی صاحب، اشرف بھائی، یہ سب لاہور سے تشریف لائے بہت ہی پروقار تقریب تھی، اپوا ایوارڈ بھی ملا ہے لیکن میرے لیے سب سے بڑا ایوارڈ ان بہت معتبر ادبی اور مشفق ہستیوں کی بہترین رہنمائی اور حوصلہ افزائی تھی جس نے مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
آپ نے پوچھا ہے کہ یہ آپ کے دل کے کس قدر قریب ہے تو میں یہ کہوں گی کہ جس طرح پلوٹھی کے بچے کے لیے ایک بہت بے چینی، مسرت اور پرجوش جذبات ہوتے ہیں ویسے ہی پہلی کتاب کے لیے بھی ایک خاص محبت، ایک خاص جوش و جذبہ اور بہت ہی محبت پائی جاتی ہے۔ "کہکشاں ہے یہ میرے خوابوں کی” یہ کہکشاں ثابت ہوئی اور جس نے مجھے ایک پہچان دلائی، ایک وقار عطا کیا اور بہت سے اچھے ادبی دوستوں سے متعارف کروایا۔


سوال: ایک استاد اور پرنسپل کی حیثیت سے آپ نے نئی نسل کی تربیت میں کن اقدار کو مقدم رکھا؟
جواب: جی ایک پرنسپل، استاد کی حیثیت سے مقدور بھر کوشش رہی کہ بچوں کو اچھے پاکستانی اور اپنے مذہب کے ساتھ ان کے لگاؤ اور محبت میں اضافہ کیا جائے۔ الحمدللہ سکول کی سطح پر نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے کافی حوصلہ افزا نتائج رہے۔ پھر 14 سال کالج میں اردو کی تدریس میں یہ موقع ملتا رہا کہ ساتھ ساتھ تربیت بھی کی جائے، اردو میں ویسے بھی اقبال، حالی، میر انیس، خواجہ میر درد اور مختلف نثر نگاروں اور شعراء کو پڑھاتے ہوئے بہت کچھ کہنے اور سمجھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ربنا کی دعائیں اور حصول علم کی دعائیں بچیوں کو سکھائیں اور کلاس کا آغاز حصول علم کی دعاؤں سے کیا کرتی تھی، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے والی میری شاگردیں جب ملتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ہم بھی اپنی کلاس کا آغاز "رب زدنی علما” اور "رب اشرح لی” کی دعاؤں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ اہم قرآنی واقعات بھی گاہے بگاہے بچیوں کو سناتی رہی اور پیش نظر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول رہا کہ "اگر تمہاری وجہ سے کوئی ایک بندہ بھی راہ پر آ جائے تو یہ 70 سرخ اونٹوں سے بہتر ہے”۔ میرے پیش نظر یہی قول تھا کہ اتنی بڑی کلاس میں اگر دو چار لوگ بھی میری بات کو سمجھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں تو یہ میرا سب سے بہترین صدقہ جاریہ ہو جائے گا ان شاء اللہ۔
سوال: تدریس، ادارت، ادبی تنظیمیں اور سماجی خدمات— ان سب مصروفیات کو ایک ساتھ مینیج کرنا کتنا مشکل رہا؟
جواب: نہیں کچھ مشکل نہیں رہا، اب تو بہت ساری مصروفیات نہیں رہیں، جب تینوں بچے سکول جانے لگے تب میری اولین تقرری ایک نجی سکول میں پرنسپل کی تھی، ساتھ ہی میں نے اپنا سکول کھولا، لیڈی کونسلر رہی اور اپنی کراچی کی ایک دوست زکیہ کے ساتھ مل کر زیڈ این فیشن کے نام سے ایک بوتیک میں شراکت رہی تو یہ میری زندگی کا سب سے مصروف ترین دور تھا کہ بچوں کو دیکھنا، کونسلر کی حیثیت سے مختلف تقاریب اور میٹنگز اٹینڈ کرنا، سکول کی ذمہ داریاں، خاندان، خاندان کی غمی خوشی میں شریک ہونا۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ میری زندگی کا سب سے مصروف ترین دور تھا اور اب یہ ساری چیزیں اتنی مشکل نہیں لگتیں۔
سوال: ضیاء الحق کے دور میں بلدیاتی انتخابات میں بطور خاتون کونسلر آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: ضیاء الحق نے عام انتخابات کی بجائے بلدیاتی انتخابات کرائے اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نشستیں رکھیں، اس سے پیشتر ٹاؤن کمیٹی اور یونین کونسل کی سطح پر خواتین کی نمایندگی نہیں تھی۔ میں ٹاؤن کمیٹی امان گڑھ کی خاتون کونسلر رہی، ایک دفعہ بلا مقابلہ اور دو دفعہ سخت مقابلے کے بعد میں نے یہ الیکشن جیتا، خاتون کونسلر کی حیثیت سے تمام انڈسٹریل ایریا کی میں واحد خاتون کونسلر تھی، لہذا میں نے تین ملوں میں انڈسٹریل ہوم کھولے۔ فارغ التحصیل طالبات کو سلائی مشینیں اور ڈپلومے دیے اور اس موقع پر بیگم کلثوم سیف اللہ کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے بلایا، بہت شاندار تقریب منعقد کی۔ اس کے علاوہ 14 اگست، ربیع الاول اور تمام اہم قومی دنوں پر تقریب کا انعقاد بڑے پیمانے پر کرتی رہی۔ اسکول کالج کی بچیوں کے لیے تعلیمی وظائف، حفاظتی ٹیکوں کا مرکز یونیسیف کے تعاون سے کھولا، انڈسٹریل ہوم کو گھر خرید کر اسے ایک مرکزی ادارہ بنایا۔ بہت ساری خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد دی۔ سندھ اور بلوچستان کے دورے کیے، چک شہزاد میں دو تین دفعہ تربیتی پروگراموں میں شرکت کی۔ ہیلتھ سینٹر کا قیام ابھی تکمیل کے مراحل میں تھا کہ بلدیاتی ادارے توڑ دیے گئے اور وہ سارے منصوبے ادھورے رہ گئے، بہرحال اپنی بساط بھر کوشش کی کہ لوگوں کو سہولیات میسر آ سکیں۔ گھریلو خواتین باہر نکل کر تقریبات میں شریک ہو سکیں۔ خاندان والوں نے تنقید بھی کی لیکن میرے شوہر نے میرا ساتھ دیا، میرے اوپر مکمل اعتماد کیا۔ الحمدللہ بحیثیت کونسلر کئی دفعہ میں نے کے پی کی نمائندگی کی اور کامیاب رہی۔ کئی دفعہ مجھے پیپلز پارٹی میں اور ضیاء الحق کی مسلم لیگ پارٹی میں شرکت کا کہا گیا لیکن میں نے کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی، میں پارٹی کی سیاست سے بالاتر رہ کر اپنے طور پر اپنی آزادانہ رائے اور فکر کے مطابق کام کرنا چاہتی تھی، لوگوں نے پارٹیوں میں شامل ہو کر فوائد بھی اٹھائے، مسلم لیگ میں شامل ہونے والوں کو خاص طور پر خواتین کو گرین کارڈ ملا کرتے تھے اور کافی مراعات ملتی تھی لیکن مجھے اپنی شخصی آزادی کا سودا گوارا نہیں تھا۔ ضیاء الحق کا دور پھر بھی نسبتاً ایک خوشگوار دور تھا، اس کے بعد آنے والی سیاست میں مختلف ایسے عناصر در آئے کہ بلدیات کی بساط لپیٹے جانے کے بعد میں نے پھر کسی انتخاب یا سیاست میں حصہ نہیں لیا اور اپنے اصل میدان درس و تدریس اور لکھنے لکھانے، پڑھنے کی طرف اپنی توجہ مبذول رکھی۔
سوال: تحریکِ پاکستان سے وابستگی اور اپنی اساتذہ، خصوصاً فہمیدہ اختر صاحبہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب: تحریک پاکستان سے وابستگی کا سبب میری محترم استاد فہمیدہ اختر تھی جو تحریک پاکستان کی مجاہد رہی ہیں، انہوں نے عملی طور پر حصہ لیا اور قربانیاں دی جن کا ذکر میں نے الگ ایک مضمون میں کر رکھا ہے۔ ایسے اساتذہ سے آپ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ غیر شعوری طور پر کردار میں جذب ہوتا چلا جاتا ہے۔ مس فہمیدہ کے پی کی اولین صاحب طرز افسانہ نگار تھی، بقول میری ایک اور پروفیسر کلاس فیلو ہم جماعت کے کہ "ہم جو کچھ بولتے ہیں ہمارے لفظ فہمیدہ اختر کے عطا کردہ ہیں” اور میں نے بھی کئی جگہ لکھا کہ ان سے حاصل کردہ تعلیم اور اردو ہمارے لفظوں میں جگمگاتی ہے، ہم لاشعوری طور پر پڑھاتے ہوئے، بولتے ہوئے وہ تمام چیزیں ہمارے ذہن میں ہوتے ہیں اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ آج اگر ہم دو چار لفظ لکھ لیتے ہیں تو یہ ہمارے قابل قدر اساتذہ کی محنت اور ان کی دین ہے، اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔
سوال: آپ کی تعلیمی جدوجہد بہت طویل رہی، شادی کے سالوں بعد ڈبل ایم اے کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: جی آپ نے میری تعلیم کے بارے میں پوچھا ہے، بی اے میں میرے مضامین اردو ایڈوانس، پولیٹیکل سائنس اور آپشنل میں فارسی تھی۔ اردو کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ اور پولیٹیکل سائنس کے مضمون سے بھی بہت دلچسپ تھی، آگے چل کر میرا ارادہ تھا کہ میں اس میں ایم اے کروں مگر بی اے کے فوراً بعد میری شادی ہو گئی پھر بچے۔ ابھی بچے چھوٹے تھے تو کونسلر بننا، بوتیک، نجی سکول میں پرنسپل، زندگی کی اتنی مصروفیات رہی کہ خواہش کے باوجود میں ایم اے نہ کر سکی، لیکن مستقل ایک خیال دل میں تھا کہ میں نے اپنی تعلیم مکمل کرنی ہے، جب میں اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو دیکھتی تھی کہ وہ گورنمنٹ کالج میں پڑھا رہی ہیں، کوئی پرنسپل ہے کوئی پروفیسر تو مجھے بڑا افسوس ہوتا تھا کہ اپنے کالج میں، اسکول میں مجھے ہمیشہ ایک نمایاں حیثیت رہی ہے، پر تعلیمی لحاظ سے میں پیچھے رہ گئی تو پھر تقریباً اپنے بی اے کے 20، 25 سال بعد میں نے اردو میں ایم اے کیا۔ اس وقت بڑی بیٹی کی شادی طے پا گئی جب پریویس کا ایگزام دے رہی تھی تو اس کی شادی میں میرے دو پیپر رہ گئے، فائنل کے ایگزام میں میرا نواسہ تشریف لے آیا تو بہت مشکل حالات میں امتحان دیا، پر الحمدللہ کہ میں نے اچھے نمبروں سے ایم اے کر لیا۔ جب پاس ہو گئی اچھے نمبر لے لیے تو میرے حوصلے بڑھے۔ ایم اے اسلامیات میں بھی داخلہ کروا لیا کیونکہ مجھے اس سے بھی بہت شغف رہا ہے، بچپن سے ہی قرآن، قرآن فہمی سے لگاؤ رہا۔ مسلسل چار سال میں پڑھتی رہی۔ دو سال ایم اے اردو کے دو سال پھر اسلامیات کے لیکن جب اسلامیات میں ایم اے کر رہی تھی تو اس وقت میری کالج میں جاب ہو گئی اور ساتھ ساتھ وہ پھر میرے لیے بہت مشکل بھی تھا کہ کالج جانا، لیکچر کی تیاری، سو طرح کے بکھیڑے، کالج سے واپس آ کر گھریلو مصروفیات، پھر میں راتوں کو بہت دیر تک میں پڑھا کرتی تھی اس میں میرے میاں کا تعاون بھی میرے ساتھ بہت مثالی رہا اور ان کے تعاون سے میں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ دوسرا ایم اے میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیا، دوسرے نمبر پر میرا بیٹا ہے محمد اسد تو اس نے پشاور یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹر کیا اس کے ساتھ میں نے اسلامیات میں ایم اے کیا، یوں میرا یہ تعلیمی سلسلہ مکمل ہوا الحمدللہ اللہ کے کرم سے کہ مجھے ایک ایم اے کی حسرت تھی اور اللہ نے مدد کی اس کا فضل رہا ہے کہ میں نے ڈبل ایم اے کر لیا۔ اردو ہو یا اسلامیات یہ دونوں ایک بحر بیکراں ہیں، جتنا پڑھتے جائیں آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے ابھی کچھ نہیں پڑھا اس لیے میں کینیڈا گئی تو چونکہ اسلامیات میں بھی ایم اے کر رکھا تھا تو کالج میں ایک لیکچرار کے جانے کے بعد ان کی جگہ میں نے انٹرو ڈگری کو لازمی اور اختیاری اسلامیات پڑھائی رضاکارانہ طور پر۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس عمل نے مجھے بہت کچھ عطا کیا۔
سوال: اپنی ازدواجی زندگی اور بچوں کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: جی میری شادی پھوپھی زاد بھائی سے ہوئی اور مکمل طور پر والدین کی پسند سے، اور آپ کو حیرت ہوگی کہ میں نے انہیں شادی کے بعد دیکھا کیونکہ میری پرورش ننھیال میں ہوئی، ددھیال میں میرا جانا بہت کم ہوتا تھا تو یہ ایک اہم بات ہے، چونکہ میں خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے بی اے کیا مجھے یہ احساس تھا کہ میرے والدین یہ نہ کہیں کہ میں ان کی کسی بات یا فیصلے پر عمل نہیں کروں گی لہذا اپنے والدین کی پسند کے مطابق میری شادی ہوئی اور الحمدللہ زندگی اللہ کے کرم سے بہت اچھی گزری۔ میرے تین بچے ہیں بڑی بیٹی فری کینیڈا میں ہے ماشاء اللہ اس کے چار بچے ہیں۔ دوسرے نمبر پر میرا بیٹا محمد اسد ہے جو گورنمنٹ ڈگری کالج کا پرنسپل رہا اور اب پوسٹ گریجویٹ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ میری سب سے چھوٹی بیٹی عائشہ نے ایم اے اکنامکس کے علاوہ دبئی سے بھی ماسٹر کیا، امریکہ سے کورس کیے، وہ دبئی کے ہائر سیکنڈری سکول کی پرنسپل ہے۔ اس کے دو بچے ہیں۔ ماشاء اللہ اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا اور اپنے پیشے کے ساتھ منسلک دیکھنا میرے لیے اطمینان قلب کا باعث ہے۔ میری بہو حافظ قرآن اور فضائیہ سکول اینڈ کالج میں پڑھاتی ہیں گویا سب کا تعلق درس و تدریس سے ہے جو میری نظر میں سب سے اعلی پیشہ ہے۔
سوال: کیا اس وقت کسی نئی کتاب یا منصوبے پر کام جاری ہے؟
جواب: جی الحمدللہ میری آٹھویں کتاب "نگار خانہ خیال” دسمبر 2025 میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی، اس کے علاوہ میری بیماری نے میرے بہت سارے منصوبوں کو بہت متاثر کیا، حج کا سفر نامہ میں نے 98 میں لکھ رکھا ہے جب حج کیا، اب اس کو کمپوز کرنے کی کوشش کر رہی ہوں چونکہ میں خود کمپوز کرتی ہوں تو اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے، دوسرے اپنی خود نوشت کے دوسرے حصے پر کام باقی ہے اور "کھلی آنکھوں کا خواب” وہ مبارک سفر نامہ ہے کہ جو چھپ گیا ہے جبکہ اس سے پہلے حج کا سفر نامہ، چھ سات عمروں کے سفرنامے، دبئی کا سفر نامہ، کینیڈا کا سفر نامہ یہ سب لکھ رکھے ہیں لیکن ان کو چھپوا نہیں سکی اب اگر زندگی نے مہلت دی، صحت نے اجازت دی تو میری خواہش ہے کہ کچھ نیا لکھنے کی بجائے جو کام میری ڈائریوں میں بند ہے جو کچھ میں نے لکھا ہوا ہے پہلے اس کو چھپوایا جا سکے۔
سوال: آج کی نوجوان لکھنے والی خواتین کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
جواب: آج کی نوجوان خواتین کے لیے میرا پیغام، میں اس قابل تو نہیں کہ پیغام دے سکوں لیکن کتاب کے ساتھ رشتے کو مضبوط کریں کتاب سے اچھا دوست، ساتھی، رہنما، مشیر کوئی اور نہیں اور اگر آپ کا لکھنے سے تعلق ہے تب بھی مطالعہ بہت ضروری ہے اگر آپ لکھنے والے نہیں بھی ہیں تو کتاب زندگی کے ہر راستے، ہر موڑ پر آپ کی بہترین رہنما اور ساتھی بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، کتاب کا نعم البدل کچھ اور نہیں، جتنا اچھا مطالعہ ہوگا اتنا ہی اچھا لکھ سکیں گے لیکن یہ کہ بہت کچھ لکھیں مگر اپنے انداز میں کسی کو کاپی کرنے کی کوشش نہ کریں آپ کا اپنا ایک انداز ہونا چاہیے۔
سوال: پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ یا کوئی خاص پیغام جو آپ دینا چاہیں؟
جواب: پاکستانی معاشرے پر ابھی بھی ہندوانہ کلچر اور مغربیت چھائی ہوئی ہے، آج کل کی شادیوں میں روایتی اور مقامی ثقافت کی بجائے مغربی اور ہندی ثقافت کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے آج کل نکاح کے بعد سر عام جوڑے کا بوس و کنار کرنا انتہائی ناگوار اور مذہب سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اسلامی معاشرت کو اپنائیں، عورت کو اس کا صحیح مقام، وراثت میں حصہ اور وہ تمام حقوق جو اسے اسلام نے دیے ہیں وہ مل سکیں۔

 

Author

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x