غزل

غزل | مری گلی سے وہ منہ پھیر کر تو آتے ہیں | اجمل فرید

غزل

مری گلی سے وہ منہ پھیر کر تو آتے ہیں 

زہے نصیب کہ مجھ کو نظر تو آتے ہیں  

ہے سنگلاخ چٹانوں سے شہر اس کا گھرا 

وہاں سے بھی مرے دریا گزر تو آتے ہیں 

کبھی تو ہو گی ملاقات میری مرضی سے 

اجاڑ جتنا ہو صحرا شجر تو آتے ہیں

وہ کر رہا ہے جدائی کا ذکر ہنس ہنس کے 

ڈرا نہیں ہوں مگر دل میں ڈر تو آتے ہیں 

کوئی بھی موت کی منزل تک آ نہیں سکتا 

یہ زندگی ہے سفر ہم سفر تو آتے ہیں 

بڑے سلیقے سے بچھڑے گا وہ اگر بچھڑا 

ہمارا یار ہے اس کو ہنر تو آتے ہیں 

تو کیا ہوا ہمیں گھیرا ہوا ہے مشکلوں نے 

سمندروں کے سفر میں بھنور تو آتے ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x