نظم

نظم | راحت سرفراز

نظم

جب خود کو بدلنا ضروری ہو 

اور بچھڑ جانا مجبوری ہو

 

تب آہ و فغاں کیا کرنا

جینے کا ساماں کیا کرنا

 

جب عہدو پیماں باقی نہ رہیں

اور رشتے بھی خاکی نہ رہیں

جب دل میں بسنے والوں کی 

اور لہجوں سے ڈسنے والوں کی 

سب ادائیں ایک سی ہوں

تمام جفائیں ایک سی ہوں

پھر درد سنا کر کیا کرنا؟ 

پھر ہمدرد بنا کر کیا رہنا؟

 

چلو چھوڑ دیتے ہیں بستی 

مٹا دیتے ہیں اپنی ہستی

 

،سب کیوں اور کیسے ہوا؟ 

چلو اس کو چھوڑ دیتے ہیں

دل جو تم بن رہتا نہیں 

چلو اس کو توڑ دیتے ہیں

 

ہم راہ بدل لیتے ہیں 

اگر تم یوں چاہتے ہو

صرف اتنا بتا دو مجھے

ایسا تم کیوں چاہتے ہو۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
Zafar Iqbal Chheena
Zafar Iqbal Chheena
18 hours ago

ماشاءاللہ سلامت رہیں ۔۔ بہت عمدہ نظم ۔جدائی کے عنوان اور ٹوٹ پھوٹ ہونے کے بعد وفاداری باقی ہے، امید باقی ہے، شاعری کا واقعی لطف آیا ہے ۔ رسپیکٹڈ میم راحت سرفراز صاحبہ ۔۔ جیتی رہیں

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x