نظم
نظم | راحت سرفراز
نظم
جب خود کو بدلنا ضروری ہو
اور بچھڑ جانا مجبوری ہو
تب آہ و فغاں کیا کرنا
جینے کا ساماں کیا کرنا
جب عہدو پیماں باقی نہ رہیں
اور رشتے بھی خاکی نہ رہیں
جب دل میں بسنے والوں کی
اور لہجوں سے ڈسنے والوں کی
سب ادائیں ایک سی ہوں
تمام جفائیں ایک سی ہوں
پھر درد سنا کر کیا کرنا؟
پھر ہمدرد بنا کر کیا رہنا؟
چلو چھوڑ دیتے ہیں بستی
مٹا دیتے ہیں اپنی ہستی
،سب کیوں اور کیسے ہوا؟
چلو اس کو چھوڑ دیتے ہیں
دل جو تم بن رہتا نہیں
چلو اس کو توڑ دیتے ہیں
ہم راہ بدل لیتے ہیں
اگر تم یوں چاہتے ہو
صرف اتنا بتا دو مجھے
ایسا تم کیوں چاہتے ہو۔





ماشاءاللہ سلامت رہیں ۔۔ بہت عمدہ نظم ۔جدائی کے عنوان اور ٹوٹ پھوٹ ہونے کے بعد وفاداری باقی ہے، امید باقی ہے، شاعری کا واقعی لطف آیا ہے ۔ رسپیکٹڈ میم راحت سرفراز صاحبہ ۔۔ جیتی رہیں