نظم

زرد موسم، زرد چہرے | ضیاء الرحمن فاروقی

زرد موسم، زرد چہرے

آج سورج کی روشنی شکستہ ہے

دھوپ میں بھی

جیسے تھکن اتر آئی ہو

یہ زردی مائل موسم

مجھے جینے نہیں دیتا

بدلتے موسم

میرے لیے عذاب سے کم نہیں

پرندوں کی آوازوں میں

جیسے صدیوں کا نوحہ گھلا ہو

ہر صدا

میرے اندر

کسی بوسیدہ دن کو چھیڑ دیتی ہے

نیا موسم

نئی کیفیت کے ساتھ

میرا چہرہ بدل دیتا ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x