غزل
غزل | عادتاً روتے ہیں ہم لوگ سبب کوئی نہیں | اسماعیل راز
غزل
عادتاً روتے ہیں ہم لوگ سبب کوئی نہیں
پہلے پہلے تو کوئی شخص تھا اب کوئی نہیں
یوں ہی آواز لگاتا ہوں کہ عادت ہے مِری
جانتا ہوں کہ پسِ پردۂ شب کوئی نہیں
میری دیوانگی سے کس کو سروکار یہاں
میری آوارگی پر شکوہ بلب کوئی نہیں
جیسے انداز سے جیتے ہیں ترے شہر کے لوگ
ایسا لگتا ہے ترے شہر کا رب کوئی نہیں
ایک دن تو بھی پکارے گا کوئی ہے میرا
اور پھر بول پڑیں گے یہاں سب کوئی نہیں




