غزل

غزل | نظامِ عدل کو جھنجھوڑنے کی کوشش | ڈاکٹر شکیل پتافی

غزل

 

نظامِ عدل کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی 

کبوتروں نے قفس توڑنے کی کوشش کی

 

چلو ! کوئی تو ہماری ڈگر پہ آ نکلا

چلو کسی نے تو سر پھوڑنے کی کوشش کی

 

میں چاہتا تھا اذیت میں موت کو دیکھوں 

سو ایک بار اُسے چھوڑنے کی کوشش کی

 

میں اُس کے ہاتھ سے خود کو بگاڑ بیٹھا تھا 

نہ جڑ سکا نہ کبھی جوڑنے کی کوشش کی 

 

زمانہ جانتا ہے کون ، کس طرح ٹوٹا ؟؟

مرے عدو نے مجھے توڑنے کی کوشش کی

 

شکیل ! وقت کا پہیہ رُکا سا لگتا ہے 

کسی نے آج مجھے چھوڑنے کی کوشش کی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x