غزل

غزل|خود اپنی نظروں سے میں گر چکا ہوں|مہدی حسین خالص

غزل

 

خود اپنی نظروں سے میں گر چکا ہوں 

تِری نظروں میں تب جا کر چڑھا ہوں 

 

مکمّل ہو چکا ہے وہ کسی کا 

میں جس کے بن ادھورا رہ گیا ہوں 

 

مزہ آتا ہے اس کا نام سن کر 

پتا ہے پھر بھی سب سے پوچھتا ہوں 

 

تِرا انگلی پھرانا یاد کر کے 

میں اپنے بال اکثر نوچتا ہوں 

 

مسلسل جنگ خود سے چل رہی ہے 

میں اپنے آپ میں اک کربلا ہوں 

 

بلندی کا سفر کرنا ہے مجھ کو 

سو تیرے قدموں میں آ کر پڑا ہوں 

 

جہاں میں نفرتوں کی دھوم ہے اور 

ابھی تک میں محبّت پر اڑا ہوں  

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x