غزل
غزل | نظر آتی ہے جب رستے میں شام آہستہ آہستہ | محمد عامر اعوان
غزل
نظر آتی ہے جب رستے میں شام آہستہ آہستہ
تو سورج جھک کے کرتا ہے سلام آہستہ آہستہ
جو آنکھیں راہ تکتی ہیں کبھی اس کو بھی دیکھیں گی
بدل جائے گا دنیا کا نظام آہستہ آہستہ
اُدھر اک شور اٹھتا ہے کہ کیا کوئی تمہارا ہے
سرک آتا ہے ہونٹوں پر وہ نام آہستہ آہستہ
وہ آنکھیں دیکھتی تو ہیں مگر اک وقفے وقفے سے
ہماری سمت بھی بڑھتا ہے جام آہستہ آہستہ
Author
URL Copied




