Blogsاُردو ادبافسانہ

امید کے جگنو / ثمرین مسکین

تمکنت کے گال غصے سے دہک رہے تھے؛اس نے معیز کے کان کو پوری قوت سے مروڑا تھا،وہ جتنی تکلیف اس کو دے سکتی تھی،دے رہی تھی؛اس کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی؛وہ آج اندر کاغبار ان معصوموں پر انڈیل رہی تھی،معیز کی سسکیاں درد کی وجہ سے نکلنے کو بیتاب تھیں، لیکن اس کا ضبط آنکھوں سے بہہ کر گالوں پر لڑھک رہا تھا۔ تمکنت کو معیز پر ذرہ برابر رحم نہ آیا تھا۔

بتاؤ کیوں نہیں لائی ٹیسٹ کی کاپی پچھلے دو دن سے کہہ رہی ہوں، تم ہو کہ کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی،وہ دانتوں کو کچکچاتے ہوئے ایک ہی سوال بار بار دہرا رہی تھی۔
معیز ہلکی سی سسکی لیتے ہوئے منمنایا باجی ابا کے پاس پیسے نہیں تھے؛ماں نے کہا ہے ایک دو دن تک لے دیں گی۔
تمکنت کے ہاتھوں کی سختی بڑھتی جارہی تھی؛چٹائی پر تکمنت کے اردگرد بیٹھے ٹیوشن پڑھنے والے سب کے سب بچے سہم گئے تھے۔
فراز کی حالت تو ایسی تھی،گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں؛کبھی وہ تمکنت باجی کو دیکھ رہا تھا،تو کبھی بیگ کی زپ کھول کر بار بار بیگ میں جھانک رہا تھا۔فراز کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا،ایک جارہا تھا۔

تمکنت نے معیز کا کان چھوڑ کر زوردار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا تھا،معیز کے گال پر تمکنت کے ہاتھ کا گہرا نشان پڑا تھا۔
پھر وہ ایک ایک کرکے سب کا کام دیکھنے لگی؛آج تو اس کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے،یہ وہ تمکنت باجی تو نہ تھی،جس کو وہ سب بچے جانتے تھے۔
نہ جانے کس ذہنی دباؤ میں وہ تھی اور اس کو ان معصوموں پر ختم کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔
فراز کی باری آنے ہی والی تھی؛ وہ اپنی بہن کے بازو کو جھنجھوڑ رہا تھا؛ آپی! آپی! میرے پاس بھی ٹیسٹ کی کاپی نہیں ہے؛اور اس کی آپی ایک نظر کتاب کو دیکھ کر رٹے لگا رہی تھی اور ایک نظر فراز کو دیکھ کر پریشان ہورہی تھی؛ اس نے سوچ لیا تھا کہ اگلی باری مار کھانے کی اس کے بھائی فراز کی ہے؛وہ دل ہی دل میں سراپا دعا بن گئی تھی۔
تمکنت نے فراز کا ردعمل دیکھ لیا تھا لیکن نہ جانے کیوں کچھ کہا نہیں تھا۔

وہ مسلسل کاپی کے تمام لکھے جاچکے صفحات کو پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کوئی خالی صفحہ اس کو نجات کا سندیسہ تھما دے
اور ہوا بھی یوں ہی تھا؛ ختم شد کاپی کا اکلوتا پھڑ پھڑاتا صفحہ فراز کا نجات دہندہ بن چکا تھا۔
کچھ دیر پہلے اڑنے والی ہوائیاں وہ یکسر بھول کر خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔
آہا! مل گیا؛ مل گیا؛ ختم شد کاپی کا اکلوتا خالی صفحہ مل گیا۔

فراز کی اس حرکت پر تمکنت نے ہاتھ روک کر فراز کے چہرے پر امڈتی خوشی کو بغور دیکھا تھا۔اس کو اس بچے پر بےساختہ پیار آیا تھا۔

پھر تمکنت نے ایک نظر معیز کو دیکھا، جو کاپی نہ ہونے کی سزا کاٹ رہا تھا۔اس نے معیز کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کر پاس بٹھایا؛ اس کے سرخ ہوتے گال کو پیار سے سہلایا تو فراز نے اس عمل پر تالیاں پیٹ ڈالیں،وہ خوش ہونے والا واحد بچہ تھا۔ تمکنت نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ساتھ بیٹھی فراز کی بہن نے فوراً اپنے ہاتھوں سے فراز کے تالیاں بجاتے ہاتھوں کو روک دیا۔

ایک لمحے کو ماحول پر سکتہ طاری ہوا؛تمکنت نے خود سے نظریں چرائیں، اپنے آپ سے سوال کیا؛کیا اس میں بھی حکمت ہے؟

وہ نہ جانے کتنی دیر سوچوں کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہوتی رہی؛کیا سے کیا ہوگئی تھی وہ،یا پھر اس کو ایسا بنا دیا گیا تھا؟اگر بنا دیا گیا تو وہ ایسی بنی ہی کیوں؟وہ ایسی کب تھی؟

وہ ناامید نہیں تھی،وہ شور سے خوفزدہ تھی،وہ تنہائی سے نہیں بھاگ رہی تھی، اس کو تنہائی سے کبھی کوفت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ حالات نے اس کو جس نہج پر لاکھڑا کیا تھا وہاں وہ بےبسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

اس تصویر سے ننھی روشنی نمودار ہوئی اور اس کو اپنے سنگ لے چلی اس جہاں میں جہاں صحرا میں پھول کھلنے لگتے ہیں اور امید کے جگنو رقص کرتے نظر آتے ہیں۔

اسے یاد آیا ایک بڑے مجمعے کے سامنے اسٹیج پر پورے اعتماد سے، اسپیکر میں دلیل سے بولنے والی وہ تنہا ہی تو تھی،وہ اس سوچ پر مسکرائی،تو جیسے اردگرد پھول کھلنے لگے۔

وہ انہی سوچوں کے گرداب میں تھی کہ کوے کے چنگل سے بچتی ننھی چڑیا پر نظر جا ٹھہری،ننھی چڑیا نے لگتا ہے پہلی اڑان بھرنا سیکھی ہے،وہ اس چڑیا کے بچ نکلنے کےلیے دعا گو تھی،چڑیا کی پہلی ہی اڑان تھی لیکن وہ کوے کو مات دے کر صحن میں لگے درخت کے اکلوتے گھونسلے میں پناہ لے چکی تھی،نہ جانے کیوں تمکنت کے چہرے پر چڑیا کی جیت پر دھیمی مسکان آکر ٹھہر گئی تھی۔

پھر اس کی نظر آسمان کی وسعتوں میں گئی تو اس نے زیر لب کہا،چندا ماموں!
ستاروں کے جھرمٹ میں پوری آب وتاب سے چمکتا اکلوتا چاند،ہاں اکلوتا چاند جو ہر روز اپنی پوری آب وتاب سے چمکتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی اور ٹھنڈی ہوا کے معطر جھونکوں کے سنگ جھومنے لگی۔

اکلاپا ناگ نہیں ہوتا جو نگل لے،یا دیمک نہیں ہوتا کہ چاٹ کھائے،بلکہ کہیں خوشی بنتا خالی صفحہ ہوتا ہے،کہیں اسٹیج پر بولتا اعتماد،کہیں دور افق پرستاروں کے جھرمٹ میں ٹھاٹھ سے چمکتا چاند!
کہیں پناہ دیتا گھونسلہ اور کہیں کسی کو خوش کن احساس بخشنے والا ننھا بچہ،فراز! وہ زندگی کا مقصد سمجھ چکی تھی۔

وہ اب پرسکون ہوچکی تھی،پرانی والی تمکنت باجی لوٹ آئی تھی،اس نے ایک مہربان نگاہ اپنے اردگرد بیٹھے بچوں پر ڈالی اور فراز کے سنگ تالیاں بجانے لگی۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x