غزل
غزل / چپ کی اک آہنی دیوار ہوئے جاتے ہیں / ستار عظیم
غزل
چپ کی اک آہنی دیوار ہوئے جاتے ہیں
لوگ جو عشق میں بیمار ہوئے جاتے ہیں
کھلتی جاتی ہے ہر اک راہ مسرت ان پہ
جو ترے غم کے طلبگار ہوئے جاتے ہیں
دوڑ پڑتے ہیں مری ذات کےصحراکی طرف
اپنی دنیا سےجو بیزار ہوئے جاتے ہیں
مجھ سے آوارہ مزاجوں کی خدا خیر کرے
سب ترے غم میں گرفتار ہونے جاتے ہیں
ہم فراوانئ احساس محبت کے طفیل
لذت درد کا اظہار ہوئے جاتے ہیں
وقت آئے گا سبھی ہوش میں آئیں گے عظیم
یہ سبھی لوگ جو اغیار ہوئے جاتے ہیں




