الوداعی ملاقات / احمد علی شاہ مشال
الوداعی ملاقات
جب میں اُس آنگن میں داخل ہوا
تو غم نے میرا ہاتھ تھام لیا
اور خاموشی ماں کی طرح
مجھے سینے سے لگا بیٹھی
لفظ تھک کر
دیواروں سے ٹیک لگا چکے تھے
اور آنکھیں
دل کی واحد زبان بن گئی تھیں
نانی لیٹی تھیں
یوں جیسے شام کے بعد
کوئی چراغ
ہوا سے مصافحہ کر کے
آہستہ آہستہ خاموش ہو جائے
اُن کی آنکھوں میں سرمہ تھا
جیسے رات نے اپنی سیاہی
محبت سے اُنہیں سونپ دی ہو
کہ یہ آنکھیں اب روشنی
کسی اور دیس میں دیکھیں گی
بال قرینے سے آراستہ تھے
یوں جیسے وہ جانتی ہوں
کہ سفر طویل ہے
اور خدا کے حضور
بے ترتیبی اچھی نہیں لگتی
وہ پُرسکون تھیں
یوں جیسے شبِ یلدا کا چاند
جسے معلوم ہو
کہ اُسے ڈوبنا نہیں
بلکہ کسی اور آسمان پر چمکنا ہے
میں رونا چاہتا تھا
مگر آنسو میرے اختیار میں نہ رہے
شاید وہ پہلے ہی نانی کے ساتھ
اُس کنارے جا چکے تھے
جہاں جدائی یادوں میں بدل جاتی ہے
اب بھی رونا چاہتا ہوں مگر
اب میری آنکھوں میں
آنسو نہیں، یادیں ٹھہری ہیں




