اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب : کیول رام کا کافر کوٹ/ تبصرہ نگار: منیر احمد فردوس

کیول رام کا کافر کوٹ۔۔۔وقت کے پردوں میں چھپی ایک گمشدہ تہذیب کی بازیافت

حمزہ حسن شیخ کا ناول کیول رام کا کافر کوٹ پڑھتے ہوئے یہ احساس قاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے کہ وقت ہمارے چاروں طرف خاموشی سے بہہ رہا ہے اور وقت کی ان بہتی لہروں کے بیچ ہم سب جئے جا رہے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وقت کیا ہے اور اس کی شناخت کیسے ممکن ہے؟

بظاہر تو یہ سائنسی نوعیت کا سوال ہے جسے سائنسی پیراڈائم میں ہی سمجھا جا سکتا ہے، تاہم ادراک کی سطح پہ اگر وقت کی پہچان کی بات کی جائے تو میرے نزدیک چیزوں کے معدوم ہونے اور ان کے بوسیدہ ہو جانے سے ہی وقت کو محسوس کیا جا سکتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وقت نام کی کوئی اکائی کائنات میں ایگزسٹ کرتی ہے، جیسے انسان کا بوڑھا ہو جانا، عمارتوں کا خستگی اوڑھ لینا، چیزوں کا گل سڑ جانا وغیرہ۔ شاید فنا یا بوسیدگی کا یہی عمل احساسات کی سطح پہ وقت کو ماپنے کا واحد پیمانہ بھی ہو، ورنہ وقت کا اپنا وجود محسوس کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔

اب وقت کا بہاؤ کیسے ہوتا ہے؟ یہ ایک الگ موضوع ہے، بہرحال محققین کے نزدیک وقت محض ایک سیدھی لکیر نہیں بلکہ یہ مختلف ابعاد (ڈائمینشنز) کا مجموعہ ہے جن میں انسان سفر کرتا دکھائی دیتا ہے جبکہ وقت انسان کے برعکس ایک الگ سمت میں بہتا ہے یعنی وہ اپنی الگ ڈائمینشن رکھتا ہے جیسے ماضی، حال اور مستقبل۔ جس طرح وقت اور خلا آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اسی طرح تخلیق اور زمان و مکان بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور زمان و مکان کے بغیر کوئی بھی تخلیق اپنا وجود قائم نہیں رکھتی۔ "کیول رام کا کافر کوٹ” میں بھی مصنف نے متن میں زیادہ تر وقت کی پہلی جہت یعنی ماضی میں اتر کر کافر کوٹ کی گمشدہ تاریخ کو اس مہارت سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قاری خود کو آٹھویں صدی کا باشندہ تصور کرنے لگتا ہے اور پورا کافر کوٹ اپنے تمام تر خدوخال کے ساتھ زندہ ہو جاتا ہے، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ناول کیول رام کا کافر کوٹ تاریخیت اور نو تاریخیت جیسے ادبی متون کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے میرے نزدیک حمزہ حسن شیخ کا ناول تاریخیت اور نو تاریخیت کے تناظر میں ایک سنجیدہ ادبی مکالمے کی دعوت دیتا ہے۔

یہاں تاریخیت اور نوتاریخیت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخیت وہ ادبی رویہ ہے جس میں کسی تحریر کا اس کے مخصوص زمان و مکان میں اتر کر مطالعہ کیا جاتا ہے اور موضوع کے تاریخی، ثقافتی، سماجی، مذہبی اور معاشی انسلاکات کو دیکھا جاتا ہے۔ اس زاویے سے متن اپنے اصل عہد کی منظر کشی کرتے ہوئے فکری سطح کے کئی سوالات کھڑے کرتا ہے، جبکہ مصنف کا شعور، زبان اور موضوعات اسی مخصوص تاریخی پس منظر سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ اس کے برعکس نوتاریخیت کے تحت نہ صرف متن بلکہ خود تاریخ بھی غیر جانبدار نہیں ہوتی۔ چونکہ تاریخ طاقت، اقتدار، اور سیاسی و مذہبی نظریات کے زیر اثر لکھی جاتی ہے، اس لیے متن اور تاریخ کے درمیان یک طرفہ تعلق نہیں بلکہ یہ دونوں باہمی تعامل کے باعث ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ نوتاریخیت کے زیرِ اثر متن اپنے عہد کے طاقت کے ڈھانچوں کو صرف منعکس ہی نہیں کرتا بلکہ کہیں ان کی مزاحمت، کہیں توثیق اور کہیں کسی مروجہ بیانیے کو مدلل انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ حمزہ حسن کے ناول میں بھی تاریخیت کے اندر رہتے ہوئے یہ انوکھا زاویہ ملتا ہے کہ فکشنلائزیشن کو نوتاریخیت کا حصہ کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔

نوتاریخیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو حمزہ حسن شیخ نے کافر کوٹ کے ان قدیم مندروں اور قلعے کی فصیلوں کو محض پتھروں کے ڈھیر کے طور پر نہیں برتا، بلکہ انہیں ایک ایسے ثقافتی متن میں تبدیل کر دیا ہے جو اپنے عہد کی سماجی، سیاسی، استبدادی اور شورش زدہ عسکری پیچیدگیوں کی گواہی دیتا ہے۔ مصنف نے کسی مہا بیانیے کو تشکیل دینے کے بجائے ان چھوٹی چھوٹی انسانی سچائیوں اور مقامی تاریخ کے ان گمشدہ گوشوں کو کریدا ہے جنہیں کسی تاریخ دان نے کبھی اہمیت نہیں دی۔ شاید اسی لیے کافر کوٹ کی تاریخ ہمیشہ وقت کا کوئی گمشدہ ٹکڑا رہی، جسے حمزہ حسن شیخ نے فکشن اور نوتاریخیت کی پیوند کاری سے جوڑ کر کافر کوٹ کا ایک ادھورا وجود مکمل کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔

اگر میں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر ناول کیول رام کا کافر کوٹ کی جمالیات کی بات کروں تو کم از کم میرے لیے یہ کسی مہمیز سے کم نہیں کہ پہلے تو یہ ہوتا آیا تھا کہ جب کبھی کافر کوٹ جانے کا قصد کیا، ایک لمبا سفر طے کر کے، پتھریلی پہاڑیوں کی چوٹیوں کو سر کرتے ہوئے وہاں پہنچتے تو ہمیشہ ایسا ہوتا کہ اجڑے ہوئے قلعے کے معدوم ہوتے نقوش اور کہن سالی کا شکار ٹوٹے پھوٹے مندروں کے کھنڈرات ایک اداس گیت کے ساتھ ہمارا استقبال کرتے۔ ہم ان ویرانوں میں گھنٹوں گھومتے اور دور دور تک پھیلی خاموشی کو اپنے قدموں کی آہٹ سے روندتے ہوئے، کھنڈرات کا چپہ چپہ چھان مارتے اور منوں تنہائی تلے دفن گمشدہ اساطیری تہذیب کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔ اپنے قیاس کی انگلی تھام کر خیالوں ہی خیالوں میں راجہ بل اور راجہ ٹل کے قلعے ڈھونڈ نکالتے، لشکر کے سپاہیوں کی ابھرتی چاپ سنتے، مندروں کی سیڑھیاں چڑھتی رعایا کو دیکھتے، قلعے میں گونجتی گھنٹیوں کی بازگشت سنتے، پہاڑیوں کے چوٹیوں کے اُس پار اگی بڑی بڑی جھاڑیوں میں گم ہو جانے والے سندھو دریا کا چمکتا پانی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔ غرض کھنڈرات میں سوئی ہوئی صدیوں پرانی معاشرت کی کڑیاں ملاتے ہوئے اپنے تخیل کے جہانوں میں ایک گمشدہ تہذیب کو کھڑا کر دیتے اور وہاں خوب وقت گزارتے جو ذرا سی بے دھیانی سے پلک جھپکتے ہی ٹوٹ پھوٹ جاتی اور ہم خالی ہاتھ واپس لوٹ آتے۔

مگر اب ایسا نہیں ہے۔ حمزہ حسن شیخ کے ناول "کیول رام کا کافر کوٹ” نے عہدِ رفتہ کے پرانے کافر کوٹ میں اترنے کا ایک حقیقی راستہ دکھا دیا ہے۔ ناول کی قرطاسی دنیا میں قدم رکھتے ہی سیدھا کافر کوٹ کی سانس لیتی زندہ معاشرت میں پہنچ جاتے ہیں اور وقت کے پردوں میں گم ہو جانے والی ایک پوری تہذیب اپنی تمام تر اساطیری سحر انگیزی کے ساتھ ہمارے سامنے بچھتی چلی جاتی ہے۔ راجہ بل، راجہ ٹل اور راجہ آکل ہماری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ کافر کوٹ کا تعمیر شدہ دیو ہیکل قلعہ اپنی تمام تر شان و شوکت کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور ہند شاہی کا سندھو سماج اپنے ثقافتی خدوخال کے ساتھ پوری طرح سے جاگ اٹھتا ہے۔ خاص طور پر ناول نگار نے ہولی، دیوالی اور میلے ٹھیلوں کی جو حیران کن اور متحرک منظر کشی کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کافر کوٹ کے اجڑے ویرانوں میں پڑا ایک ایک پتھر کیسی شاندار تہذیب اور چہکتی لہکتی زندگی کا چشم دید گواہ ہے۔ مندروں کی تعمیر، وہاں ہوتی پوجا پاٹ، یہاں وہاں گھومتے سپاہی، مندروں کی اوٹ میں بہتا سندھ دریا… کابل، چین، فارس، خراسان وغیرہ سے آتے جاتے بڑے بڑے تجارتی بیڑے، کافر کوٹ کے قلعے میں پناہ لیتے شرنارتھی، حملہ آور جنگی لشکر، یہاں تک کہ دیبل اور پنجاب میں محمد بن قاسم کی فتوحات، محمود و ایاز کے حملے، بغاوتیں، سازشیں، قتل و غارت، کافر کوٹ کے دامن میں منعقد ہوتے تہوار، طوائفوں کی رقص و سرود میں ڈوبی محفلیں اور کافر کوٹ کی پوری اساطیری تاریخ اب تخیل نہیں رہی بلکہ یہ سب حمزہ حسن شیخ کے ناول "کیول رام کا کافر کوٹ” کی قرطاس کی سلطنت میں نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا بلکہ پوری طرح سے جیا بھی جا سکتا ہے۔ حمزہ حسن شیخ نے قلعے کی داخلی زندگی اور اس عہد کے ثقافتی مظاہر کی جو تجسیم کی ہے، وہ محض منظر نگاری نہیں بلکہ ایک "گمشدہ تہذیب کی از سرِ نو دریافت” ہے۔

حمزہ حسن شیخ نے نوتاریخیت کے اسلوب کو برتتے ہوئے کافر کوٹ کی تاریخ کے گمشدہ اور ادھورے گوشوں کو جس طرح فکشنلائز کر کے انہیں آپس میں جوڑا ہے، وہ کہانی کے خلا کو پُر کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کے ذہن میں تیکھے سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، قاری بھی نوتاریخیت کے گہرے متن میں اتر کر مصنف سے کچھ اہم سوال کرتا ہے کہ نوتاریخیت جیسے ادبی متن سے کام لینے کی حد کیا ہے؟ کیا ایک تخلیق کار نوتاریخیت کی بنیاد پر ایک نئے اور متوازی بیانیے کا براہِ راست تجربہ کرتے ہوئے، پہلے سے مروج کسی بھی خاص تاریخی بیانیہ کو رد و قبول کے دائرے میں لا سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کیا فکشن کی آزادی، تاریخ کے مسلمہ ڈھانچے میں اس حد تک مداخلت کی مجاز ہے کہ وہ ایک متبادل سچائی کو جنم دے سکے؟ جیسے دیبل کے فاتح کا لونڈیاں حجاج کو نہ بھیجنے پر معذول ہو کر گرفتار ہو جانا، محمود و ایاز کے تعلق کو باہم وجود کی سطح پہ دیکھنا وغیرہ

تاہم، نوتاریخیت کی بنیاد پر فکشن کے یہ تجربات نئے نہیں ہیں۔ ہمارے سامنے ہرمن ہیسے کے شہرہ آفاق ناول "سدھارتھ” کی مثال موجود ہے جہاں بدھا کے مہا بیانیے کو ناول کے کردار سدھارتھ کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے۔ جو گہرے استدلال کے ذریعے قاری کو ذہنی، نفسیاتی و منطقی طور پر پوری طرح سے قائل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر وحید احمد کے ناول "زینو” میں بھی نوتاریخیت کی بہترین مثال ملتی ہے۔ جہاں زینو جیسے کردار نے بڑے بڑے فلسفیوں، دانشوروں اور تاریخی مہا بیانیوں سے منطق کی سطح پر مکالمہ کر کے، ان کی دانش اور علم و فلسفے پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے ہیں، مگر اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کے بڑے ذہنوں سے براہِ راست مکالمہ کرنے کی بجائے ڈاکٹر وحید احمد نے زینو جیسے کردار کا سہارا لیا اور بیان کی بجائے محسوسات کی سطح پر اتنا بڑا کام کیا، جبکہ یہی کام وزیر خانم کے کردار سے شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ناول کئی چاند تھے سرِ آسمان میں لیا، جو نوتاریخیت کی معتبر مثال ہے۔

اس لئے میری ناقص رائے میں "کیول رام کا کافر کوٹ” ناول میں جو کام مصنف نے اپنے شاندار طویل بیان کی طاقت سے لیا ہے، وہی کام احساس کی قوت سے کیول رام کے کردار سے لیا جا سکتا تھا، جس سے استفادہ کرتے ہوئے نوتاریخیت کے ذریعے جدلیات کی سطح پر کسی بھی مروج تاریخی بیانیے کے رد و قبول کی ذمہ داری کیول رام کو سونپی جا سکتی تھی۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر کیول رام کا کافر کوٹ اس لئے بھی ایک اہم ناول قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہ کافر کوٹ کی گمشدہ اساطیر کی تلاش کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے، جس نے کافر کوٹ کی صدیوں سے معدوم تہذیب کے خدوخال کو ازسرِ نو زندہ کر کے اسے قاری کے اندر سانس لینے پر اکسایا ہے۔

حمزہ حسن شیخ کے اس کامیاب تجربے کو سراہنا چاہیے اور میرے خیال سے یہ سلسلہ مزید آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ کوئی بھی موضوع، تاریخ، عمارات، زمان و مکان، ادب، فکشن وغیرہ کسی کی ذاتی میراث نہیں ہوتی اور ایک ہی موضوع پر ڈھیروں کہانیاں لکھی جا سکتی ہیں، تقسیم کے فسادات پر لکھا گیا اردو ادب اس کی بہترین مثال ہے۔ اس لیے "کیول رام کا کافر کوٹ” دوسرے تخلیق کاروں اور قلمکاروں کے لئے بھی ایک طرح سے تخلیقی دعوت ہے کہ اس تاریخی ورثے پر اپنے اپنے انداز کی مزید تخلیقات کو سامنے آنا چاہئے، تاکہ کافر کوٹ کی تہذیب اردو ادب میں کئی جہتوں سے پوری طرح سے زندہ ہو جائے۔
پروف ریڈنگ کی غلطیوں سے قطع نظر حمزہ حسن شیخ کو ایک عمدہ ناول کی تخلیق پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ناول کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

1۔ رومیل ہاؤس آف پبلیکیشز، کمیٹی چوک، راولپنڈی 03558074668

2۔ یونائٹیڈ بک سنٹر، ڈیرہ اسماعیل خان +92 342 9240608

3۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
وجاہت علی عمرانی
وجاہت علی عمرانی
27 days ago

منیر احمد فردوس صاحب، آپ کا تبصرہ محض رائے نہیں بلکہ فکشن، تاریخ اور تنقید کے باہمی رشتے پر ایک سنجیدہ اور بصیرت افروز مکالمہ ہے۔ نوتاریخیت اور جدلیات کے تناظر میں کیول رام کے کردار کی قرأت نہایت فکری گہرائی کی حامل ہے۔ آپ نے نہ صرف حمزہ حسن شیخ کے تخلیقی تجربے کو سمجھا بلکہ اردو فکشن کے لیے نئی تخلیقی سمتوں کی نشان دہی بھی کی۔ ایسی تحریریں ادب کو آگے بڑھاتی ہیں، دل سے داد قبول فرمائیں۔

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x