غزل/شام کے کہنے پہ رستوں کی تھکن رکتی نہیں / جنید آذر

غزل
جنید آذر
دستکیں خاموش ہیں، دروازے سب حیران ہیں
کون جانے گھر کے اندر کون سے طوفان ہیں
شام کے کہنے پہ رستوں کی تھکن رکتی نہیں
وقت کی چوکھٹ پہ کیوں لمحے سبھی بے جان ہیں
روح کے کمرے میں بچھڑے موسموں کی گرد ہے
کہنے کو سب پاس ہیں، ہونے کو سب ویران ہیں
اک شکستہ شکل میں بیٹھا ہوا ہے خود وجود
آنکھ کے سب آئینے کس ذات کی پہچان ہیں
چند بوسیدہ خیالوں نے ہمیں روکا بہت
ورنہ دل کے در کُھلیں تو کتنے ہی امکان ہیں
کوئی آہٹ آ بھی جائے تو مکمل ہو نہ وہ
ہم پہ جو پردے پڑے، صدیوں کے وہ احسان ہیں
شہر کے بے نور رستوں پر صدا گم ہو گئی
سارے خالی ہاتھ منظر چپ کے ہی عنوان ہیں
کیا کہانی کے ورق پلکوں پہ جم کے سو گئے
خواب کے محلوں کی سب راہداریاں ویران ہیں
کہر کی تہہ میں چھپے کچھ نام تھے، کچھ درد بھی
ریت پر تحریر یہ سب حرف بے سامان ہیں
گھومتے ہیں اپنے اپنے دائروں کے درمیاں
سب کے ہاتھوں میں کسی تقدیر کے فرمان ہیں
اک صدی کا فاصلہ اور ایک لمحے کی دھڑک
کیا رکی سانسوں کے چلنے کے بھی کچھ امکان ہیں
اتنی گہری خامشی اور خوف کی پرچھائیاں
دشت ہے یا یہ کسی کے دل کا قبرستان ہے
۔۔۔۔۔۔




