
سندھانی مائی اپنے شوہر مٹھن کی قبر کھودتے کھوتے ہانپ گئی۔ بے درد سورج آگ برسا رہا تھا اور اسے چھ مردہ اجسام زمین کی امانت کی طور پر اس کے حوالے کرنے تھے اس نے کدال ایک طرف رکھی اور مٹھن کے قریب بیٹھ کر اسے گھورنے لگی ۔
گئے وقتوں کی بات تھی ۔بارشیں اس وقت بھی ہوتی تھیں ۔سب لوگ جھومر ڈالتے تھے اور بارشوں کے گیت گاتے تھے، "اللہ بارش بھیجے تاکہ زمین پھر سے جی اٹھے”۔
خدا بخش وڈیرے کے بیٹے کی شادی تھی۔ سندھانی مائی جوان تھی۔ امنگوں سے بھرپور ۔۔۔۔اور تب سندھو بھی البیلا اور دلربا تھا۔
اس کا ناگن ڈانس بہت مشہور تھا ۔مہندی کی رات وہ ناچتی رہی۔ سندھی کڑھائی کے شیشوں کے کام والا گھاگرا پہنے، جسم پر چمکتے زیورات, خم کھاتی کلائیاں ،بل کھاتا بدن۔۔ وہ ایسے ناچ رہی تھی جیسے خود کوئی ناگن ہو اور اپنے ناگ کے ہجر میں دیوانی ہو گئی ہو۔ سارا ماحول چاندنی میں ڈوبا ہوا تھا۔ بانسری کی مدھم، سحر انگیز اور وقت کو ساکت کر دینے والی دھن گونج رہی تھی۔ اس کے آس پاس لوگوں کا ہجوم سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا۔
زمین پر شیشوں کی چمک بھی اس کے ساتھ ناچ رہی تھی۔ کافی دیر کے بعد اچانک وہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو جاتی ہے جیسے کوئی سانپ حملے کے وقت ٹھٹھک جاتا ہے ۔
پھر ایک آخری جھٹکے کے ساتھ وہ زمین پر جھک جاتی ہے۔
یہ رقص کے ختم ہونے کا اشارہ تھا۔ فضا تالیوں سے گونج اٹھی۔ بہت دیر تک ماحول اس کے رقص کے فسوں میں رہا جیسے اس کی غیر مرئی شبیہہ ابھی تک اپنے ناگ کو کھوج رہی ہے۔
سب چلے گئے مگر مٹھن وہیں رہ گیا
سدھانی مائی کے بدن کے پیچ و خم اور ناگن کی پیاس جیسا رقص اسے وہاں سے ہلنے نہیں دے رہا تھا۔ بستی کے تمام مچھیروں میں وہ سب سے زیادہ جی دار تھا ۔طوفانوں کا مقابلہ ڈٹ کر کرتا تھا۔
شادی کی رات سندھانی مائی عنابی رنگ کے جوڑے میں کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔ اس نے سر پر رنگین دھاگوں اور آئینہ کاری سے مزین اوڑھنی لپیٹ رکھی تھی۔ ٹیکا۔ ناک کی نتھ، کانوں میں جھمکے، ہاتھوں میں چوڑیاں ،پیروں میں پچھوے، مٹھن کے کانوں میں اسے دیکھ دیکھ کر وہی بانسری کی مدھرتا اور چاندنی رات کا فسوں بول رہا تھا۔
اچانک کوؤں کے ایک غول نے مٹھن کی لاش پر حملہ کر دیا تو سندھانی مائی چونکی اور جلدی جلدی اپنے ہڈیوں بھرے ہاتھوں سے قبر کو مکمل کیا۔ مٹھن جو کہ خود بھی ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا، کوبہ مشکل گھسیٹ کر قبر نما گھڑے تک لائی اور اس کے اندر دھکیل دیا پھر اس نے اپنی فرضی چوڑیاں توڑیں اور اس کے دردناک بین فضا میں گونجنے لگے۔ ارد گرد پانی اور کیچڑ کے ڈھیر آزمائشوں کی کہانیاں بن گئے تھے۔ جہاں کبھی باجرے کی فصل لہراتی تھی وہاں اب دور تک سمندر نظر آتا تھا۔
اِکا دُکا بچ جانے والے کھجور کے ٹنڈمنڈ درختوں پر کوّے اور چیلیں بیٹھے تھے اور نیچے ٹوٹے گھروندے، ادھورے خواب اور دلخراش یادیں نوحہ کناں تھیں۔
پانی کے بہاؤ کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا بہہ کر آ رہا تھا مگر سب سے اذیت ناک منظر انسانوں اور مویشیوں کی آدھی ادھوری لاشیں تھیں۔
آج بہت تیز دھوپ نکلی تھی مگر وہ ہر تپش سے بے نیاز ہو چکی تھی۔ باوجود لوگوں کے سمجھانے کے وہ امدادی کیمپ نہیں گئی تھی ہاں اس کا پوتا مراد علی جو کہ اسی دن پیدا ہوا تھا جس دن سیلاب آیا تھا اور ان کا کچا گھروندا زمین بوس ہو گیا تھا۔ پوتے کو اس نے کریماں کو سونپ دیا تھا۔
تین پوتیوں کے بعد مراد علی کی پیدائش کا سہانا اور خوابناک دن کتنا کرب انگیز بن گیا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے زردہ بنا کر بستی بھر میں بانٹا تھا اور آج تیسرا دن تھا ۔۔۔
اس کی بہو شہزادی، تینوں پوتیاں پیارل، نوراں، لالن اور اس کا اکلوتا بیٹا بچل سیلاب کی نذر ہو کر لاشوں میں تبدیل ہو چکے تھے وہ بدبخت تھی یا خوش بخت، بہرحال اپنے پوتے مراد علی کے ساتھ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئی تھی، دو دنوں کی مشقت کے بعد وہ زمین کو اپنے پیاروں کی امانتیں سونپ کر آج رات کیمپ لوٹی تھی۔
مراد علی کو دیکھ کر اس کا دل بھربھرآتا تھا۔ سمندروں کی ایک داستان مشہور ہے کہ ایک ماہی گیر مراد نے سمندری دیوی سے وعدہ کیا تھا کہ اس سمندر سے رزق ایمانداری سے کمائے گا اور کبھی سمندر سے دغا نہیں کرے گا ۔
جب ایک رات شدید طوفان نے لہروں کو تلپٹ کر دیا تو مراد علی وہاں سے بھاگنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں کھڑا لہروں سے لڑتا رہا۔
لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سمندر نے اس کی وفاداری کے سامنے ہار مان لی تھی اور واپس چلا گیا تھا۔ آج بھی ماہی گیر کشتی روانہ کرنے سے پہلے کہتے ہیں اے خدا مراد ماہی گیر کا حوصلہ دے تو جب اس کا پوتا پیدا ہوا تو مٹھن نے اس کا نام مراد علی رکھ دیا۔
سندھانی مائی مراد علی کو گود میں بھرے سوچتی رہتی کہ وہ بڈھی کھوسٹ، اب مری کہ تب مری تو اس کا کیا ہوگا؟ ہو سکتا ہے کہ کوئی اچھا آسرا بن جائے ورنہ ایک دن سمندر اسے بھی کھا جائے گا۔
وہ درد بھری آواز میں لوریاں گاتی تو کیمپ کی مائیں اپنے بچوں کو سینوں سے بھینچ لیتیں جیسے ان کے بدن تک سمندر کی رسائی ممکن نہیں مگر سندھانی مائ کا تو سینہ خالی تھا۔ کبھی یہی سینہ زندگی کی ندی تھا جس سے محبت اور پرورش کے چشمے پھوٹتے تھے مگر اب وقت کی دھوپ نے اس کے کناروں کو خشک اور خالی کر دیا تھا۔ اب اس خاموش زمین پر یادوں کے سوکھے پھول تو تھے مگر بہار نہیں ۔۔
ہائے اب اس کا مراد علی اگر روئے گا تو اسے کون چپ کر ائے گا؟؟ سمندر بھی عجیب شے ہے ۔اس میں تاریخ اور تاریخ کے روشن و تاریک دریچے اور اسرار میں لپٹی داستانیں ایک ساتھ لہروں کی طرح بہتی ہیں۔
ہر لہر سمندری داستانوں کی کائنات ہے اس کے ساحلوں کے قریب جو کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، یونانی اساطیر کے مطابق اٹلانٹس آباد تھا انسانوں کی نا عاقبت اندیشیوں نے اسے غرق کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ساحلوں سے نیلی روشنیوں کی جھلملاہٹ نظر آتی ہے گویا کوئی بھولی ہوئی تہذیب مدد مانگ رہی ہو۔
آج سندھانی مائ سمیت بہت سے لوگوں کا شہر ڈوب کر نیلی روشنیوں میں ڈھل چکا تھا۔
وہ کافی دیر سے مراد علی کو گود میں لیے خاموش نظروں سے اس مقام کو کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں پانی اچانک سیاہ ہو جاتا ہے۔ سمندر کے بارے میں یہ ساری لوک کہانیاں وہ اپنے بزرگوں سے سنتی آئی تھی۔
اسے لگ رہا تھا کہ ابھی بھی سمندر سے نیلا
دھواں اٹھ رہا ہے۔ یہ طوفان کی نشانی سمجھا جاتا تھا ۔
اس کا علی مراد سمندر کا بیٹا تھا اور سمندر نے اسی لمحے اسے وہ راز بتا دیا جو صرف اسے سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔
ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ مدتوں کے بعد سندھانی مائی نے اپنا من پسند ناگن رقص شروع کر دیا۔
اس کے پاس کھڑے لوگوں کی آنکھوں میں اب استہزاء جھلکنے لگا کچھ اسے ہمدردی سے دیکھ رہے تھے۔
ناگن رقص کر رہی تھی آج چودھویں کی رات تھی ۔سندھانی مائی ایک ایسی ناگن لگ رہی تھی جس نے چاند کی روشنی کو اپنی سنہری دھاریوں میں جذب کر لیا۔ ہو فضا بوجھل تھی اس کا رقص اب محبت کا نہیں بلکہ انتقام کا مظہر بن چکا تھا۔ کینچلی اتری ناگن کے رقص میں اب زہر اتر آیا ہے کیونکہ وہ اپنے مراد علی کو ایک بے اولاد، مہربان جوڑے کے حوالے کرآئ تھی۔
روبینہ یوسف
20/10/025




