
شہزادی یوں تو ذہین و فطین تھی ۔مگر اس کا خیال تھا کہ منکوحہ اور کنیز میں فرق ہوتا ہے ۔شاہی محل کی مکین بن جانے کے باوجود اس نے اپنا تحقیق اور مطالعہ کا شوق جاری رکھا تھا ۔
ناشتے کی میز بہت اہتمام سے آراستہ کی گئی تھی ۔چین سے منگوائے گئے طوطے اور بنگال کی مینائیں آپس کا آنکھ مٹکا بھول کر جیسے
پبوں کے بار چلتےتھے۔پتہ نہیں انہیں خبر تھی یا نہیں کہ آج ناشتے کی میز پر بادشاہ سلامت جلوہ افروز ہوں گے ۔ضیعف العمر بادشاہ کے ہاتھوں کا رعشہ جب بہت بڑھ کیا تو بہ امر مجبوری اس نے قلم دان سلطنت شہزادے کے سپرد کر دیا۔خوف نے اسے کچھ اور بھی تسلط پسند بنادیا۔
بادشاہ کے ہاتھوں میں لرزش تھی ۔کہن سالی کے باعث چہرے کے نقوش کبھی کیسے رہے ہوں گے بتانا مشکل تھا۔دو حسین و جمیل کنیزیں بادشاہ کو ناشتہ کرانے پہ معمور تھیں۔پہلو میں ملکہ فروکش تھیں ۔شہزادی اپنی نشست پر مؤدب بیٹھی تھی۔ستون کے قریب سے خرگوشوں کے جوڑے نے جھانک کر دیکھا اور باہر برآمدے کی طرف دوڑ لگا دی ۔
کنیز خاص نے ایک نرتکی کی سی مہارت سے انگلیوں کو حرکت دی اور ایک نفیس ریشمی رومال بادشاہ کی پوشاک پہ گلےکےپاس جمایا۔کنیز کی نرم وملائم انگلیوں کے لمس سےبادشاہ سلامت مسرور ہوۓ ۔
نفس پہ بڑھاپا نہ آئے تو بدن سے ہوس ختم نہیں ہوتی۔روغن زیتون میں پکے حلوے کا نوالہ نگل کر شہنشاہ معظم نے شہزادی کو مخاطب کیا۔شنید ہے کہ آپ صبح دیر تک استراحت فرماتی ہیں ۔شاہی محل کے حرم میں صبح نوبت بجنے کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے ۔اور اصول سب کے لیے ہوتے ہیں ۔ایسا فعل جس کے رسم بننے کا خدشہ ہواور لوگ متوجہ ہونے لگیں۔اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔پدر محترم ! شہزادی نے تعظیم میں سر جھکایا "۔
ستاروں کے مطالعہ اور رنگ سما پہ تحقیق کے باعث شب بیداری میں گزرتی ہے اور فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد بستر پہ جانے کی وجہ سے صبح اٹھنے میں تاخیر ہو جاتی ہے ۔جواب بہت ادب سے دیا گیا ۔
” اس مشغولیت کا مقصد ؟بادشاہ سلامت نے ابرو اٹھاے "۔” انسان کے علم کا اثاثہ بڑھے اور اس ملک خدا داد کے باشندگان علم و فضل میں جہان دیگر سے بڑھ کر ہوں”.
گردن کو خم دے کر شہزادی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا ۔
مرد جہاں دیدہ وزیرک طبع کم یاب ہو گئے کیا؟”بادشاہ کی پیشانی پہ ناگواری کی شکنیں پڑیں ۔
شہزادے نے اپنی نشست پہ پہلوبدلا ۔مادر ملکہ کی آنکھیں پھیلیں۔
شہزادی کی آنکھوں میں حیرانی ہویدا ہوئی ۔
"پدر محترم ! خدا جانبدار نہیں ہے
اس کی عطاء انسان کے لیے ہے ۔مرد اور عورت کے لیے احکام اور فرائض ہیں ” ۔”سر تسلیم خم ہے ” -سننے والے بادشاہ کا رعشہ زدہ ہاتھ حالت اضطرار میں اٹھا -کنیزنے پھلوں کے رس سے بھرا گلاس دوبارہ میز پر واپس رکھ دیا-رشمیں پردوں کے قریب استادہ کنیزیں بے آواز قدموں سے آگے بڑھیں-بادشاہ نے اپنے بوڑھے بازو جوان کنیزوں کے کندھوں پہ پھیلاے اور دروازے کی طرف بڑھا -ایک لمحے کو شہزادی کر گمان ہوا جیسے کوئی بوڑھا گدھ شمشان گھاٹ کا رستہ بھول کر ادھر آنکلا ہو اس نے زور سے اپنے سر کو جھٹکا –
پائیں باغ کی
دائیں دیوار کے ساتھ لگے آم کے پیڑوں پر بے تحاشا بور تھا -فوارے کے آس پاس مور اور چکور یوں چلتے تھے جیسے پیروں پہ آبلے پڑے ہوں -بندی خانے کی چھتوں پہ بدلتے موسم کی ہوا آزادانہ چلتی تھی-جہان کچھ مجرم اور کچھ سچ بولنے والے پابہ زنجیر تھے-سورج کی روشنی ہوے کافی وقت ہو گیا تھا-مگر سبز گھاس پہ پڑی اوس ابھی سوکھی نہ تھی-,
شہزادی نے اپنی خواب گاہ کے دریچے کا پردہ ہٹا یا-ہاتھی دانت کے کام سے مزین میز پہ پڑے گلابی سنہری تاروں سے بنے کپڑے کی سنہری بوٹیاں چمک اٹھیں خیر پور کے جولاہوں کی فن کاری سچے آنسوؤں کی طرح جگمگا اٹھی-شہزادی نے سراہتی نظروں سے کپڑے کو دیکھا دست بستہ کنیز نے حاضری کی اجازت چاہی-
"دایہ امبو بازیابی کی اجازت چاہتی ہیں ” شہزادی کے چہرے پہ مسرت کے آثار ہویدا ہوئے-اپنے میکے سے ساتھ آئی اپنی بہترین استاد اور دایہ کی آمد نے شہزادی کے دل کو خوشی سے بھر دیا-
"اجازت ہے ” شہزادی نے وقار سے کہا”ـ
ضعیفہ دایہ اپنی لاٹھی کے سہارے خواب گاہ میں داخل ہوئی-کانپتے ہاتھوں سے دایہ نے شہزادی کو تعظیم دی۔کنیز نے آگے بڑھ کر دایہ امبو کو احترام سے آبنوسی نشست پہ بٹھایا-دایہ امبو نے اپنی آنکھوں کو سکیڑا-شہزادی کے رخ روشن پہ نظر ڈالی ـمحبت اور شفقت سے اس کا چہرہ بھر گیا-گودوں کھیلی شہزادی پہ اسے ٹوٹ کر پیار آیا ـ
” محل میں کچھ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں شہزادی "ـ
” کیسی چہ میگوئیاں ؟شہزادی کی سیمیں پیشانی پہ شکنیں ابھریں-
"نصیب دشمناں بادشاہ اعلیٰ آپ پر کچھ برہم ہیں ” –
"استفسار کا جواب دینا لازم نہ تھا کیا ؟خوبصورت ہونٹوں کو زرا نیم واہ کیے -شہزادی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا-
” میری روشن جبیں! آپ بھول گئیں کیا کہ آپ کا تعلق عورت جاتی سے ہے -کیا مرد نے کبھی عورت کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے آپ کو اس کے جیسا انسان کہے-کیا یہ طور جہاں رہا کبھی؟کہ مرد نے عورت کو اپنے سواہ کسی اور طرف دیکھنے دیا اور اگر اس نے ایسا کیا تواسے سزا نہ دی؟
شہزادی نے سر جھکا لیا -صبیح انگلیوں میں پڑے ہیرے جگمگانے لگے-"اس نے جہاں جہاں اور جو جو معرکے سر کیے۔عورت کی دی گی محبت اور توجہ اور آسودگی باعث بنی -کیا اس نے کبھی تسلیم کیا؟عورت کو اپنے اور اپنے بچے کے لیے گھر درکار تھاـاناج کی حاجت تھی حفاظت کرنے والے بازو درکار تھے -سو وہ ہراس سانچے میں ڈھلی جس میں اس نے ڈھالنا چاہا”-
” اس بدھی مان کی کیا بات کروں نورچشم! یہ تو وہ شجر ہے کہ زمین کے احسان کا اعتراف کرنے سے گھبراتا ہے-اور یوں بھی علم وہنر تو خود اپنا اعلان ہوتے ہیں-کیا روشنی خود بخود نظر نہیں آجایا کرتی "-
” ہم سے بھول ہوئی مادر”-شہزادی کے ماتھے سے تفکر چھلکنے لگا-” سچے موتی اس لئے تو نہیں ہوتے کہ اچھال اچھال کر ان کا تماشا دکھایا جائے "-کرسی کے ہتھے پہ پڑے ہاتھ کی تیسری انگلی میں چمکتے ہیرے کے رنگوں کو دیکھتے ہوے شہزادی نے سوچا-
کھلے دریچے سے اتی آم کے بورکی مہک ہوا کے جھونکے کے ساتھ کمرے میں پھیل گی اس مہک اور ہوا میں مامتا کی سی بے ساختگی تھی-
گودوں کھلائی شہزادی کے چہرے پہ پھیلتے رنگ دایہ امبو کی بوڑھی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہ سکے -وہ اپنے عصا کے سہارے اٹھ کھڑی ہوئی ـاپنی اتالیق کے احترام میں شہزادی نے بھی اپنی نشست چھوڑ دی-”
"پریشان مت ہوں میری عالیہ!سچائی ہمیشہ معصوم ہی ہوا کرتی ہے” -دایہ کی آ واز میں کپکپاہٹ تھی-
"مگر ابھی! آپ کو ظرف کے پیمانوں کے بڑھنے کا انتظار کرنا ہوگا!” بعد تعظیم دایہ واپسی کے لئے مڑ گئی –




