غزل

غزل / آخر بیاض پھینک دی شہ کارِ فن جلا دیا / احمد جہاں گیر

غزل

 

آخر بیاض پھینک دی شہ کارِ فن جلا دیا

میں نے مشاعرے کے دن سارا سخن جلا دیا

 

آتش تمہارے ہجر کی سر تا قدم لپٹ گئی

جس پر تھے تم فریفتہ میں نے وہ تن جلا دیا

 

پھولوں کی شاخ نوچ لی سبزے پہ راکھ پوت دی

غصے کی ایک لہر نے سارا چمن جلا دیا

 

محشر کی زرد شام میں قصے کے اختتام میں

میں نے زمیں لپیٹ لی تم نے گگن جلا دیا

 

چھوٹے سے اک گناہ نے ساری بہار چھین لی

ہلکے سے اشتباہ نے باغِ عدن جلا دیا

 

اردو غزل کا یار ہوں جدت کا شہ سوار ہوں

رسمِ قدیم پھونک دی طرزِ کہن جلا دیا

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x