غزل / حد سے بڑھ کر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا / اجمل سروش
غزل
حد سے بڑھ کر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
کہیں خود سَر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
تیرے حامی بَحفاظت نہیں رہ پائے تو پھر
اے ستم گر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
گھر کو جاتے ہوئے بھی ہم کو پریشانی ہے
کیوں کہ اب گھر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
جس حفاظت سے رگِ جاں سے گزر جاتے ہو
تم سے بہتر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
تم جو پل بھر ہو سلامت یہ غنیمت سمجھو
زندگی بھر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
خود میں اس واسطے سِمٹا ہوا رہتا ہوں میں
خود سے باہر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
یوں نڈر ہو کے نہ پھر رات گئے شہر میں تُو
آج کل ڈر ! کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
کیوں نہیں مجھ پہ یقیں ٬ میرا کہا ٹھیک نہیں
بندہ پَروَر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
ایسے حالات میں تعدادِ معیّن مت پوچھ
بعض و اکثر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا
لوحِ افلاک پہ تحریر یہ مصرع ہے سروش
خاکداں پر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا




