اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / مٹی نم ہو تو اُگ آئیں گندم اور گلاب / عابد رضا

غزل

 

مٹی نم ہو تو اُگ آئیں گندم اور گلاب

ورنہ دشت کی پہنائی میں سارے خواب سراب

 

 رات طلسمی لوح پہ کندہ ہوتی اک تمثیل

کوئی مسافر گم گشتہ اور کوئی ستارہ یاب

 

 گونج اٹھی پھر نیل گگن پر ٹاپوں کی آواز

کون چلا یہ زین سے باندھے انجم اور مہتاب

 

 سیاروں کے رقص میں کوئی دیکھے تو یہ جشن

تاروں کی قندیل سے روشن راتوں کی محراب

 

شاہِ ولایت کے کشکول میں مشرق کی تہذیب

لندن کی گلیوں میں جیسے یوپی اور پنجاب

 

صحراؤں کو گلشن کرتے دریا روپ سروپ

دھرتی کے سینے کی رونق سندھو اور چناب

 

یاد کرو بس ایک کنوارے بوسے کا اعجاز

قصہ خود تصویر کرے گا مینڈک اور تالاب

 

اپنے خون کی خوشبو ہو گئی مٹی میں پیوست

جب جب ہم نے نہر کنارے خیمے کیے طناب

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x