ادبی خبریںاُردو ادبانٹرویو

ڈاکٹر فصیلت بانو سے اردو ورثہ کی خصوصی گفتگو / انٹرویور : عطرت بتول

تعارف

ڈاکٹر فضیلت بانو اردو ادب کی ایک کہنہ مشق لکھاری، محقق، نقاد اور ممتاز تدریسی شخصیت ہیں۔ تخلیقی و تحقیقی میدان میں ان کی خدمات نہ صرف گراں قدر ہیں بلکہ تدریس کے میدان میں بھی ان کا تجربہ وسیع اور وقیع ہے۔ وہ منہاج یونیورسٹی لاہور میں شعبۂ اردو کی صدر رہ چکی ہیں، اس سے قبل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور متعدد دیگر علمی اداروں میں تدریسی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں۔

ان کی تحقیقی کاوشوں نے اردو ادب کے عصری رجحانات، نسائی ادب، ترجمہ نگاری اور تنقیدی مکالمے کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ ان کی تحریروں میں زبان کی لطافت، فکر کی گہرائی اور ادبی شعور کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ نئی نسل کو ادب سے قریب کرنے اور تحقیقی رویّوں کو فروغ دینے میں ان کا کردار نہایت قابلِ تحسین ہے۔

انٹرویو

ہمیں کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے( بچپن ، والدین ، تعلیمی ادارے)

دوسرے بچوں کی طرح میرا بچپن بھی بڑے لاڈ پیار والا تھا ، خاص طور پر وہ بچے جو گھر میں سب سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ میں بھی چھے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی اور بہت لاڈلی تھی۔ مجھ سے بڑی تین بہنیں اور دو بھائی تھے ۔میرے بھانجے ، بھانجیاں مجھ سے چار ، پانچ سال چھوٹے یعنی تقریبا میرے ہم عمر ہی تھے اور میں اس ہم عمر گروپ کی "لیڈر خالہ” ہوتی تھی ۔
میرے والدین قیام پاکستان کے وقت انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ۔ میرے نانا اور پانچ ماموں ریلوے ملازم تھے ۔ جب میری والدہ کی شادی ہوئی تو میرے نانا نے میرے والد صاحب کو بھی ریلوے میں ملازم کروا دیا۔ قیام پاکستان کے وقت جب حالات بہت خراب ہو گئے تو یہ سب لوگ دو تین مہینے پہلے ہی ٹرانسفر کروا کے پاکستان آ گئے اور یہاں آ کر مختلف شہروں میں آباد ہو گئے ۔ میرے والد صاحب کی پہلی ملازمت لاہور ہربنس پورہ ریلوے ورکشاپ میں تھی وہ ہوشیار پور انڈیا سے ٹرانسفر ہو کر یہاں آ ئے تھے ۔ کچھ عرصہ لاہور رہنے کے بعد ان کا تبادلہ چیچہ وطنی ریلوے اسٹیشن پہ ہو گیا ۔ چیچہ وطنی اس وقت بالکل جنگل اور بیابان سی جگہ تھی ۔ والد صاحب زیادہ دیر وہاں نہ رہے اور جلد ہی اپنا تبادلہ اوکاڑہ کروالیا ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی وفات اوکاڑہ میں ہی ہوئی۔ میری پیدائش بھی اوکاڑہ شہر ہی کی ہے ۔ میرا سارا بچپن بھی وہیں گزرا۔ ابتدائی تعلیم بھی اوکاڑہ ہی میں حاصل کی ۔ میری ایک بہن گورنمنٹ سکول کی ہیڈ مسٹریس تھیں ۔ان کا سکول شہر سے بہت دور واقع تھا اس لیے ان کی رہائش بھی سکول کی عمارت میں ہی تھی۔ وہاں ان کے ساتھ ایک ملازمہ رہتی تھی ۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی اور کبھی کبھی ان کے پاس رہنے چلی جاتی ، وضع داری کا زمانہ تھا ، ہیڈ مسٹریس کی بہن ہونے کی وجہ سے مجھے سکول میں بہت اہمیت دی جاتی تھی ۔ مجھے سکول کا ماحول اچھا لگا تو میں بہن کے پاس مستقل رہنے لگی۔ وہیں سے میری ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا ۔ میری ابتدائی تعلیم کا آغاز بڑا دلچسپ ہے۔
بہن کے سکول میں ہی پہلی کلاس کا آغاز کیا ،اس وقت پہلی جماعت میں ایک ہی قاعدہ ہوتا تھا میں نے وہ ایک ہی مہینے میں ختم کر لیا بلکہ حفظ کر لیا اور ضد یہ کہ میں نے پہلی جماعت پڑھ لی ہے اب اگلی جماعت میں بیٹھوں گی ۔ بہن گھر آئیں تو سب سے کہنے لگیں کہ ابھی سارا سال باقی ہے اسے اگلی جماعت میں کیسے بٹھا دوں ؟ بڑے بہن بھائیوں نے مشورہ دیا کہ اس کا پرموشن ٹیسٹ لے کر اگلی جماعت میں پرموٹ کر دیں ، یہ تو ہو گیا ۔بہن کے لیے اصل مسئلہ اس وقت بنا جب میں نے اگلی جماعت کا اردو، انگریزی کا قاعدہ، گنتی اور پہاڑے سب دو ،تین ماہ میں یاد کر لیے اور پھر ضد کرنے لگی کہ اب میں اگلی جماعت میں جاؤں گی ۔ یہ بڑی دلچسپ صورتحال تھی میں نے ابتدائی تین جماعتیں ایک سال میں ہی پڑھ لی تھیں۔ اس تیز رفتار تعلیمی ترقی کا خمیازہ مجھے پانچویں جماعت میں وظیفہ کا امتحان دیتے ہوئے بھگتنا پڑا ۔ اس وقت وظیفے کا امتحان دینے کے لیے داخلہ بھیجتے وقت پیدائش کا سرٹیفیکیٹ ساتھ لگتا تھا
۔ جب بلدیہ سے میرا پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نکلوایا گیا تو اس کے مطابق وظیفے کا امتحان دینے کے لیے میری عمر ساڑھے تین سال کم تھی ۔ مگر میں بضد تھی کہ میں نے وظیفے کا امتحان ضرور دینا ہے ۔ وظیفے کا امتحان دینے کے لیے میری عمر بڑھانا پڑی۔ بلدیہ کے رجسٹر میں میرا نام فضیلت بانو درج تھا جبکہ بہن نے اپنے سکول میں میرا نام صبیحہ خانم لکھا ہوا تھا اس طرح نام اور تاریخ پیدائش دونوں بدل گئے۔

مجھے بچپن سے ہی تعلیمی و علمی ماحول میسر رہا۔ جماعت کے کمروں میں لگے ہوئے چارٹ، دیواروں کی چاکنگ اور سائن بورڈز کی تحریریں بہت شوق سے پڑھتی اور ان الفاظ کے معنی و مفہوم جاننے کی کوشش میں بہن بھائیوں سے بار بار ان کے معنی پوچھتی۔ تیسری جماعت میں تھی کہ ایک دن بھائی نے ڈکشنری میں سے الفاظ اور ان کے معنی تلاش کرنے کا طریقہ بتا کر سب گھر والوں کی جان چھڑا دی ۔ چھوٹی کلاسز میں ہی لکھنے پڑھنے میں میری اردو بہت اچھی ہو گئی تھی۔ بہن کے پاس رہتے ہوئے میں نے اپنی سہیلیوں کو خط لکھا ۔ خود ہی سفید کاغذ کا لفافہ بنایا اس پہ ایڈریس لکھ کر خط اس کے اندر ڈال کے ڈاکیا جو سکول کی ڈاک دینے آتا تھا اس کو دے دیا کہ پوسٹ کر دے، تب میں دوسری جماعت میں تھی۔ وہ بیرنگ خط کا لفافہ جب سہیلی کے گھر پہنچا تو سب حیران کہ اتنی چھوٹی سی بچی میں اتنی خود اعتمادی اور اتنی پختہ تحریر ۔ یہ خط غالبا میری پہلی ادبی تحریر تھی جس کا بہت چرچا ہوا اور میری حوصلہ افزائی بھی ۔ آٹھویں تک میں نے اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی ، نویں جماعت میں تھی جب میرے دونوں بھائی ایم ای ایس اوکاڑہ کینٹ سے ٹرانسفر ہو کر مارگلہ کینٹ چلے گئے، ایک بھائی الیکٹریکل انجینئر تھا اور دوسرا مینٹیننس انجنیئر ۔ نویں جماعت میں میرا داخلہ واہ کینٹ میں ہی ایف جی ہائی اسکول نمبر 5میں کروا دیا گیا ۔ مارگلہ کینٹ اس وقت نیا نیا بنا تھا ۔ بہت جدید ڈیزائن کی رہائش گاہیں بنائی جا رہی تھیں۔ مارگلہ کینٹ پہاڑوں کے بیچ واقع ہونے کی وجہ سے بہت خوبصورت جگہ ہے ۔ صبح کے وقت پہاڑوں اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ سکول بس کا سفر انتہائی سحر انگیز ہوتا تھا ۔ وہ خوبصورت مناظر آج بھی ذہن کی سکرین پر ویسے ہی محفوظ ہیں ۔
بھائی کے ملک سے باہر جانے کے بعد باقی تعلیم اوکاڑہ آ کے مکمل کی ۔ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ کالج اوکاڑہ سے پاس کیا ۔ کالج کی تعلیم کے دوران ہی شادی ہو گئی۔ تعلیمی سفر اس وقت تعطل کا شکار ہوا جب شادی سے پہلے بیرون ملک بھائی کے پاس جانا پڑا اور پھر واپسی پر شادی ہو گئی ۔

الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا ۔ شادی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ شادی کے بعد پروفیشنل زندگی کا باقاعدہ آغاز پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تدریس سے کیا اور گورنمنٹ آف پنجاب سے بیسٹ ٹیچر اور بیسٹ ماسٹر ٹرینر کے اعزازات حاصل کیے ۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھانا شروع کردیا ان میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ ، یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس ، جی سی لاہور سے الحاق شدہ گبریل کالج منڈی بہاوالدین ، سرگودھا یونیورسٹی کےحافظ آباد کیمپس میں ایم فل کا آ غاز کیا اور تدریسی خدمات انجام دیں ۔ بعد ازاں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے پہلے وزٹنگ اور بعد میں ریگولر استاد کی حیثیت سے منہاج یونیورسٹی سے منسلک ہو کر صدر شعبہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور منہاج یونیورسٹی سے بھی بیسٹ ٹیچر فرسٹ پوزیشن ایوارڈ حاصل کیا۔ –

آپ نے اردو ادب کو بطور مضمون کیوں چنا ؟

بچپن سے ہی اردو کی کتاب ، اردو کی اضافی کتاب ، جو کورس کا حصہ ہوتی تھی اور بچوں کی کہانیاں پڑھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔ گھر کا ماحول بھی علمی و ادبی تھا ۔ بڑے سب بہن بھائی ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ گھر میں کتابوں اور رسائل و جرائد کی آمد و رفت رہتی تھی۔ اخبار اور بچوں کے رسالے بھی آ تے تھی ۔ جب میں واہ کینٹ میں تھی تو اردو کی ٹیچر کا ہفتے میں ایک پریڈ لائبریری میں لے جا کر کتابوں کا تعارف اور مطالعہ کی ترغیب کا ہوتا تھا ۔ میرے لیے یہ بہت دلچسپ سرگرمی ہوتی تھی ۔ میں ہر ہفتے ایک کتاب ایشو کرواتی اور پڑھ کے اگلے ہفتے واپس کر کے نئی کتاب لے لیتی ۔ پڑھی ہوئی کتاب کے نوٹس بناتی اور اردو کی ٹیچر کے ساتھ ڈسکس ضرور کرتی وہ خوش ہو کےکہتیں بچوں اور گھریلو مصروفیات کے باعث چاہتے ہوئے بھی مجھے کتابیں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا آپ کتاب پڑھ کے ڈسکس کرتی ہیں تو لگتا ہے کہ پوری کتاب ہی پڑھ لی ۔ سال کے آخر میں لائبریری کے اندراج رجسٹر میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھنے والی طالبہ نویں جماعت کی فضیلت بانو تھی۔ میرے اردو کے پرچہ میں ٹیچر کے لیے ہمیشہ مشکل ہوتی تھی کہ نمبر کہاں سے کم کریں۔ اس امتیازی وصف کی وجہ سے سکول اور کالج میں خاص توجہ کا مرکز رہی۔ سکول میں بزم ادب اور کالج میں اردو ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہی ہوں ۔ سکول کے زمانے میں ہی بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا شروع کر دی تھیں ۔ اردو کی کلاس میں جب ٹیچر اتفاق میں برکت ، لالچ بری بلا وغیرہ کہانیاں لکھنے کو کہتیں تو میں کتابوں سے نقل کرنے کی بجائے یہ کہانیاں خود لکھتی اور جب کلاس میں سناتی تو ٹیچر اور بچے سب بہت پسند کرتے ۔ اس حوصلہ افزائی سے مزید لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور اردو سے محبت اور دلچسپی بڑھتی گئی ۔

اردو تحقیق اور تخلیق میں سے آپ خود کو کس طرف زیادہ مائل پاتی ہیں ؟

طبیعت میں علمی ،تحقیقی اور تجسس کا مادہ ہمیشہ سے رہا ہے اس لیے تحقیق سے دلچسپی رہی جبکہ تخلیق ایک فطری صلاحیت کے طور پر ودیعت ہوتی ہے لہذا میرا تخلیق اور تحقیق دونوں کی طرف خاص رجحان رہا ۔ اپنے تحقیقی مقالہ جات کے علاوہ سو سے زائد ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ جات لکھوا چکی ہوں ۔ علمی و ادبی اور تحقیقی رسائل و جرائد میں بھی میرے تحقیقی مقالات گاہے بگاہے شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں کہانیاں اور افسانے لکھتی ہوں۔ ادب اطفال میرا خاص میدان ہے ۔ بچوں کے رسائل میں پھول میگزین میرا پسندیدہ رسالہ رہا ہے۔ اس میں بچوں کے لیے خود بھی لکھا ۔ اگر میں یہ کہوں کہ پھول میگزین نے ادب اطفال میں میری ایک پہچان بنائی تو غلط نہ ہوگا ۔دیگر رسائل میں بھی بچوں کے لیے کہانیاں اور نظمیں اردو اور پنجابی میں شائع ہوتی ہیں ۔میں نے بچوں کے تقریباً تمام رسائل کے لیے لکھا ہے اور لکھ رہی ہوں ۔ میری تمام کہانیاں انعام یافتہ رہی ہیں ۔ اور بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈ بھی ملے ہیں ۔

پنجاب آرکائیوز میں موجوداردو اخبارات پر آپ کے کام کو بہت سراہا گیا آپ نے اس تجربے کو کیسا پایا ؟

مجھے ہمیشہ سے اخبارات بہت اچھے لگتے ہیں میں اخبار بہت دلچسپی سے پڑھتی ہوں۔ بچپن میں بھی جب سب گھر والے اخبار پڑھ لیتے تو میں اس میں سے اپنی پسندیدہ چیزوں کے تراشے کاٹ لیتی اور سنبھال کے رکھتی ۔ پی ایچ ڈی میں جب اخبارات پر تحقیقی کام کرنے کا موقع ملا تو مجھے لگا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو رہی ہے ۔ اخبار ہر لحاظ سے شعبہ حیات اور معاشرے کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں ۔ زندہ قومیں اپنے ماضی کی روشنی سے ہی مستقبل کی تاریکیوں کو ختم کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا ماضی تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے بہت زرخیز ہے ۔ بہت سے ادارے اس تہذیب وثقافت کے خزانے کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا کام سر انجام دے رہے ہیں ۔ انہی اداروں میں سے ایک ادارہ پنجاب آرکائیوز کا ہے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ عوام الناس تو درکنار تاریخ ،ادب اور صحافت سے وابستہ افراد کی اکثریت تاریخ و ثقافت کے اس خزانے سے نا واقف ہے۔تحقیق میں بین الاقوامی موضوعات بہترین سمجھے جاتے ہیں ۔ اردو ادب میں بین العلومی مطالعہ کی روایت تو موجود ہے لیکن اپنی توانا صورت میں موجود نہیں ۔ اس روایت کو وسعت دینا اور مستحکم کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ پنجاب آرکائیوز ہمارے ملک کی ادبی، سیاسی، آ ئینی، قانونی ، عربی ، فارسی ، اردو ، انگریزی ، اور پنجابی زبانوں کے اہم خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ ان میں اردو کے اخبارات ایک نمایاں حیثیت کے حامل ہیں یہ آرکائیوز کب ،کیسے اور کیوں قائم ہوا اور اس کے دامن میں کیا کیا کوہ گراں محفوظ ہیں اس کی تفصیل میری کتاب "پنجاب آرکائیوز آ غاز و ارتقا”میں موجود ہے ۔ پنجاب آرکائیوز میں موجود قدیم اخبارات سے متعلق میری دوسری کتاب "نقش قدیم” 2021ء میں شائع ہوئی اس کتاب میں آ رکائیوزم میں موجود قدیم اخبارات کا تفصیلی تجزیہ موجود ہے ان اخبارات کے تجزیے سے ہم نہ صرف اپنی قوم کے کردار و عمل کو پرکھ سکتے ہیں بلکہ استحصالی اور زور آور قوتوں کو بھی بے نقاب کر سکتے ہیں۔ یہ اخبارات اپنے وقت کے رسم الخط کی بھی ایک عمدہ دستاویز ہیں۔
قدیم اخبارات پر کام انتہائی باریک بینی اور دیدہ ریزی کا تھا ۔ بعض اخبارات بہت بوسیدہ اور کرم خوردہ تھے بعض کی تحاریر نامکمل اور شکستہ تھیں۔ کئی جگہ متن کو درست حالت میں پڑھنا بہت مشکل تھا ۔ الحمدللہ میرے شوق اور دلچسپی نے اس تحقیقی و تدوینی کام میں میری بہت معاونت کی اور میری جستجو اور کوشش کو مایوس نہیں ہونے دیا۔

تحقیق کے میدان میں آپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا رہا؟

معیاری تحقیق معیاری زندگی کی ضمانت ہے ۔ مگر کم کوشی اور شارٹ کٹ کی تلاش نے ہمارے تحقیقی رویوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مایوس کیا ہے ۔ تحقیق کے میدان میں اس وقت سب سےبڑا چلینج تحقیقی اسکالرز کو معیاری تحقیق کی طرف لانا ہے ۔ ان کے اندر تحقیقی مزاج پیدا کرنا ہے۔ آسانی اور سہولت کی تلاش نے تحقیق کو بہت متاثر کیا ہے ۔ اسکالرز کے اندر محنت کا جذبہ پیدا کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔

تدریس اور تحقیق کو اپ کس طرح یکجا کرتی ہیں ؟

یونیورسٹی کی سطح پر پہنچ کر تدریس کا اصل مقصد تحقیق ہی ہوتا ہے ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اسکالرز آتے ہی تحقیق کے لیے ہیں ۔ انکو تدریس کے ذریعے تحقیق کے طریق کار ہی پڑھائے جاتے ہیں اس لیے اس سطح پہ تدریس تحقیق ہی ہوتی ہے ۔ ان کو الگ الگ نہیں سمجھا جا سکتا ۔

اردو ادب میں خواتین محقیقین کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں ؟

میں اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتی ہوں کہ تحقیق کے میدان میں خواتین محقیقین مرد محقیقین سے کسی طرح بھی کم نہیں ۔ اس وقت بڑی بڑی جامعات میں خواتین نے ہر شعبے میں بڑی محنت اور استقلال سے تحقیق کی بہت اہم خدمات انجام دی ہیں اورتحقیق کی اعلی مثالیں قائم کی ہیں ۔ادب کی تمام اصناف میں خواتین محقیقین نے اپنا مقام بنایا ہے ۔صحافت ،ناول نگاری ، افسانہ نگاری ، شاعری ، تحقیق اور تنقید میں اے آر خاتون ، جمیلہ ہاشمی ،قراۃ العین طاہرہ ، بانو قدسیہ ، ممتاز شیریں کے علاؤہ درجنوں مثالیں موجود ہیں ۔ خواتین نے گھریلو مصروفیات کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید اور دیگر شعبہ جات میں نہایت اعلی کار کردگی دکھائی ، خواتین میں جرات اور بہادری کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔

نئی نسل کو اردو زبان وادب سے کس طرح جوڑا جا سکتا ہے ؟

آج کے نوجوان کھلے ذہن اور روشن خیال رویوں کے حامی ہیں انہیں کسی ایک زبان تک محدود رکھنا ممکن نہیں ۔ آج ٹیکنالوجی کا دور ہے ،دنیا گلوبل ویلیج ہے۔ نوجوانوں کے سامنے ایک وسیع دنیا ہے زبان کو ، ادب کو ، ایجادات کو ، فیشن اور اختراعات کو ، نئی نئی مصنوعات کو غرض کہ آ ج کی نوجوان نسل کو کسی ایک دائرے تک محدود رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ آگے بڑھنا ہے توکسی ایک زبان سے نہیں سب زبانوں سے تعلق رکھنا ہوگا لیکن قومی زبان کی حرمت اور تو قیر سب زبانوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے ۔ قومیں اپنی زبان میں ہی ترقی کرتی اور آ گے بڑھتی ہیں ۔ بنیادی اور ابتدائی تعلیم اگر قومی زبان میں دی جائے تو نوجوان ساری زندگی اپنی زبان سے جڑے رہیں گے ۔ چاہے وہ دنیا کے جس خطے میں مرضی رہیں۔ زبان کی بنیاد مضبوط ہونی چاہیے ۔
رہی بات ادب کی تو یہ ایک فطری صلاحیت ہے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں ادب ہمیشہ موجود رہا ہے اور رہے گا ۔ بس اتنا ہوگا کہ زمانے کے تقاضے اس کا ذائقہ بدلتے رہیں گے ۔

آپ کے نزدیک ایک اچھے محقق کی سب سے بڑی خوبی کیا ہونی چاہیے ؟

سب سے پہلے تو محقق کو وسیع المطالعہ ہونا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ تخلیق کار ہے تو اس کا نقطئہ نظر تنقیدی بھی ہونا چاہیے ، اپنے مخصوص مضمون کے علاوہ دیگر مضامین پر بھی گہری نظر ہو ، بے تعصب اور بے لوث ، خدمت کے جذبے سے سرشار، اچھی ذہنی و جسمانی صحت وتندرستی کے علاوہ مضبوط قوت ارادی اور بے مثال قوت حافظہ کا حامل اور جدید و قدیم علوم پر گہری و شعوری نظر کا ہونا اور ادبی دیانت داری کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

آپ کے خیال میں بچوں کے ادب میں آ ج کیا خلا موجود ہے ؟

بچوں کے لیے ہر عہد میں بہترین ادب تخلیق کیا جاتا رہا ہے۔ اب بھی ادب اطفال کی ادبی تخلیقات میں بظاہر کوئی خلا موجود نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقی و تہذیبی اور ثقافتی موضوعات کو نصابی و سائنسی تدریس کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے ۔ نصابی کتب ہر بچہ پڑھتا ہے جبکہ کہانی ہر بچہ نہیں پڑھتا۔ اگر یہ خلا پر کر دیا جائے تو ہماری آ نے والی نسل میں نہ صرف بہترین سائنس دان ۔ محقق و استاد سامنے آئیں گے بلکہ باعمل اور محنتی قوم بھی وجود میں آئے گی۔

شعر گوئی اور تحقیق دو الگ جہتیں ہیں آپ ان دونوں میں توازن کیسے رکھتی ہیں ؟

سکول کے زمانے میں بچوں کے لیے نظمیں لکھیں اور کالج میں سہیلیوں کو بہت نظمیں اور غزلیں لکھ لکھ کے دیں
۔ میں کالج میں تھی جب میرے بہن بھائی ملک سے باہر چلے گئے میں اور میری والدہ تنہا رہ گئیں ۔ تنہائی کے اس دور میں میرا زیادہ رجحان ترجمہ و تفسیر کی طرف ہو گیا اور تحقیقی و تدوینی کاموں میں زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ پھر دانستہ یا نادانستہ میں شعرو شاعری سے اجتناب کرنے لگی ۔ جو کچھ لکھا وہ بھی محفوظ نہیں رکھا
اگرچہ دو شعری مجموعے ہیں ایک نعتیہ اور دوسرا نظم اور غزل کا ۔اب بھی لکھتی ہوں مگر خاص اہمیت کے ساتھ نہیں ۔ زیادہ دھیان تحقیق کی طرف ہی ہے۔ اس طرح توازن خود بخود قائم ہو گیا ہے ۔

موجودہ تعلیمی اداروں میں اردو کی تدریس کو بہتر بنانے کیلئے اپ کیا تجاویز دیں گی ؟

تعلیمی اداروں میں اردو کی بہتری کے لیے ہم نے سوچنے میں بہت دیر کر دی ۔ آج کے تعلیمی ادارے کماؤ فیکٹریاں ہیں اردو کی تعلیم ان کے لیے منافع بخش نہیں رہی ، آہستہ آہستہ سوشل سائنسز اور لینگویجز کو اداروں سے پوری پلاننگ کے ساتھ ختم کیا جا رہا ہے اور شعبہ جات بند ہو رہے ہیں اس معاملے میں کئی تعلیمی اداروں کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ اس صورت حال میں بہتری کی امید محض خوش فہمی ہو گی۔ لیکن مایوسی بھی کفر ہے ۔ اچھے مستقبل کی امید کے لیے حب الوطنی اور غیرت ایمانی کو بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اگر تہذیب و ثقافت اور معاشرے کی اخلاقی قدروں کے بگاڑ سے ہنگامی طور پر آگاہ کیا جائے ، ان کے شعور اور وجدان کو احساس کی بھٹی میں پگھلایا جائے تو وہ ہمارا ہراول دستہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ قوموں پہ عروج و زوال آ تے رہتے ہیں مگر ہمت کبھی نہیں ہاری چاہیے ۔ ان شاءاللہ ہمارے ملک میں بھی اچھا وقت ضرور آ ئے گا۔

کن ادیبوں اور محقیقین نے آپ کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ؟

مولانا مودودی کی تفہیم القرآن بار بار پڑھنے کے بعد تمام اخلاقی اور اصلاحی ادب پسندیدہ ہو گیا اور جی بھر کے پڑھا۔ تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ ناول اور افسانے ہمیشہ زیر مطالعہ رہتے ہیں۔ ہر مثبت اور اچھی تحریر میری کمزوری ہے۔ کتاب ہاتھ میں آ جائے تو اسے ختم کیے بغیر سو نہیں سکتی۔ ہر لکھنے والے میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے ۔ اس لیے میں سب کو پڑھتی ہوں اور اچھی تحریر سے سیکھتی بھی ہوں اور متاثر بھی ہوتی ہوں۔

ادب کا اصل مقصد کیا ہے؟

ادب کا اصل مقصد کتھارسس ہے ۔لکھنے والے کا بھی اور پڑھنے والے کا بھی ۔ اچھا ادب معاشرے کا دوست اور معاون ہوتا ہے ۔ ہماری ذہنی سطح سے ہم آہنگ اور ہماری پسندیدہ تحریر ہمیں جوش و جذبے کے ساتھ متحرک رکھتی ہے ۔ معاشرے اور افراد کی توانا اور صحت مند سرگرمیاں ادب کی مرہون منت ہیں۔

کیا آپ کوکبھی صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ؟

میری خوش قسمتی کہئیے کہ مجھے ہر جگہ ہمیشہ عزت و احترام اور بہت محبت ملی۔ ایک دفعہ ایک ادبی پروگرام میں مجھے مدعو کیا گیا تو میں نے منتظمین سے پوچھا کہ کیا وہاں اور خواتین بھی ہوں گی ؟ تو جواب ملا کہ ڈاکٹر صاحبہ ! آپ کو ایک اہم ادبی شخصیت کے طور مدعو کیا جارہا ہے خاتون ہونے کی حیثیت سے نہیں ۔ اس کے بعد میں نے بھی کبھی خود کو خانوں میں نہیں بانٹا۔ الحمدللہ مثبت سوچ کے ساتھ ایک مردانہ وار زندگی گزاری ہے۔ کہیں بھی اور کبھی بھی شکایت یا گلہ کی نوبت نہیں آئی ۔

اردو ادب میں حالیہ رجحانات کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

ادب بڑی شاندار چیز ہے۔ وہ تمام تر منافقت ، گروپ بندی اور دھڑے بندیوں کے باوجود اپنا سفر جاری رکھتا ہے ۔ آج کے ادب کے ساتھ بے رحمی یہ ہےکہ کوئی ادیب دوسرے ادیب کو خود سے بڑا ادیب سمجھنے کو تیار نہیں ۔ ہر ادیب نمبر ون ، ہر شاعر نمبر ون، ہر صحافی نمبر ون ۔ ایسے میں ادب کیسے نچلا بیٹھ سکتا ہے ۔عاجزی و انکساری اور متاثر کرنے والے ادب کی جگہ اب ڈیجیٹل ادب دھن دھنانے لگا ہے۔ شعری و نثری اصناف پہ خوب لکھا جا رہا ہے ۔ قاری بھی موجود ہے اور ادب بھی سینہ تان کے چل رہا ہے۔ ادب زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ ؟

نہیں کوئی گلہ نہیں ۔ دوست ،احباب اور معاشرے نے بہت عزت اور احترام دیا۔ ہر طرح کے حالات میں آ گے بڑھنے کا حوصلہ اور ہمت دی ۔ ہر جگہ ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی گئی ۔ بہن، بھائی رشتہ دار، اساتذہ ، اور شاگرد مخلص اور معاون و مددگار ملے۔ ایک خوبصورت ، مکمل اور معیاری زندگی گزاری ۔ ہمیشہ دوسروں سے سیکھا اور اپنی کمیوں اور خامیوں کو سنوارنے کی کوشش کی ۔ حالات اور واقعات ہمیشہ میرے معاون رہے ۔ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں ۔ جو گزری وہ بہت اچھی اور جو رہ گئی اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہت اچھا امیدیں وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں جگہ سرخرو فرمائے آمین ۔

تصانیف:
1- پنجاب آ رکائیوز آ غازو۔ ارتقا
2- مہکتے پھول
3- نقش قدیم
4-پیارے بالاں دا پیارا رسول
5- عکس قدیم
6- مینارے صحافت
7- سدراں
8-کنڈیاں وچ خشبو

تحقیقی مقالات:
1-جام جہاں نما(اردو کا پہلا اخبار)
مجلہ زبان وادب کی سی فیصل آباد

2-مثنوی کرم راؤ پدم راؤ کی ترتیب و تنظیم
معیار انٹرنیشنل ، اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

3- رام بابو سکسینہ ، اردو ادب کی تاریخ
جنرل آ ف ریسرچ
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان

4- تنقید متن کے مدارج
خیابان پشاور یونیورسٹی پشاور

5-قراۃ العین حیدر ایک مایہ ناز ادیب
اردو نامی ، دفتری زبان اردو، پنجاب سیکرٹریٹ لاہور

6-صوبائی اسمبلی پنجاب اور قانون
اردو نامی دفتری زبان اردو پنجاب سیکرٹریٹ لاہور

7- اردو زبان کے ارتقائی مراحل
اردو نامی ،دفتری زبان اردو ، پنجاب سیکرٹریٹ لاہور

8- تصوف صوفیا کی نظر میں
لب جو، گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل

9- اردو میں تراجم نگاری
لب جو ، گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل

10- شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
لب جو گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل

11- اردو میں نظم نگاری کی روایت
لب جو ، گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل

12- وقوف مذہبی کے انکشافات کا فلسفیانہ معیار ،
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

13- تحقیق اور موضوع تحقیق
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

14- اقبال کی فکری اساس
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

15- اقبال شاعر مشرق
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

16- قائد اعظم اور اردو ادب
نور تحقیق
لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

17- شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
لب جو ، گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج سانگلہ ہل

18- رومانویت کے فکری مباحث
ماہ نو ،لاہور
اداریہ مطبوعات پاکستان

19- قراۃ العین حیدر اسلوب اور ناول نگاری
ماہ نو ، لاہور
اداریہ مطبوعات پاکستان

20- کتنی تنقید اور تدوین متن کے مدارج
ضوریز ، منہاج یونیورسٹی لاہور

21- اردو ہندی تنازعہ بحوالہ عائشہ جلال
ضوریز ، منہاج یونیورسٹی لاہور

22- سفر ناموں میں تہذیبی عناصر
ضوریز ، منہاج یونیورسٹی لاہور

23- اردو شاعری کا دور زریں۔
ادبی ایڈیشن ، روز نامی جنگ لاہور

24- اودھ پنچ اخبار کی ادبی خدمات
ادبی ایڈیشن ، روز نامی انصاف لاہور

25- اشفاق احمد ایک ہمہ جہت شخصیت
ماہنامہ سانجھاں لاہور

26- سیرت النبی ، شبلی نعمانی (جدید تحقیقی اصولوں کی روشنی میں)
سہ ماہی شاہد ، کراچی

27- دو قومی نظریہ قرآن کی نظر میں
خواتین میگزین ، لاہور

28- اسلام کا نظام معاش
ماہنامہ بتول ، لاہور

29- شان قرآن
ماہنامہ ایشیا ، لاہور

30- بچوں کے ادب پر مختلف خطوں کے اثرات
تحقیقی مجلہ، جی سی یونیورسٹی فیصل آباد

31- مجید امجد فطرت ، مقامیت اور ماحولیات
مشمولہ ساہیوال آرٹس کونسل

32- اوکاڑہ کے نعت گو شعرا
مشمولہ ، ساہیوال آرٹس کونسل

33- تنقید کی اقسام ماضی حال اور مستقبل مشمولہ کتاب مرتب ڈاکٹر مشتاق عادل

34- دو عظیم مزاح نگار
صدائے بسمل اخبار ،انڈیا

35- صدیقہ بیگم ادب کا استعارہ
مشمولہ ، ادب لطیف لاھور

36- ڈاکٹر طاہر القادری ایک عظیم شخصیت
روز نامہ اساس پشاور

37- اردو بہ حیثیت ایک عالمگیر زبان
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

38- مابعد سچائی حقیقت یا افسانہ
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

39- میر تقی میر کی شاعرانہ عظمت
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور
40- اردو بہ حیثیت زبان
سہ ماہی مجلہ ، سخن فیصل آباد

41- قدیم و جدید عساکر ادب
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

42- قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، انڈیا کی خدمات ۔
تحقیقی مجلہ، جہاں تحقیق

43- پاکستانی اردو فکشن میں نرگسیت ، منظر اور پس منظر
تحقیقی مجلہ ، جہان تحقیق

44- پاکستان اور بھارت کی خواتین افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری کا تقابلی مطالعہ (تانیثیت کے تناظر میں)
ادبی مجلہ حرف و سخن

45- ترقی پسند تحریک کا اولین شعری سرمایہ۔
ضوریز ، منہاج یونیورسٹی لاہور

46- اردو ناول میں خود کی شناخت:ایک جائزہ۔
سہ ماہی تاریخ ادب اردو ،دہلی

47- مغربی تنقید کے جدید رجحانات
نور تحقیق ، لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور

48- پاکستان اور بھارت میں اردو غزل کی ہئیت و ساخت میں تبدیلی کے تجربات ۔
سہ ماہی ادب اردو ، دہلی

49- اردو ادب کی تاریخ از ڈاکٹر تبسم کاشمیری ۔
سہ ماہی تاریخ ادب اردو ،دہلی

50- وحید احمد کی نظم کون مرمت کر تا ہے میں یونانی اساطیر کی تکنیک
ادبی مجلہ ، حرف و سخن

51- اکمل الاخبار
ادبی مجلہ نگوشیاں

52- بچوں کے ادب میں تہذیب و تشخص کا اظہار: تحقیقی مطالعہ ۔
تشکیل جدید ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد

53- اردو میں مصنوعی ذہانت کا استعمال:دیگر فوائد و ثمرات ۔
مجلہ ، تاریخ ادب اردو ، دہلی

54- مائکرو فکشن:صنف جدید میں ایک خوشگوار تجربہ۔
ادبی مجلہ عود تحقیق
لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی لاہور

55- ماحولیاتی ادب میں علاقائی زبانوں کا کردار
پریس گار پیس فاؤنڈیشن یوکے ۔
56- ڈاکٹر نواز کنول کی خالد شناسی، تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تحقیقی مجلہ ",ماخذ”

اعزازات:
بے شمار

ممبر شپ
1- جوائنٹ سیکریٹری اکادمی ادبیات اطفال
2- حکومتی و سرکاری ادبی تنظیم گلڈ کی ممبر شپ
3،- بزم کتاب دوستاں کے شعبہ خواتین کی انچارج
4- اپووا تنظیم کی شعبہ خواتین کی صدر
5-
پنجاب برٹش آرٹس ضلع اوکاڑہ کی شعبہ خواتین کی صدر
6- پاکستان فیڈرل کونسل آ ف کالمسٹ کی جوائنٹ سیکریٹری ۔

ایک نمائندہ اردو غزل دیکھیے:
نقش پا سے راستوں کو میں جلا دے جاؤں گی
تم سے بچھڑوں گی تو ملنے کا پتہ دے جاؤں گی

مسکرا کے بانٹ لوں گی میں جہاں اوروں کے غم
زندگی پر سوچنے کا زاویہ دے جاؤں گی

میں نے کیا پایا ہے دنیا سے کبھی سوچا نہیں
سوچتی یہ ہوں کہ میں دنیا کو کیا دے جاؤں گی

جب حصار فکر ٹوٹے گا کسی جھٹکے کے ساتھ اور بھی کچھ اپنی سوچوں کے سوا دے جاؤں گی

میرے ہی احباب مجھ سے بدگماں ہو جائیں گے
ان کی خود بینی کو جس دن آ ئینہ دے جاؤں گی

میں اگر مٹ بھی گئی فضیلت وفا کی راہ میں
آ نے والوں کو وفا کا حوصلہ دے جاؤں گی

Author

3 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x