
دفتر سے سارے ملازمین کے نکلنے کے بعد اس نے مرکزی دروازے کو تالا لگایا اور بجائے گھر جانے کے دفتر کے قریب بنے چائے کے ڈھابے پر آ گیا۔ آسمان پر پھیلے سیاہ بادل آج بھی اسے اتنے ہی خوفناک لگ رہے تھے جتنے دو سال پہلے لگے تھے۔ سامنے سڑک پہ کھڑے طویل قامت درخت اسے ہمیشہ کی طرح اداس اور پریشان لگے۔ شاید ہمارا اندر اداس ہو تو باہر کا خوشگوار موسم بھی ہمیں خوش نہیں کر پاتا۔ کسی نے کہا تھا کہ "باہر کا موسم آپ کے اندر پنپتے موسم پہ منحصر ہوتا ہے، اگر آپ اداس ہیں تو باہر کا خوشگوار موسم بھی آپ کو لطف اندوز نہیں ہونے دے گا اور اگر آپ خوش ہے تو کڑکتی دھوپ اور حبس زدہ دوپہر بھی آپ کو مزہ دے گی”۔
"نور بھائی چائے”۔ چائے کے ڈھابے پہ کام کرتا اس کا ہمسایہ اس کے سامنے چائے رکھتا بولا تو اس نے چائے کا کپ ہاتھ میں تھام لیا۔
آج پھر آپ نے گھر جانے میں دیر کر دی ، ماں جی پریشان ہو رہی ہوں گی اور پھر اس موسم میں تو آپ جانتے ہیں کہ وہ زیادہ پریشان ہو جاتی ہیں”۔ آسمان پہ اٹھکیلیاں کرتے سیاہ بادلوں کو دیکھتا وہ بولا تو نور محمد نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
” بس چائے پی لوں تو چلتا ہوں”۔ اس نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور جیب سے موبائل نکال کروقت دیکھنے لگا ۔ مغرب کی اذان ہونے میں کچھ دیر ہی باقی تھی۔
وہ ہمیشہ کی طرح گھر دیر سے آیا ہی پہنچا تھا ۔ اس کی بہن اس کا انتظار کرتے کرتے وہیں برآمدے میں رکھی کرسی پر سو گئی تھی جبکہ ماں ابھی بھی جاگ رہی تھی ۔ "آگئے نور محمد” اماں کی نحیف آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اسے خواہ مخواہ شرمندگی ہونے لگی۔
"جی اماں” ۔ وہ وہیں چارپائی پر اماں کی پائنتی بیٹھ گیا ۔ "سیما سو گئی کیا؟؟”۔ اس نے کرسی پر سوئی ہوئی بہن پر پیار بھری نظر ڈالی اور گویا ہوا لیکن اماں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے اماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا چاہا تو وہ بھی سو چکی تھیں۔ شاید اس کے انتظار میں زور زبردستی سے آنکھیں دروازے پر ٹکائے بیٹھی تھیں لیکن جونہی وہ آیا تو پرسکون ہو کر سو گئیں ۔
وہ سیما کی کرسی کی طرف بڑھا اور اسے کندھے سے پکڑ کر ہلکا سا جھنجھوڑا تو وہ کسمسا کر اٹھ بیٹھی "آپ آگئے لالہ، میں کھانا گرم کرتی ہوں” وہ اٹھ کر کچن کی جانب جانے لگی جب وہ بولا "تم سو جاوْ مجھے کھانا نہیں کھانا آج فیکٹری میں دن میں کھانا کھا لیا تھا تو اب بھوک نہیں، زویا سو گئی کیا؟”۔ اس نے اپنی بیٹی کا پوچھا تو سیما نے اثبات میں سر ہلا دیا وہ سیما کےسر پر شفقت بھری تھپکی دیتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
نا جانے رات کا کون سا پہر تھا جب اسے کمرے میں حبس محسوس ہوا۔ شاید بجلی چلی گئی تھی۔ ننھی زویا کے رونے کی آوازآئی تو وہ کمرے سے باہر برآمدے کی طرف لپکا۔ بادل گرجنے کی آواز زوروں پر تھی۔ سیما زویا کو ساتھ لگائے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن ایک سالہ زویا مسلسل روئے جا رہی تھی۔ اس نے اماں کی طرف دیکھا جو نمناک آنکھوں سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں ، جو کب سے بھتیجی کو سنبھالنے کےچکر میں حواس باختہ ہوئے جا رہی تھی اور پھر بیٹے کو دیکھا جو نہ جانے کب برآمدے سے نکل کر صحن میں بھیگتی چارپائیوں کو بچانے میں خود سارا بھیگ گیا تھا۔۔۔ "اسے مجھے دے دو تم اس کا دودھ لے آوْ شاید اسے بھوک لگی ہے”۔ اس نے زویا کو لینے کے لیے اپنے ہاتھ آگے کر دئیے تو سیما اسے زویا دے کر خود کچن کی طرف بڑھ گئی۔
"کیا مجھے برسات اس لیے اچھی لگتی ہے کہ یہ بہت دنوں بعد ہوتی ہے یا اس لیے کہ برسات ہوتے ہی جیسے تمام پتوں سے گرد صاف ہوجاتی ہے، سب کچھ نکھر جاتا ہے، بالکل ایسے ہی بارش کی موٹی موٹی بوندیں آنکھوں کے پانی کو تحریک دیتی ہیں کہ وہ بہہ جائیں”۔ ایک دم سے ماضی کی دھندلی کتاب صاف ہو کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگی تھی۔ اس نے کتابِ ماضی کے صفحات پلٹنا شروع کیے تو ایکدم رک گیا۔
کیسی ہولناک رات تھی نا جب وہ برستی بارش میں صفیہ کو لیے اسپتال کی جانب دوڑا تھا۔سامنے کوریڈور میں موجود اس کی ماں دیوار کے ساتھ لگی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر پریشان حال بیٹھی تھی ، جبکہ اس کی ساس ہاتھ میں تسبیح پکڑے اندر لیبر روم میں موجود اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعا گو تھی ۔۔۔ اس کا سالا نم آنکھوں سے کبھی اپنی ماں کو دیکھتا اور کبھی اپنی ماں جائی کو سوچتا جو اندر زندگی اور موت سے جنگ لڑ رہی تھی۔
نور محمد نے اس کے کندھے پر اپنا مضبوط مردانہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینا چاہی تو اس نے بےساختہ نور محمد جو گلے سے لگا لیا۔
لیبر روم سے نکلتی نرس نے کمبل میں لپٹا وجود اس کی ماں کی بڑھایا اور کچھ بڑبڑائی ۔ اس نے ماں کی قہر بھری نظروں کو دیکھا جو باری باری اس کی اور اس کی ساس جمیلہ کی ماں کی طرف اٹھی تھیں۔ وہ اور جمیلہ کا بھائی دونوں ایک ساتھ ہی نرس کی طرف بڑھے تھےجو گلابی کمبل میں لپٹا وجود ہاتھ میں لیے کھڑی تھی لیکن اس کی ماں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھانےسے انکار کر دیا تھا۔ اس نےاپنے مضبوط مردانہ ہاتھ نرس کی طرف بڑھائے جس نے کمبل میں لپٹا وجود اس کی طرف بڑھا دیا ۔ اس نے کمبل میں لپٹے نرم وجود کو محبت اور عقیدت سے دیکھا وہ اس صفیی کا پر تو لگی تھی۔صفیہ کا بھائی نرس سے صفیہ کا پوچھنے لگا تو وہ سب *ٹھیک ہے* کا اشارہ دیتی واپس لیبر روم کی طرف بڑھ گئی ۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کا اس کے لیے پیغام آیا تو وہ بچی اپنی ساس کے ہاتھوں میں دیتا خود اپنی ماں کو لیے ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ڈاکٹر کی کہی بات سن کر اسے حقیقی معنوں میں اس دن پتاچلا کہ اذیت کسے کہتے ہیں؟ اور درد سےبےحال لوگ کیسے ہوتے ہیں؟ ۔اس نے ماں کی طرف دیکھا جس نے نخوت سے اپنا سر جھٹکا تھا، لیکن جو کچھ وہ کہہ کر ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلی تھیں ۔
اس کے کانوں میں گویا پگھلا ہوا سیسہ ڈالا گیا تھا۔
"ننھے ننھے آنسووْں کے قطرے کتنے بڑے بڑے دکھ بیان کر دیتے ہیں اور جب تھم جاتے ہیں تو دکھوں کی زمین سے نئے دکھوں کی کونپلیں پھوٹ آتی ہیں” اس نے ڈاکٹر کے کمرے کے باہر کھڑے ہو کر بہتے آنسووْں کو صاف کیا تھا اور خود کو مرد کا بچہ ثابت کرتا اپنی ساس کی طرف بڑھ گیا جو بچی کو گود میں ڈالے اس کا انتظار کر رہی تھی۔
"کیا بولا ڈاکٹر نے؟” اپنی ساس کی آواز سن کراس نے کچھ بولنا چاہا لیکن آنسووْں کا پھندہ اس کے حلق میں اٹک گیا ۔۔۔
صفیہ کو ڈاکٹر نے گھر لےجانے کی اجازت دی تو وہ جو فیکٹری کے مالک سے گاڑی مانگ کر لایا تھا اس نے اماں اور صفیہ کو اس میں بٹھایا جبکہ اس کی ساس اور سالا دونوں موٹر سائیکل پر سوار ہو گئے ۔۔ باہر موسلا دھار بارش برس رہی تھی لیکن اس کے اندر ایک طوفان بپا تھا۔ اماں کی چبھتی آنکھیں اور کہی باتیں اسے اپنے ہی وجود سے متنفر کر رہی تھیں۔ اس نے آنکھوں کے رستے آئے پانی کو اندر دھکیلا اور نم آنکھوں سے تارکول کی بنی سڑک پر نگاہ ڈالی اور گاڑی گھر کے رستے پر ڈال دی۔
اچانک ایک ٹرالر سامنے آتا دکھائء دیا اس سے قبل کہ وہ سارے معاملے کو سمجھتا ۔سامنے سے آتے ٹرالر سے گاڑی ٹکرا گئی۔۔۔
اس نے سن رکھا تھا کہ دنیا مکافاتِ عمل کا دوسرا نام ہے ۔
لیکن یوں اچانک اتنی جلدی ۔۔۔۔
وہ حالات کے بدلاوْ پہ ششدر تھا ۔ آزمائش پہلے بھی اس کے لیے تھی اور اب بھی اسی کے لیے تھی۔
"کیا دکھوں کی فصل بارانی ہوتی ہے جس کے ہونے کا مکمل درارومدار آنکھوں کے برسنے پر ہوتا ہے !”۔
اس کی آنکھوں میں آج بھی نمی تھی۔ ہوا کے سرد تھپیڑے اس کی تکلیف کو بڑھاوا دے رہے تھے ۔اس نے ایک اچٹتی نظر برستے آسمان پر ڈالی اور پاس کھڑی سیما سے فیڈر لیکر زویا کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔
جب لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی بچی پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں سے معذور ہے تو اس نے بڑے حوصلے سے ڈاکٹر کی کہی بات کو سنا تھا لیکن اماں کا کہا جملہ ایک لمحے میں اس کے حوصلے کو پست کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تکلیف کو بھی بڑھا گیا تھا ۔ جب اماں نے کہا تھا کہ "لڑکی اور وہ بھی نامکمل وجود کے ساتھ۔۔۔میری مانو تو دونوں ماں بیٹی کو جمیلہ((صفیہ کی ماں)) کے ساتھ روانہ کر دو”
اور وہ۔۔۔ وہ تو آج یہ بھی نہ کہہ سکتا تھا کہ "اماں آپ کے نامکمل وجود کو کہاں روانہ کروں”۔
کیونکہ کار کے حادثے میں جہاں اس نے صفیہ کو کھویا تھا وہیں اماں کی دونوں ٹانگیں بھی کھوئی تھیں۔




