ادبی خبریںاُردو ادبرپورٹ

بزم امروز کا اجلاس / رپورٹ کنول بہزاد

 

راشد قمر صاحب (ایڈمن بزم امروز) کا ایک روز تفصیلی پیغام موصول ہوا کہ 21 ستمبر بروز اتوار بزم کا ایک منی اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے ۔۔۔جس میں شرکت کی دعوت ہے۔۔۔

"یہ منی اجلاس کیا ہوتا ہے بھلا ؟”

ہم نے یونہی خود کلامی کی ۔۔۔

"بھئی ۔۔۔اس سے مراد ہے چھوٹا موٹا اجلاس ۔۔۔”

ہمارے میاں جو قریب ہی تشریف فرما تھے ۔۔۔فورا بولے۔۔۔

پتہ نہیں کیسے انہوں نے یہ خود کلامی سن لی۔۔۔

"پھر تو منی اجلاس کا میسج بھی ننھا منا سا نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔”

ہم نے جرح کی مگر اب وہ خبریں سننے میں محو ہو چکے تھے ۔۔۔

چلیں دیکھتے ہیں ۔۔۔ہم نے سوچا ۔۔۔
جب پتہ چلا کہ دور بھی نہیں جانا یعنی اقبال ٹاؤن سے اقبال ٹاؤن تک کا سفر ہے تو ہم نے جانے کا پختہ ارادہ باندھ لیا ۔۔۔

مطلوبہ مقام پر پہنچے تو شش و پنج میں پڑ گئے۔۔۔سیکنڈ فلور پر جو جانا تھا ۔۔۔

” کیسے جائیں گے اب اوپر۔۔۔”
ہم نے ساتھ آئے بیٹے سے سوال کیا ۔

” ظاہر ہے امی دو ہی آپشن ہیں ۔۔۔لفٹ یا سیڑھیاں ۔۔۔”

بیٹے نے جواب دیا ۔۔۔

” لفٹ سے نہیں جا سکتی مجھے کلاسٹرو فوبیا ہے ۔۔۔اور سیڑھیوں پر گوڈے گٹے جواب دے جاتے ہیں ۔۔۔”

” امی جی ! بندے کو زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔اب جنہیں کلاسٹرو فوبیا کا پتہ ہی نہیں نا۔۔۔تو انہیں ہوتا بھی نہیں ہے۔۔۔چلیں میرے ساتھ۔۔۔ہمت کریں ۔۔۔”

یہ کہہ کر وہ میرا ہاتھ تھامے لفٹ میں داخل ہو گیا ۔۔۔

اوپر پہنچ کر
لفٹ کا دروازہ کھلا تو سکھ کا سانس لیا ۔۔۔

ڈائٹنگ ہال میں پہنچے تو خوب رونق لگی ہوئی تھی ۔۔۔بیک گراؤنڈ میوزک بج رہا تھا ۔۔۔ بزم امروز کے ممبران بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔ہمارا ایڈمن اور سب ممبران نےخوش دلی سے استقبال کیا ۔۔۔فضل فانی صاحب نے بطور میزبان بڑا احترام دیا۔۔۔۔کیونکہ میری سب سے دوسری ملاقات تھی سو سب چہرے شناسا تھے۔۔۔

ہم ماں بیٹا بھی اپنی کرسیوں پر براجمان ہو گئے ۔۔۔
کچھ اور ممبران بھی آئے تو باقاعدہ اجلاس شروع ہوا ۔۔۔تلاوت کلام پاک کے بعد نعتیہ کلام بھی پیش کیا گیا ۔۔۔
پھر راشد قمر صاحب نے سب کو خوش آمدید کہا اور سب کا تعارف حاصل کیا ۔۔۔

اس کارروائی کے بعد میں نے نجمہ منصور کی نظم پڑھ کر سنائی جو کہ سیلاب زدگان کے لیے حدیقہ کیانی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی گئی تھی ۔۔۔سب نے توجہ سے سنی اور اسے سراہا ۔۔۔
اب شکیل عادل صاحب نے مخصوص انداز میں اپنا کلام پیش کیا ۔۔۔جس کا اختتام ” افسوس ہوتا ہے” پر ہوتا تھا ۔۔۔مگر سب افسوس کرنے کی بجائے مسکراتے رہے ۔۔۔درمیان میں جب وہ بھول گئے تو سب نے مزے مزے کی گرہیں لگائیں اور یوں اس "افسوسناک” کلام کے باوجود سب ہنسنے لگے ۔۔۔اور محفل زعفران زار بن گئی ۔۔۔

اس دوران سب میں ریوڑیاں بھی تقسیم کی گئیں۔۔۔جو محترم وحید تبسم لائے تھے۔۔۔ہمیں خواہ مخواہ اپنا سرائیکی کا ایک محاورہ یاد آ گیا ۔۔۔
” اندھے ونڈن ریوڑیاں تے ول ول ڈیون آپڑئیں کوں ”
یہاں تو خیر سب صاحبان بصارت و بصیرت تھے ۔۔۔مگر دیں صرف اپنوں کو یعنی بزم امروز کے ممبران کو ہی۔۔۔بھئی ہر جگہ یہی روایت ہے۔۔۔
” اول خیش بعد درویش ۔۔۔”
خیر ۔۔۔یونہی بات سے بات نکل آئی۔۔۔
اب ہمیں بھی ریوڑیاں بانٹنے کا خیال آیا ۔۔۔میرا مطلب ہے کتابیں بانٹنے کا خیال آیا۔۔۔یہ شاہین کاظمی صاحبہ جو میری دوست ہیں ان کی شاعری پر مبنی کتابیں تھیں ۔۔۔سب کتابوں کا تحفہ پا کر مسرور ہوئے اور شکریہ ادا کیا ۔۔۔پھر اپنی بیٹی کی انگریزی نظموں کی کتاب بھی چند ممبران کو پیش کی کیونکہ اس کی زیادہ کاپیاں میرے پاس موجود نہیں تھیں ۔۔۔امید ہے عمدہ شاعری پر مبنی یہ دونوں کتابیں سب ضرور پڑھیں گے اور رائے سے بھی نوازیں گے ۔۔۔
اب کھانا کھل گیا تھا ۔۔۔اور مٹن کڑاہی اور گرما گرم روٹیوں نے بھوک چمکا دی۔۔۔سب نے کھانا خوب انجوائے کیا ۔۔۔

اس کے بعد اے ٹی الفا کی جانب سے انعامات دیے گئے ۔۔۔موبائل چارجر ، وال کلاک اور شکار پوری اچار ۔۔۔یہ انعامات پاکر سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔۔۔
اس دوران ثمرینہ جمال جی بھی ہنستی مسکراتی پہنچ گئیں ۔۔۔مٹھائی کا بڑا سا ٹوکرا بھی ہمراہ تھا۔۔۔جو وہ اپنے بیٹے کی شادی کی خوشی میں لائیں تھیں ۔۔۔سب نے انہیں مبارکباد پیش کی ۔۔۔ایک شادی کی خوشی میں ، دوسرا گروپ کی ڈپٹی ایڈمن منتخب ہونے پر ۔۔۔

اگرچہ پہلے بھی تصاویر اتاری جا چکی تھیں مگر ثمرینہ جی کے ساتھ پھر گروپ فوٹوز بنائے گئے ۔۔۔ہم دونوں خواتین نے کچھ دیر گپ شپ کی ،ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا اور پھر میں نے سب کا شکریہ ادا کرکے رخصت چاہی ۔۔۔بلاشبہ یہ ایک یادگار اجلاس تھا ۔۔۔اگرچہ بہت سے ممبران کی کمی محسوس ہوئی کہ وہ سب ہوتے تو رنگ محفل کچھ اور نکھر آتا۔۔۔خاص طور پر مسرت کلانچوی صاحبہ اور روبینہ ناز روبی جی۔۔۔کہ ہم چار ہی تو خواتین ہیں بزم میں ۔۔۔وہ بھی دو ہی شامل ہو پائیں ۔۔۔خیر ان شاءاللہ امید کرتی ہوں کہ سالانہ اجلاس میں سب ہی شریک ہوں گے ۔۔۔
فضل فانی صاحب کا شکریہ کہ ان کی دیار غیر سےآمد۔۔۔ یہ محفل برپا کرنے کا باعث بنی ۔۔۔یقینا وہ اپنے دیس اور یہاں کے باسیوں سے حد درجہ محبت رکھتے ہیں۔۔۔اور راشد قمر صاحب کا بھی شکریہ کہ انہوں نے سب کو بطور ایڈمن بڑی محبت اور خلوص سے جوڑ کر رکھا ہوا ہے ۔۔۔

دعاگو ہوں کہ یہ خوبصورت محفلیں یونہی برپا ہوتی رہیں۔۔۔اور سب ممبران خوشیوں کے ساتھ ملتے رہیں۔۔۔آمین۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x