نوری رائگانی / اویس ضمؔیر

نوری رائگانی
مَیں اپنے خلائی سفینے میں
نوری سفر سے چلا آ رہا ہوں
مِری گول کھڑکی میں اب
زرد پڑتا ہُوا کوکبِ نیلگوں قُطر میں
رفتہ رفتہ بڑا ہو رہا ہے
جسے چھوڑ کر مَیں گیا تھا کبھی
یہ زمیں وہ نہیں
میرا سارا زمَن
میری دنیا لپیٹے
کہیں کھو گیا ہے
جو اَب لوٹتا ہوں
تو پَس ماندگانِ خرابت سے مَیں۔۔۔
کیا نجانے کہوں گا؟
کہ جنّت نُما جو جہانِ دگر
ڈھونڈنے مَیں گیا۔۔۔
وہ کہیں بھی نہیں تھا
مِرے پاس تو بس
لق و دق کواکب سے لائے ہوئے
سنگ اور ریت کے،
زمہریری جہانوں کی برف اور سیّال کے
چند بے جاں نمونے ہی ہیں
دشت پیمائی کے،
وحشت و یاس کے،
اور بِنا رات کے رَت جگوں کے
یہ بیکار قصّے ہی ہیں
وقت کو کھینچ کر
عمر کی لمحہ لمحہ پس انداز پونجی
بھی کس کام کی
مَیں نے جن کے لیے یہ بچائی
وہی ناں رہے
اب وصالِ تمنّا بھی بے فیض ہے
اور خیالِ تمنّا بھی بے سود ہے
اور اِس کے علاوہ اگر کچھ بھی ہے۔۔۔
تو فقط رائگانی میں لتھڑی ہوئی
دور افتادگی میں کمائی
تھکن ہی تھکن ہے !




