اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / قسمت ہے اگر اُس کا سہارا ہے ہمارا / ماہ نور
غزل
قسمت ہے اگر اُس کا سہارا ہے ہمارا
وہ شخص تو دن میں بھی ستارا ہے ہمارا
دریا ہے نہ دریا کا کنارہ ہے ہمارا
ساحل کا خسارہ بھی خسارہ ہے ہمارا
تم پوچھتے رہتے ہو کہ ہم حال بتائیں
لو ٹھیک ہیں اچھے ہیں گزارا ہے ہمارا
چھو کر تو چلے جائیں ترے گیسو و رخسار
لیکن یہ عمل کس کو گوارہ ہے ہمارا
وہ صرف جدا ہوتا تو شکوہ نہیں کرتے
پر اُس نے یہ دل کھینچ کے مارا ہے ہمارا
سب پوچھتے رہتے ہیں یہ دل کس کا گرا ہے
ہم چیختے رہتے ہیں ہمارا ہے ہمارا




