اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / آگ کا تو ادب وہ کرے ، جو وفا دارِ زر تُشت ہے / شاہد ماکلی

غزل

 

آگ کا تو ادب وہ کرے ، جو وفا دارِ زر تُشت ہے

میں پجاری نہیں ، میری آتش کدے کی طرف پُشت ہے

 

دیکھنا چاہتا ہے ستارہ مرا ؟ آ دکھاؤں تجھے

وہ رہا اس طرف ! جس طرف کو شہادت کی انگُشت ہے

 

آگ دینی ہے کچھ خواہشوں کو ، زیادہ نہیں چاہئیں

ایک دو ہی شرر کافی ہوں گے ، خس و خار یک مُشت ہے

 

لو معافی کا دن آ گیا ، آج سب لوگ آزاد ہیں

سارے مفتوح دلشاد ہیں ، فتح بے خون و بے کُشت ہے

 

کل کا کس کو پتہ ، آج تک تو مجسم نہیں ہو سکی

ایک خوشبو کی تجسیم کرتے ہوئے ساتویں پُشت ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x