اُردو ادبتبصرہ کتب

کتاب کھڑکی کے اس پار / تبصرہ : کنول بہزاد

تصنیف: کھڑکی کے اس پار

مصنفہ: نعیم فاطمہ علوی

تبصرہ: کنول بہزاد

نعیم فاطمہ علوی بڑی خوشگوار شخصیت کی مالک ہیں۔۔۔ان کو دیکھ کر ہمیشہ ایک اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی۔۔۔ان سے کب سوشل میڈیا کے حوالے سے شناسائی ہوئی کچھ یاد نہیں ۔۔۔مگر یہ شناسائی جلد دوستی میں بدل گئی ۔۔۔ان کی تحریروں نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ۔۔۔اور انہوں نے بھی مجھے ہمیشہ کھلے دل سے سراہا ۔۔۔اسلام آباد میں ہونے والی ادبی سرگرمیوں کی روح رواں ہیں ۔۔۔ان ادبی محفلوں کی تصاویر اور احوال نے گویا ہمیں بھی ہمیشہ اپنے ساتھ شامل رکھا ۔۔۔ہم لاہور میں بیٹھے ان کی سرگرمیوں سے انسپائر ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔اسلام آباد جانا ہوا تو باوجود خواہش کے ملاقات نہ ہو سکی کہ وقت کم تھا ۔۔۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ادبی رابطوں کا سلسلہ شروع کیا تو نعیم جی سے پہلی بار بالمشافہ ملاقات ہوئی ۔۔۔ میں جیسا ان کے بارے میں سوچتی تھی۔۔۔انہیں اس سے کہیں بڑھ کر پایا۔۔۔ انہوں نے اپنی کتاب ” کھڑکی کے اس پار ” بڑی محبت سے عنایت کی۔۔۔یہ ان کے کرونا کے شب و روز کی یادیں ہیں ۔۔۔جب زندگی چلتے چلتے اچانک جمود کا شکار ہو گئی تھی ۔۔۔خوف اور وسوسے جیون کی رعنائیوں کو چھین کر لے گئے تھے ۔۔۔بھیانک موت کا خوف ہر دل میں جاگزیں تھا ۔۔۔تب نعیم جی نے اپنے ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا ۔۔۔مگر ایک کھڑکی درون ذات بھی کھل گئی ۔۔۔کرونا نے ناصرف انہیں حال کو نئے زاویے سے دیکھنا سکھایا بلکہ ماضی بھی ان کے سامنے آ مجسم ہوا۔۔۔اس کتاب میں کبھی وہ کرونا کے شب و روز کی کتھا بیان کرتی ہیں اور کبھی ماضی کے دریچوں سے یادوں کی خوشبو سمیٹتی ہیں ۔۔۔

نعیم جی کے دل میں سارے جہاں کا درد ہے۔۔۔یوں یہ آپ بیتی نہیں رہتی بلکہ جگ بیتی بن جاتی ہے ۔۔۔
یہ کتاب نعیم جی کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے ۔۔۔چاہے وہ والدین کے ساتھ برتاؤ ہو یا بھائیوں کے ساتھ لگاؤ ، اسی طرح دوستوں کے ساتھ محبت کے واقعات ہوں یا ہمسائیوں کے ساتھ حسن سلوک ۔۔۔ پھر محروم طبقات کے لیے بھی دل میں بےحد نرم گوشہ رکھتی ہیں۔۔۔یہ سب ان کی دلنواز شخصیت کے بڑے روشن پہلو ہیں ۔۔۔بنیادی طور پر آپ انسان دوست ہیں ۔۔۔خوف خدا بھی ان کے دل میں ہر لمحہ موجزن رہتا ہے ۔۔۔نمود نمائش اور تصنع سے گھبراتی ہیں ۔۔۔

ان کا بچپن بڑا بھرپور گزرا۔۔۔زمانہ طالب علمی میں خوب ایڈونچر کیے۔۔۔سیاست بھی کی اور ادبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ۔۔۔پھر ایک خاموش مگر گہری محبت کا قصہ بھی اس کتاب میں بیان ہوا ہے ۔۔۔بڑی سادگی مگر جی داری سے۔۔۔جو ان کی والدہ کی سخت گیر طبعیت کے باعث پنپ نہ سکی اور نعیم جی نے والدہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔۔۔خواتین آپ بیتی لکھتے ہوئے ایسے ذکر گول کر جاتی ہیں ۔۔۔مگر وہ کہتی ہیں کہ میری دوست سلمی اعوان نے کہا کہ لکھنا ہے تو سب سچ لکھو۔۔۔
نعیم جی نے کرونا کے دنوں میں اپنی یادوں کی پٹاری کھول کر بڑا محظوظ کیا ۔۔۔ان کے بچپن کی کھٹی میٹھی یادوں نے ہمارے دل میں بھی کئی چراغ جلائے۔۔۔
سائیکلنگ ، درختوں سے پھل توڑنا ، نہر میں نہانا۔۔۔سب ہمیں ہمارے بچپن کی بھی یاد دلاتا رہا ۔۔۔
نعیم جی کی یہ آپ بیتی بڑی دلپذیر ہے ۔۔۔یہ قاری کو ہنساتی بھی ہے اور رلاتی بھی ہے ۔۔۔ سچ ہے زندگی کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں ۔۔۔مگر بقول شاعر ۔۔۔

پست حوصلے والے تیرا ساتھ کیا دیں گے

زندگی ادھر آ جا ہم تجھے گزاریں گے

یہی نعیم جی کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ انہوں نے زندگی کے چیلنجر کا بڑے حوصلے سے مقابلہ کیا ۔۔۔اور زندگی محض گزاری نہیں بلکہ جی ہے۔۔۔

سو دوستو ! یہ کتاب پڑھنے لائق ہے ۔۔۔میری کتابوں کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہے ۔۔۔نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اس کی طباعت بھی عمدہ کی ہے ۔۔۔سو اس کا مطالعہ ہم سب پر واجب ہے ۔۔۔ضرور پڑھیے ۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x