
پھٹا پرانا بوسیدہ بستر،اردگرد مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں. کمرے میں گندگی کا ڈھیر جو برسوں سے صاف نہیں ہوا تھا. کمرے کی چھت ٹوٹی ہوئی تھی دورانِ بارش اکثر پانی ٹپکتا تھا. بیماری کی حالت میں زندگی کے دن پورے ہوجائیں اور آنکھوں سے آنسو جو تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے.دروازہ کھلنے کی آواز سن کر اچانک چونک اٹھتی ہے. زارو قطار روتے ہوئے…… "میری فاطمہ تم آگئی ہو.تم کہاں چلی گئی تھی؟”
کمرے کے دروازے کو دیمک لگ چکی تھی. ہاتھوں کی مدد سے زور لگاکر دروازہ بند کرنے کے بعد جواب آتا ہے. اماں میں پروین ہوں.
پروین کی لازوال محبت کی مثال اس مادیت پرستانہ دنیا میں ملنا ناممکن تھی. صبح سے شام تک چارپائی کے سرہانے بیٹھی صحت و سلامتی کی دعائیں مانگتی. اپنی چادر سے آنسو صاف کرتی، پاؤں دباتی ،سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی اور دلاسا دیتی تھی. ہمسایوں کے گھر سے کھانا مانگ کر لاتی. تاکہ اماں تھوڑا بہت کھانا کھا کر پیٹ بھر لے. اس کوشش میں وہ خود کو بھول چکی تھی کہ میرا اپنا بھی ایک خاندان تھا. جس نے بے اولادی کے سبب گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا تھا. تب سے اب تک پروین کا واحد ٹھکانہ اور اکلوتا رشتہ اماں کے ساتھ جڑ چکا تھا. خونی رشتے سے بھی مضبوط، وہ اماں کے لب ہلنے سے پہلے ہی مکمل بات سمجھ جاتی تھی.
اماں روز اپنے بچوں کے متعلق پوچھتی. فون تو آیا ہوگا اچھا یہ بتاؤمیری فاطمہ ،جاوید اور احمد ٹھیک تھے. مجھے پتا ہے وہ میرے بغیر اداس ہوں گئے. وہ میرا چہرہ دیکھنے اور مجھے گلے لگانے کے لیے تڑپ رہے ہوں گئے.
پروین نے بہت دیر تک سوچا اور فیصلہ کیا. نتیجہ جو بھی ہوگا برداشت کرلوں گئی. وہ انجام کی پرواہ کئے بغیر بات کرنا شروع ہوئی. وہ خوف زدہ ہو رہی تھی. مگر حوصلہ پکڑتے ہوئے دھمیے لہجے میں بولی….. اماں میں نے آج تک تم سے کچھ نہیں مانگا کوئی مطالبہ نہیں کیا. میں یہ چاہتی ہوں کہ تم اپنے بچوں کی یاد ذہن اور دل سے نکال دو. وہ تمہیں بھول چکے ہیں. اگر اُن کو بھی تم سے محبت ہوتی یا احساس ہوتا وہ تمہارے پاس آچکے ہوتے. زمانے بیت گئے مجھے بھی تمہارے ساتھ رہتے ہوئے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا. کبھی کسی تہوار پر بھی فون نہیں آیا یا خط تک موصول نہیں ہوا. آخر کب تک تم اُن کی یاد کو دل سے لگا کر رکھو گئی…….؟ وہ پسینے میں شرابور تھی. اپنی بات مکمل کرنے والی تھی کہ اماں ٹوکتے ہوئے.
"خبردار……! جو تم نے آئندہ کبھی یہ کہا کہ میں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو فراموش کردوں.” میں نے کل رات خواب میں اُن سے ملاقات کی تھی. وہ مجھ سے جلد ملنے آئیں گئے.
میری لختِ جگر فاطمہ وہ تو بے تاب ہوگئی. میں بخوبی جانتی ہوں گھریلو مسائل کی وجہ سے میرے پاس آنا مشکل کا سبب بن رہا ہوگا.
پروین پریشانی کے عالم میں زمین سے اٹھی اور باہر صحن کی طرف چلی گئی. کچھ دیر وہ سوچوں کی وادی میں کھوئی رہی دوپہر شام میں کس وقت تبدیل ہوئی…..؟
آخر کار خیال آیا اماں نے کچھ نہیں کھایا.وہ جلد بازی میں آواز دئیے بغیر کمرے میں داخل ہوگئی. چارپائی کی طرف دیکھتی ہے کہ اماں دیواروں سے باتیں کرنے میں مصروف تھی. وہ ڈرتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھی اور جسم کو جھنجھوڑتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا…. اماں یہ تم ہاتھ کی مدد سے کس قسم کے اشارے کررہی ہو…..اور یہ تم کس کے ساتھ قہقہے لگارہی ہو…..؟
سنی ان سنی کرتے ہوئے دوبارہ وہ خود میں مگن ہوگئی. کسی بات کا ذرا برابر اثر نہیں ہورہا تھا.پروین یہ منظر دیکھ کر ساکت کھڑی تھی.
کچھ وقت گزرنے کے بعد دھیان پروین کی طرف گیا. خاموش دیوار کے ساتھ کھڑا دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی……. تو کھڑی کیوں ہے؟ میرے پاس آکر بیٹھ، میں تجھے فاطمہ ،جاوید اور احمد کے بچپن کی باتیں بتاتی ہوں.
اُس نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے اور اماں کے بستر کے ساتھ لگ گئی. فاطمہ جب چھوٹی تھی بہت شرارتی تھی. اسکول کی دیوار پھلانگ کر گھر آجاتی تھی. پڑھنا تو اُسے بالکل پسند نہیں تھا. جاوید وہ میرا بچہ سب سے سنجیدہ اور خاموش طبیعت تھا اور احمد وہ میرے دل کی ٹھنڈک ہے ہر وقت مختلف قسم کے کھانوں کی فرمائش اور سیر و تفریح کا شوق رکھتا تھا. اماں کی باتوں سے یوں محسوس ہوتا میں کوئی خواب دیکھ رہی تھی. حقیقت تو وہ تھی…….. جو اماں سنارہی تھی. لمحے بھر کے لیے مجھے ایسے لگا کہ اماں سچ میں اپنے بچوں سے گپ شپ لگا کر چند گھنٹے اُن کی صحبت میں گزار کر آئی ہے. لیکن ایسا ممکن نہیں تھا.
اُف……. اماں کی باتیں سن کر جیسے کان پھٹ جائیں گئے.وہ تھکے ہارے بدن کے ساتھ پاؤں فرش پر رکھتی ہے. کیفیت یہ تھی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں. نظرجمائے جیسے دو اجنبی ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں. بھوک پیاس گرمی کی شدت کا احساس بالکل ختم ہوچکا تھا.
لوگوں کا ہجوم اور شور، گھر کے صحن میں موجود میت کے ہمراہ، پروین کا بازو کھینچ کر دیکھو میں کہتی تھی میرا جاوید آئے گا. تمہیں میری بات پر یقین نہیں تھا. اب خود اپنی آنکھوں سےدیکھ لو.
گھر کا دروازہ جو ہمیشہ کھلا رہتا تھا. حتی کہ جانور تک گھر میں داخل ہوجاتے تھے. ایک میت کے بعد دوسری میت…….اماں تکلیف اور پریشانی کا شکار نہیں بلکہ خوشی سے نہال جھوم جھوم کر بچوں کا ماتھا چوم رہی تھی.
اے میرے خدا….! اماں کے خواب کی حقیقت یہ تھی. خواب تو باعثِ سکون اور شادمانی کا ذریعہ ہوتے ہیں.وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی. یہ سب کیا ہورہا تھا؟ دراصل وہ خود پاگل ہوچکی تھی. خواب اور حقیقت کے درمیان فرق ،اماں کے خواب کی بھیانک حقیقت یہ سب زندہ درگور کردینے کے لیے بہت تھا.
Author
URL Copied




