
وہ دونوں قبیلے کے مشرقی کنارے پر ندی کے پاس بیٹھے تھے جب کہ قبیلے کے شمن کی نظر ایسونا پر پڑی اور شِمَن کو محسوس ہوا کہ اس نے آج تک بس وقت ہی ضائع کیا ہے۔
شِمَن کا عہدہ اگرچہ معبد گاہ، قبیلے کے سردار اور باقی قبائل کے درمیان رابطہ رکھنے کے لئے ہوتا تھا تاہم اکثر قبائل کے شمن اسقدر بڑے عہدے کے باوجود قابلِ اعتماد نہ سمجھے جاتے تھے۔۔۔
خوبصورت ایسونا اور اس کے بہادر جنگجو اور محبوب کفونا کو دور سے پتوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی ایک انجانے خوف نے ان کے خوابوں کے خوش رنگ جزیروں میں اچانک موت کا ہراس بھر دیا وہ خامشی اور احتیاط سے اٹھے اور قبیلے کی جانب چل پڑے۔ انہوں نے اپنے خوف اور وہم کا کسی سے زکر نہ کیا اور رات بھر اپنے مستقبل کے تانے بانے بنتے رہے۔
نکیانگو قبیلے کے شمن کا پیغام ہے کہ تم نے جن باغیوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے انہیں نکال دو ورنہ تم حفاظت کرنے والے دیوتاوں کو ناراض کر دو گے اور زرخیزی کی دیوی کو بھی ناراض کر بیٹھو گے۔۔۔ شمن نے بوڑھے سردار اور اس کے بیٹے کو بتایا۔
سب کچھ تمہارے پاس ہے تمہاری مرضی ہی چلے گی۔ ہم نے سب کچھ تمہارے ذمہ لگایا ہے۔ سردار کی جواں سال بیوی نے جواب دیا۔
شمن نے نہایت خوش مزاجی سے سردار کی بیوی کا اس اعتماد پر شکریہ ادا کیا اور پاس ہی بیٹھا ہوا سردار کا بیٹا شمن کی بے باک نظروں کی طرف دیکھ کر ہلکا سا لیکن معنی خیز انداز میں مسکرا دیا۔
سردار معبد گاہ کو جا چکا تھا وہ پجاریوں سے ان باغیوں کے متعلق دیوتاوں کا حکم جاننا چاہتا تھا۔
سردار کا بیٹا، سردار کی جواں سال بیوی اور شمن تینوں موجود تھے۔
اپنا وعدہ یاد رکھنا شمن۔۔۔!!! سردار کے بیٹے نے شمن کو گھورتے ہوے کہا۔
اور مجھے تم پہ یقین ہے کہ تم اپنے وعدے سے کبھی بھی نہیں پھرو گے۔ سردار کی بیوی نے شمن سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا۔ وہ سردار سے کافی چھوٹی اور اس کی ساتویں بیوی تھی جسے شمن کہیں سے سردار کیلئے لایا تھا۔
میں نہ سردار کے بیٹے سے کیا گیا وعدہ بھولوں گا اور نہ تم سے کئے گئے وعدے سے پھروں گا کیونکہ ہماری بقا انہی وعدوں پہ منحصر ہے۔۔۔ شمن نے سردار کی بیوی سے مخاطب ہو کر کہا۔ آج رات ہم اس موضوع پر بات کریں گے۔ شمن آج رات سردار کے گھر ہی گزارنے والا تھا۔ جبکہ بوڑھا سردار معبد گاہ میں ہی ٹھہرنے والا تھا۔ اسے شمن کی کہی گئی کچھ باتوں پر شک تھا اور وہ ان کی تصدیق معبد گاہ سے کرنا چاہتا تھا۔
اور تمہاری زندگی بھی تمہارے وعدے کی پابندی پر ہی منحصر ہے، کبھی مت بھولنا شمن۔۔۔ سردار کے بیٹے نے اپنے الفاظ میں گہرے معانی بھر کر شمن کے کانوں میں اتار دئیے۔ سردار کے بیٹے نے اپنا سامان اٹھایا اور چلا گیا۔ اسے آج رات قبیلے سے باہر گزارنا تھی۔
”ہماری ضروریات ہماری دیویاں اور ہمارے خوف ہمارے دیوتا ہیں۔” بوڑھی انیکا نے اپنی بیٹی ایسونا کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔ تم ابھی تک کیوں نہیں سمجھ رہی کہ شمن تم سے کیا چاہتا ہے۔۔۔!؟ اس نے کفونا کو دیوتاؤں کے نام پر باغیوں کو قتل کرنے کیلئے بھیج کر مروا ڈالا اور اب تم پر نظریں جماۓ بیٹھا ہے۔
مجھے جو فیصلہ کرنا تھا میں کر چکی، کفونا کو میں نے عظیم دیوتاؤں کے نام پر بھیج دیا تھا وہ ہمارے بزرگوں کی عظیم روحوں کا مہمان ہو چکا جلد ہی اس کی روح مجھے عظیم برگد کے اوپر سے دیکھ کر خوش ہوا کرے گی اور اپنے بیٹے اور اپنے گھر کی محافظ بن کر ہمیں بری روحوں اور جنگل کے وحشیوں سے بچایا کرے گی۔ ہمارے سردار اور ان کا گھر ہمارے بزرگوں کی روح کا قدیم مسکن تھا اور ہمیں ان سے اپنی وفاداری نبھانا ہے۔ ایسونا نے اپنی بوڑھی ماں انیکا کے خیال سے متفق ہونے سے انکار کر دیا۔
لیکن وہ شمن۔۔۔؟ بوڑھی انیکا نے ایسونا کو سمجھانے کی کوشش کے طور پر استفسار کرتے ہوۓ کہا۔
”شمن مقدس روحوں کا امین، قبیلے کا جادوگر اور سب کاموں کا ذمہ دار ہے۔ وہ مجھ سے کچھ نہیں چاہتا تمہیں غلط فہمی ہے۔”
کیا تمہیں نہیں پتہ کہ بوڑھے سردار کی جوان بیوی زوینا کو کون لایا تھا ؟ اس کی سردار سے شادی کس ںے کروائی ؟ سردار کی پہلی بیوی اور سردار کے اکلوتے بیٹے کی ماں نے شمن کے ہاتھوں قتل ہوتے وقت کس انتقام کی دھمکی دی تھی ؟اور وہ سردار کا بیٹا وہ کیا چاہتا ہے ؟ اس کے نکیانگو قبیلے کے سردار کے بیٹے سے کیسا تعلق ہے ؟ اور وہ یوموفیا قبیلے کا ہمارے قبیلے پر حملہ کیوں نہیں رکوا رہا ؟ اور شمن کو یوموفیا کے ارادوں کی خبریں کیسے ملتی ہیں ؟ کیا تم نے کفونا کی لاش پر شمن کا نیزہ نہیں دیکھا تھا ؟ تمہیں ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آیا ؟
ایسونا، معصوم لڑکی یہ جنگ دیوتاؤں کی نہیں ہے یہ ارادوں، خواہشات اور لالچ کی جنگ ہے۔ ہر کسی کو اپنی ضرورت کی دیوی کی پوجا کرنی ہے اور اپنے خوف کے دیوتا کے آگے جھکنا ہے۔ تم یہاں سے چلی جاؤ۔ میں ایک اور قبیلے کے شمن سے بات کر چکی ہوں وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ یہ قبیلہ دیوتاؤں کے قہر و غضب کا نشانہ بننے والا ہے۔ چاہے وہ غضب قحط کا ہو یا جنگ کا ہو یا پھر بواٹا کے مہیب آدمخور وحشیوں کا ہو۔۔۔!
”ایسونا تمہیں شمن کے پیغام پر اس سے ملنے ضرور جانا چاہئیے وہ تمہارا کفونا کی روح سے رابطہ کروانا چاہتا ہے آج رات وہ تمہارا انتظار کرے گا۔ اس کے بغیر تم اپنے شوہر کی روح سے کبھی نہیں مل سکو گی۔” اگویفی، ایک بوڑھی مکار عورت جو کہ سردار کی جوان بیوی کی ماں اور شمن کی رازدار تھی، نے ایسونا کو رازداری سے پیغام دیا۔
ایسونا یہ کیوں ملنے آئی تھی تمہیں ؟ شموفو ( ایسونا کا بھائی جو قبیلے کی سرحدوں کا محافظ تھا) نے ایسونا سے پوچھا.
تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ تمہارا کام تو صرف وحشیوں اور جنگلی ہاتھیوں اور درندوں کا پیچھا کرنا ہے۔ تم گاؤں میں کیا کر رہے ہو ؟ ایسونا نے پوچھا۔ گاؤں کے شموفو (قبیلے کی سرحدوں کا محافظ) نے ایسونا کو سب کچھ بتا دیا۔
اگلے ہی دن سردار اس کے بیٹے اور معبد گاہ کے پجاریوں کی ادھ کھائی ہوئی لاشیں شموفو کو قبیلے سے باہر ملیں۔ اور شام تک ان میں شموفو کی لاش کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ اگلے دن دو اور ادھ کھائی ہوئی لاشیں ملیں جن میں سے ایک اگویفی یعنی سردار کی بیوی کی ماں اور دوسری لاش سردار کی جوان بیوی کی تھیں۔ ایسونا کو اس حادثے نے سب کچھ سمجھا دیا۔ اسے علم ہو گیا کہ یہ جنگ دیوتاؤں کے نہیں بلکہ اقتدار کے لالچ اور حرص و ہوس کے نام پر لڑی گئی تھی۔ شمن ایک خوفناک دشمن اور مکار جادوگر تھا۔ اس کے کہنے پر ایسونا کو پکڑ کر قید کر دیا گیا۔ اسے اونگاپا (وفاداری کی قسم توڑنے والی غدار) کا لقب دیا گیا اور اس کیلئے ککوا یاموتیفی (غدار کیلئے دہشت ناک سزا) کا اعلان کیا گیا لیکن عین جس وقت اس سزا کا اعلان کیا جا رہا تھا گاؤں کے درمیان میں بلی کے زور زور سے چیخنے کی آوازیں آئیں لیکن شمن نے کہا کہ یہ کسی خطرے کی آمد کا اعلان نہیں بلکہ ایک نحوست کے اختتام کا اعلان کر رہی ہے۔ شمن نے مقدس پتھر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے ہوۓ کہا
شمن جھوٹ بول رہا ہے۔ بوانگو نے کہا۔
اب ہم پر کوئی سخت حملہ ہو گا کیونکہ شمن نے مقدس پتھر پر جھوٹی قسم کھائی ہے۔ بوانگو نے وضاحت کی۔ بوانگو معبد خانے کا خاموش لیکن پرانا پجاری تھا جو شمن کی حقیقت سمجھ چکا تھا لیکن شمن نے اسے معبد خانہ سے نکلوا دیا تھا۔
ہم پر کوئی حملہ نہیں ہونے والا تھا یہ سب کچھ باغیوں کی بغاوت تھی۔ ہمارے خداؤں نے انہیں مار ڈالا اب ہم ایسونا اور اس کے بچے کو سزا دیں گے تا کہ قبیلہ ان کی روحوں کے اثرات سے محفوظ رہے۔
ایسونا کو یاد آیا کہ جب اگویفی (یعنی سردار کی مقتولہ جوان بیوی کی ماں) اسے شمن کا پیغام دینے آئی تھی تو شموفو نے کہا تھا، ” شمن نے مجھے جان بوجھ کر گاؤں سے باہر ذمہ داری دے رکھی ہے تا کہ میں کسی کو کچھ نہ بتا سکوں۔ یہاں کوئی درندہ یا وحشی یا جنگلی ہاتھی نہیں ہیں۔ اگر کوئی ہے بھی تو وہ شمن کے ہی پالے ہوۓ ہیں۔ مجھے ان زہروں کا بھی علم ہے جو سردار کی پہلی بیوی کو دئیے گئے تھے۔ وہ شمن کے حکم پر میں نے ہی لا کر دئیے تھے۔
تو کیا پھر شمن ہی اپنی پہلی بیوی کا بھی قاتل ہے ؟ ایسونا نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں اور یہ سردار کی بیوی اسی کی لائی ہوئی عورت ہے جیسے یہ اگویفی تھی۔ یہ دونوں ماں بیٹی شمن کیلئے ہی کام کرتی تھیں۔ اور سردار کا بیٹا ہی نکیانگو کے سردار کے بیٹے سے مل کر حملہ کروانا اور سردار اور شمن اور سردار کی بیوی کو مروانا چاہتا تھا۔ مجھے دوسرے قبیلے کے شموفو نے یہ سب بتایا ہے۔ وہاں کا شمن زیمبیا پر بڑے حملے کی تیاری میں ہے۔ وہ حملہ جلد کریں گے۔
یہ انکشافات ناقابلِ یقین تھے۔ اور کم عمر ایسونا ان کو راز نہ رکھ سکی۔ اس نے اپنی بوڑھی ماں انیکا سے مشورہ کئے بغیر ہی بہت ساری عورتوں کو بتا دیا تھا اور اگلے دن بات شمن تک پہنچ گئی۔
آخر کار وہ رات آن پہنچی جب ایسونا اور اس کے بچے کو آدھی رات کے وقت نہایت خوفناک موت دی جانا تھی۔ سب کو حکم تھا کہ وہ رات سبھی لوگ سردار کے گھر میں گزاریں گے ورنہ اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
وہ نہایت غیر معمولی رات تھی۔۔۔ اگرچہ اماؤس کی رات ہمیشہ قبیلے میں دیشت اور ہراس کی علامت بن کر اترتی تاہم اس رات خاموشی بھی معمول سے زیادہ گہری تھی گویا کچھ نہایت خوفناک ہونے والا ہو۔ تمام لوگ اپنی جھونپڑیوں کو غیر محفوظ سمجھ کر قبیلے کے سردار کی پتھروں سے بنی حویلی میں جمع ہو گئے۔ جیسے جیسے رات کے ساۓ گہرے ہونا شروع ہوۓ لوگوں میں موت کا خوف بھی گہرا ہونا شروع ہو گیا حتیٰ کہ وہ دہشت کے مارے ایک دوسرے میں دبکنے لگے۔ بچے بغیر کسی کے سمجھانے کے ہی پتھروں کی طرح بے حس و حرکت اور خاموش ہو گئے۔ مرد اندر ہی اندر اپنے اپنے خاندانوں کو دیوتاؤں کے حوالے کر کے اپنے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں سوچنے لگے۔۔۔ باہر گیدڑوں اور جنگلی کتوں اور بھیڑیوں کی بھیانک آوازیں تک بند ہو گئیں سبھی کو آج کی رات کی دہشت کا احساس ہو چکا تھا۔
اسے حویلی سے باہر نکال دو۔۔۔
اچانک شمن کی آواز ابھری اور لوگ ایسے ڈر گئے جیسے انہونی شروع ہو گئی ہو۔ کچھ عورتوں نے بے اختیار ڈر کے مارے اپنی آنکھوں اور چہروں پر ہاتھ رکھ لئے، کچھ نے سینے پیٹ ڈالے تاہم دہشت نے ان کی زبانوں کو سختی سے سی دیا، خوف نے سب کی آنکھیں باہر نکال دیں اور رحم کی طلب نے سب کو ایسونا کے خلاف اپنی نفرت بھری سوچ بدلنے پر اندر ہی اندر مجبور کر دیا۔
شمن رحم کرو۔۔۔! ایک عورت نے بھنچی ہوئی آواز میں کہا۔
شمن آج رات دیوتاؤں سے رحم طلب کرو۔۔۔! ایک اور عورت بولی۔
اور پھر کوئی بھی نہ بولا مرد بھی اس حل کو درست سمجھ کر خاموش ہو گئے اور پھر اماؤس کی بے رحم گہری سیاہ رات میں اس کو اس کے بچے سمیت اس محفوظ پناہ گاہ سے نکال دیا گیا۔ اس نے کوئی التجا نہ کی اور اپنے دہشت سے پتھر ہو چکے جسم اور بچے کو سنبھالتی ہوئی پتھروں سے نکلی اور پھر اس کا کچھ پتہ نہ چلا کوئی آواز نہ ابھری۔ رات کا اندھیرا مزید گہرا ہو گیا۔۔۔
تم نے کچھ سنا ؟ ایک مرد نے سرگوشی کی۔
ہاں۔۔۔ دوسرے مرد کے خوف سے سفید پڑتے ہونٹوں سے مدھم سی آواز نکلی۔۔۔
دور کہیں وادیوں میں ایک ساتھ بے شمار دھاڑوں کی آوازیں گونجیں اور ساتھ ہی خواتین کی دبی دبی سسکاریوں اور مردوں کے تیز ہوتے سانسوں نے اس دہشت کے قریب آنے کا سندیس سنا دیا۔ کچھ نے اپنے نیزوں کو اپنی زندگی کی ضمانت سمجھ کر مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ باقی پتھروں کی دیواروں کی مضبوطی سے بھی بے یقین ہونا شروع ہو گئے۔ آہستہ آہستہ دھاڑوں کی آوازیں قریب آنے لگیں۔ حتیٰ کہ وہ قبیلے کے قریب پہنچ گئیں اور یکایک یوں خاموش ہو گئیں گویا کسی نے ان کی روحیں نکال دی ہوں۔۔۔ ہر طرف اندھیرے، خوف، بے یقینی اور دہشت کی دبیز چادر تن گئی۔ ہوائیں تک خوف سے تھم گئیں کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور کہیں ایک دیوار مٹی کی طرح بکھر گئی۔ لوگ اس دہشت کی انتہا پر پہنچ کر موت کے جلد آ جانے کی دعائیں مانگنے لگے۔ ہر طرف خوفناک دھاڑوں اور بھاری بھرکم پنجوں کی دھمک کا راج شروع ہو گیا۔ پتھروں کی دیواریں ان وحشی آدم خوروں کا مقابلہ کر رہی تھیں اور اندر بیٹھے لوگ ان کی مضبوطی کے بارے میں امید و بیم کے شکار بنے بیٹھے رہے۔۔۔ موت کی دستکیں بڑھتی گئیں، بڑھتی گئیں آخر کار دیوار ٹوٹ گئی۔ آدم خوروں نے سب کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ کوئی ایک بھی زندہ نہ بچا۔
اگلے دن ساتھ والے قبیلے کے افراد زیمبیا قبیلے میں پہنچے تو انہوں نے شمن کا آدھا کھایا ہوا سر اور کٹا پھٹا جسم دیکھا۔۔۔
یہاں تو سبھی کھاۓ جا چکے ہیں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ دوسرے قبیلے کے ایک آدمی نے کہا۔۔۔
البتہ ایک عورت اور ایک بچہ اس برگد کی اونچائی پر بیہوش پڑے ہیں یا شاید دہشت سے مر چکے ہیں۔




