اُردو ادباُردو شاعرینظم

فلستائی / احمد علی شاہ مشال

فلستائی

 

وہ کتابیں نہیں کھولتے،

جن کے اوراق میں

صدیوں کی روشنی قید ہے،

جن کے لفظوں میں

حیات کا ازلی سچ جاگتا ہے۔

 

وہ چراغِ معنی سے

اپنی پلکیں چُرا لیتے ہیں،

اور پھر

میری سیاہی میں ڈوبی نظمیں

ان کے لیے محض

بےجان خط و خال رہ جاتی ہیں۔

 

میں جانتا ہوں…

وہ کبھی نہیں پڑھیں گے

کہ یہاں کے دلوں پر

علم کی بارش نہیں،

فلستائیت کی دھول جمی ہے۔

 

 

• فلستائی (Philistine): ایک استعارہ ہے، ایسے شخص کے لیے جو علم، فن، ادب اور جمالیات سے بے بہرہ ہو، اور زندگی میں صرف مادی مفاد یا سطحی لذتوں کو اہمیت دے۔

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button